گورنر سرور کا مستقبل؟ اور سید خورشید شاہ کی معذرت!

گورنر سرور کا مستقبل؟ اور سید خورشید شاہ کی معذرت!
گورنر سرور کا مستقبل؟ اور سید خورشید شاہ کی معذرت!

  



گورنر پنجاب چودھری محمد سرور ان دنوں خبروں میں ہیں۔زیادہ حساب ان کے حق میں کھلتا ہے، لیکن مخالفت میں بھی ووٹ آ ہی جاتے ہیں، جہاں تک خبروں میں ہونے کا تعلق ہے تو چودھری صاحب نے خود ہی اس کا دروازہ کھولا اور یوں قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔بھلے سبھاﺅ ان کا مسئلہ نیکی کر دریا میں ڈال والا ہے کہ چھٹی لے کر برطانیہ بچوں کے پاس گئے تو واپس پاکستان کی طرف اڑان بھرنے سے قبل وہ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی دفتر جا پہنچے۔وہاں قائد تحریک الطاف حسین سے ملاقات اور بات چیت کی۔مقصد پاکستان کے سیاسی ماحول کو خوشگوار بنانا تھا۔الطاف حسین کے لئے یہ موقع اچھا تھا۔یوں بھی متحدہ سے کبھی چوک نہیں ہوئی۔چنانچہ متحدہ کے جدید مواصلاتی رابطے کے ذریعے قائد تحریک نے ایک مِنی کانفرنس کر ڈالی اور پھر مائیک چودھری محمد سرور کے آگے بھی کر دیا اور ان کو بھی بات کرنا پڑی۔ یہاں سے مختلف نوعیت کی قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور وہ الزامات کی زد میں بھی آ گئے، ان کی ڈاکٹر طاہرالقادری سے مہربانوں والی ملاقات کو بھی معنی پہنائے جانے لگے۔ پھر وہی ہوا جو ہوا کرتا ہے کہ ان کے مستعفی ہونے کی خبریں شائع اور نشر ہونے لگیں، ان کی تردید بھی کی جاتی رہی۔

چودھری محمد سرور پاکستان کے میڈیا کے لئے جانے پہچانے ہیں۔ہمارے بڑے بڑے نام برطانیہ میں ان کی میزبانی سے مستفید ہو چکے ہوئے ہیں اور یہ واقفیت بھی ان کے لئے مسئلہ بنی کہ ایسے دوستوں نے ان کی حمائت میں کالم باندھنا شروع کر دیئے۔ان کے ذریعے باقاعدہ ترغیب دی گئی کہ وہ مستعفی ہو ہی جائیں لیکن یہ خواہش پوری نہ ہو سکی وہ ابھی تک موجود ہیں تاہم ایک ”ٹی وی ٹاک شو“ میں اس مسئلہ پر وضاحت بھی کر چکے ہیں، ہماری تو ان سے اتنی واقفیت نہیں، کسی تقریب میں ملاقات ہو جائے تو بات ہاتھ ملانے تک رہ جاتی ہے ہم اپنا تعارف خود کرانے میں بہت زیادہ جھجک والے ہیں، اگرچہ برادرم مشہود شورش کی وجہ سے گورنر موصوف نے فون پر بات کی اور ایک دو مرتبہ گورنر ہاﺅس میں دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ان سے باتیں کرنے کا بھی موقع ملا، بہرحال ہماری دوستی، یا بے تکلفی قطعاً نہیں ہے، دوستوں کی تحریروں اور بعض حضرات کی گفتگو سے ان کے بارے میں اندازہ ہوتا رہتا ہے۔

جہاں تک چودھری محمد سرور کا تعلق ہے تو انہوں نے استعفے کی تردید تو نہیں کی البتہ ایک ٹاک شو میں جن خیالات کا اظہار کیا اس سے یہی تاثر ابھرا کہ وہ اس حیثیت میں خود کو پریشان پاتے ہیں، جبھی تو انہوں نے کہا کہ ان کو علم نہیں تھا،18ویں ترمیم کے بعد گورنر کا عہدہ ایک نمائشی اور علامتی عہدہ ہے۔اختیارات بھی نہیں،صرف پروٹوکول اور 80۔ ایکڑ کا گورنر ہاﺅس ہے، جبکہ وہ تو خدمت کرنا چاہتے ہیں، خصوصاً تعلیم کے شعبہ میں کچھ زیادہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ وہ نہ تو واپس برطانیہ جائیں گے اور نہ ہی ان کا ارادہ اپنے محسنوں کو چھورنے کا ہے جنہوں نے ان کو یہ اعزاز (گورنری) دیا، اسی سے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی، جسے ایک خبر نے زائل کیا کہ چودھری سرور بلا شبہ گورنر شپ کو خیرآباد کہنا چاہتے ہیں اور ایسا ہوگا بھی، لیکن اس کے بعد وہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی مشاورت سے قومی خدمات انجام دیں گے۔ یہ بالواسطہ تائید ہے جسے اس خبر کی شکل بھی دی گئی کہ وہ مستعفی ہوں گے اور ان کو مرکز میں کوئی اہم کردار سونپا جائے گا تاکہ وہ متحرک رہیں اور یہی حاصل جمع ہے ان سب قیاس آرائیوں کا جو ہو رہی ہیں، چودھری محمد سرور برطانیہ میں دوبار دارالعوام کے رکن رہ چکے اور اب ان کی نشست ان کے صاحبزادے کے پاس ہے۔ اس لئے ان کا کسی ایسے عہدہ پر بیٹھے رہنا جہاں سیاست نہ ہو، مشکل کام ہے اور وہ گورنری چھوڑ کر ایسا ہی کوئی کام کرنا چاہتے ہیں، ان کی کامیابی کے لئے دعا کرنا چاہیے۔

