کیا مَیں واقعی مسلمان ہوں؟

کیا مَیں واقعی مسلمان ہوں؟

  



اس سوال کا روائتی سا جواب تو یہ ہے کہ مَیں 1935ءمیںحامد حسن (میرے والد) کے گھر میں پیدا ہوا اور حسب ِ روائت میرے کانوں میں آذان دے دی گئی، گھر کے کسی بزرگ (غالباً میرے دادا جی) نے میرا اسلامی نام منظور احمد رکھ دیا۔ بیسوی صدی کے وسط تک برصغیر میں مسلمانوں کے نام فارسی زبان کی ترکیب سے متاثرہو کر رکھے جاتے تھے۔ بات ہے بھی ٹھیک ۔ قریباً 900 سال تک فارسی دان حکمرانوں کے زیرِ اثر رہتے ہوئے ہمارے اسلامی نام زیادہ تر فارسی مصادر سے لئے جاتے تھے۔ پورے شمالی ہندوستان،بشمول موجودہ پاکستان میں آپ کو 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے نام فارسی ترکیب سے ہی مِستعار ملیں گے۔ہمارے بڑے شاعر، رہنما ،اَدیب ، پہلوان، تاجر ، استاد، سردار، لیڈروں، سجادہ نشینوں اور وڈیروں کے نام فارسی زبان سے ہی متاثر ہیں۔ خالص عربی گرائمر اور ترکیب سے متاثر نام 1970ءکی دہائی کے بعد ملتے ہیں۔ وجہ اس کی یقینامعاشی ہے۔ عرب ملکوں میں جب تیل کی دولت کی ریل پیل ہوئی تو ہماری آبادی کے ہر طبقے کے لوگ ملازمتوں کے لئے مشرقِ وسطیٰ آئے اور وہاں کے کلچر کا اثر لیتے ہوئے اپنی اولادوں کے نام خا لصتاً عربی ماخذ سے لئے گئے۔ ہندوستان کے دکن اور بنگال میں شروع سے ہی عربی نام ملتے ہیں، کیونکہ ہندوستان کے اس حصے میں اسلام عرب تاجروں کے ذریعے آیا۔ وسطی ایشیاء، ایران، افغانستان اور ترک بادشاہوں کے نام تو عربی ترکیب سے تھے، لیکن اُن کے نام کے ساتھ فارسی کا لاحُقہ ضرور ہوتا تھا،جیسے تغلق، ایبک ، ہمایوں، شاہجہان، عالمگیر، اورنگ زیب۔

اپنے مضمون کے موضوع سے ہٹ کر اس تمہید کو لکھنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ مَیں اتفاقاً مسلمان کے گھر میں پیدا ہو ا اور اس لئے مسلمان کہلایا۔ قران اور نماز (جسے صلوٰةکہنا چاہئے کیونکہ لفظ ”نماز“ آتش پرستوں کی عبادت کو کہتے ہیں، ہمارے علماءنے اس طرف ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی)کی روائتی تعلیم اپنے گھر کے ماحول سے حاصل ہوئی، لیکن سچ بات یہ ہے کہ مَیں نہ اسلام کی رُوح کو سمجھتا تھا اور نہ ہی مجھ میں اس وقت کوئی تجسس تھا کہ مَیں یہ معلوم کروں کہ مَیں مسلمان ہوتے ہوئے اپنے ہم عمر ہندوﺅں ، سکھوں اور عیسائیوںسے کیونکر بہتر ہو سکتا ہوں ، جبکہ میری شکل و صورت ، لباس ، خوراک ، رہن سہن قریباً اُن غیر مسلموں جیسا ہی تھا۔ 1947ءمیں پاکستان بن گیا، اعلیٰ تعلیم اور پھر کئی ملازمتیں کرتا ہوا مَیں ریٹائر ہو گیا، لیکن مَیں اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہوئے دوسرے مذہبوں اور دہرموں کو ماننے والوں سے زیادہ احسن سمجھنے سے قا صر تھا۔ بس سمجھ لیجئے کہ مَیں جو بھی عبادت کرتا تھا ، وہ فوجی ڈرل کی طرح ہوتی تھی۔ ملازمت کے سلسلے میں مجھے دنیا دیکھنے کے مواقع حا صل ہوئے۔ یورپ، امریکہ، افریقہ، سنٹرل ایشیائ، عرب اور مشرقِ بعید کے ممالک بشمول جاپان اور چین بھی جانا ہوا۔ مَیں نے غیر مسلم ممالک کے عوام کے سماجی اور تجارتی رویے مسلمان ملکوں سے ہزار درجہ اعلیٰ پائے۔ مجھے اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہوئے شرمندگی سی محسوس ہوتی تھی۔ عبادت سے دل اُچاٹ ہو گیا۔ چونکہ عمر میں اَب پختگی تھی، پڑھنے کا بھی شوق تھا بلکہ پڑھ کر یاد رکھنے کا بھی شوق تھا۔ طبیعت میں تجسس بھی شروع سے تھا۔ تاریخ دانی سے بھی بہت لگاﺅ تھا۔ تمام دنیا کے مسلمانوں کو ذلیل و خوار ہوتے دیکھا تو مجھے ایک قسم کی اللہ تعالیٰ سے شکائت سی ہو گئی کہ ہم ڈیڑھ ارب مسلمان اتنی عبادات کرتے ہیں، مسجدیں بناتے ہیں۔ امام باڑے بناتے ہیں، حج اور عمرے کرتے ہیں، اپنی صورت کو اسلامی رنگ دینے کے لئے داڑھی اور حجاب کا رواج اپناتے ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ذِلّت زدہ ہیں۔ اَب میرے لئے ایک قسم کا چیلنج بن گیا کہ مَیں دوسرے مذاہب کا بھی مطالعہ کروں اور تلاش کروں کہ مَیں بطور مسلمان کسِ وجہ سے دوسرے مذہب والوں سے بہتر ہوں۔