یہ تو چودھری سرور کی بات ہے، یہاں تو ہر روز کوئی نہ کوئی سکینڈل بنتا ہے۔ہماری نظر سے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا بیان یا گفتگو تو نہیں گزری، البتہ متحدہ قومی موومنٹ کے رابطہ کمیٹی کے رکن سید حیدر عباس رضوی کی میڈیا سے گفتگو دیکھی اور سنی۔ان کا جوش اور دلائل بھی ملاحظہ کئے تو معلوم ہوا کہ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کوئی بات کی، جسے رابطہ کمیٹی نے گالی قرار دیا ہے۔حیدرعباس متحدہ کی روائت کے مطابق دلائل اور ثبوت کے ساتھ بات کررہے تھے، وہ قرآن کی آیات سے مہاجر کی تعریف ثابت کررہے تھے۔اس سے کسی کو انکار ممکن نہیں لیکن جو گفتگو وہ اپنے اور اپنے بھائی بندوں کے حوالے سے کررہے ہیں اس کے بارے میں اب اگر بات ہونے لگی ہے تو وہ اتنے غصہ میں کیوں ہیں، یہ تو اچھا ہوا کہ خورشید شاہ نے جلد ہی مطالبہ پورا کیا اور معذرت بھی کر لی، ورنہ یہ ان کے لئے بہتر نہیں تھا کہ اگلے ہی روز کراچی میں پیپلزپارٹی کا جلسہ عام اور بلاول بھٹو زرداری کی رونمائی ہے، بہرحال انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی طرف سے کوئی گالی نہیں دی گئی۔ صرف یہ کہا گیا کہ اب جو نسل یہاں پیدا ہو کر جوان ہوئی وہ مہاجر نہیں، پاکستانی ہے۔خورشید شاہ کہتے ہیں ایسے تو ہمارے آباءاجداد بھی عرب سے ہجرت کرکے آئے تو مَیں بھی مہاجر ہوا۔متحدہ کی طرف سے سخت انتباہ کیا گیا تھا اور جواب میں ”سرنڈر“ ہو گیا۔تاہم حیدر عباس رضوی جوش خطابت میں بعض الفاظ کا ترجمہ اپنے مطابق کر گئے اور انہوں نے سندھ کی اسی فیصد اراضی پر حق ملکیت جتا دیا اور پھر انہوں نے مہاجر، پناہ گزین وغیرہ کی تشریح کی اور اپنے بزرگوں کو ”امیگرنٹ“ قرار دیا۔

 خود وہ تو کراچی کی پیدائش ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے دس لاکھ جانوں کی قربانی کا دعویٰ پھر دہرایا جو پاکستان کے قیام کے لئے ان (مہاجروں) کے بزرگوں نے دیں، اس طرح ایک مرتبہ پھر وہ پنجاب کو نظر انداز کر گئے اور گول کر گئے کہ مہاجر بھی اردو بولنے والوں کے لئے مخصوص کرتے ہیں، بلکہ دہلی سے اگلے حصوں سے آنے والوں کو یہ فخر دیتے ہیں، مسلسل ایسا کرنے سے وہ بہت بھاری اکثریت کی دل آزاری خود کرتے ہیں کہ دہلی سے مغربی طرف پنجاب کے مسلمانوں میں سے یا تو شہید ہو گئے یا نقل وطن کرکے پاکستان کی حدود میں آ گئے اور خواتین کی بے حرمتی اور اغوا کے صدمے اپنی جگہ ہیں، اس سلسلے میں اعدادوشمار بھی میسر ہیں۔حیدر عباس رضوی پڑتال کرسکتے ہیں۔یوں بھی اب ان کو ”امیگریشن“ اور ”امیگرینٹ“ کے معنی اور مطالب ڈکشنری سے دیکھ لینا چاہئیں۔بہتر عمل یہ ہے کہ معروضی حالات کے حوالے سے سیاست کی جائے اور کوئی بھی کسی کی نسل اور قبیلے کے بارے میں کوئی ایسا لفظ نہ کہے جو کسی کی دل آزاری کا باعث ہو، یہاں عام فیشن ہے کہ پنجاب کا نام لے کر پنجابی کو گالی دی جاتی ہے اور حیدر رضوی بتا سکتے ہیں کہ پنجابی کتنے عرصہ سے حوصلے اور برداشت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ عصبیت کسی بھی نوعیت کی ہو اس سے گریز ہی بہتر ہے۔

مزید : کالم


loading...