مَیں نے قرآن کی تفسیریں پڑھنی شروع کیں، کیونکہ قرآن کے ترجمے سے ذہن میں زیادہ اُلجھن پیدا ہوتی تھی، سورہ¿ بقرہ کو ہی لے لیں۔ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ اپنے بار بار کئے ہوئے احسانات کا ذکر کرتے ہیں اور جب یہودی پھر بھی نافرمان رہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن پر عذاب ِ الیم نازل ہونے کی اطلاع دیتے ہیں،جبکہ یہودی آج کی دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ تعلیم میں، سائنس میں ،طب، ٹیکنالوجی ، مالیات ، معاشیات اور میڈیا میں غرض کہ دنیا وی ترقی کے ہر شعبے میں یہودی چھائے ہوئے ہیں۔ میرے ناقص ذہن نے سوال کیا کہ طرح طرح کے عذابِ عظیم تو ہم مسلمانوں پر نازل ہیں۔ اس فکری انتشارسے نجات حاصل کرنے کے لئے مَیں نے قرآن شریف کے انگریزی اور اُردترجمے پڑھے ، پکتَھال (Picthal ) کے Glorious Quran اور عبداللہ یوسف صاحب کے ترجمے کو پڑھا۔ مولانا مودودی کی تفسیرکا مطالعہ کیا، سیرت کا بھی مطالعہ کیا۔ دل کی خلش ختم نہ ہو سکی کہ جن یہودیوں کو اللہ تعالیٰ نے راندہ ِ درگاہ کر دیا تھا۔ وہ آج کی دنیا پر بالواسطہ کیوں کر حکومت کر رہے ہیں۔ ہمارا قرآن تو سچا ہے۔ ہم مسلمان ہی کہیں نہ کہیں غلطی پر ہیں۔

اپنے تجسس کی تسکین کے لئے میں نے دوسرے مذاہب کو سمجھنے کی کوشش کی۔ تمام مذاہب بشمول اسلام انسانی خدمت اور حقوق پر زور دیتے ہیں،تجارتی، معاشی اور سماجی معاملات میں ایمانداری کا سبق دیتے ہیں، عیش و عشرت اور بے تحاشا دولتمندی کی سخت حوصلہ شکنی کرتے ہیں، بلکہ اکثر مذاہب جو بت پرستی کرتے ہیں یا ظاہری طور پر شرک کے مرتکب ہوتے ہیں، وہ بھی درحقیقت Monotheist (وحدت پرست) ہی ہوتے ہیں۔ وہ بھی اپنے خداﺅں کو، گاڈ، پرمیشور، یزدان، یہوا، ماذدا، واہ گورو اور ربّ (سکھ مت میں بھی وحدت پرستی ہے) کے نام سے ہی پکارتے ہیں جبکہ ہم مسلمان اپنے رّب کو اللہ تعالیٰ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مَیں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے عمومی طور پر ہم مسلمانوں سے زیادہ ایماندار ، با اخلاق اور با کِردار ہیں دنیاوی بُرائیاں دراصل شیطان کی خصلتوں کو اپنانے سے پیدا ہوتی ہیں۔ شیطان کی پہچان ان پانچ خصلتوں سے ہوتی ہے۔ اوّلین خصلت ہوس یعنی لالچ ہے۔ مالی بے ایمانیاں اسی خصلت سے جنم لیتی ہیں، زیادہ دولت حاصل کرنے کی ہوس، جائیدادیں حاصل کرنے کی ہوس (قبضہ گروپ اِسی لالچ کی پیدا وار ہے) ذخیرہ اندوزی ، گراں فروشی، ملاوٹ، ناپ تول میں بے ایمانی ، نقلی مال کو اصل کہہ کر فروخت کرنا، منافع خوری، سودی کاروبار، بلکہ حکومتی ٹیکس چوری اور سمگلنگ بھی ہوس کی مختلف شکلیں ہیں۔(جاری ہے)

(دوسری قسط)

 شیطان کی دوسری خصلت ہے منافقت یا ریاکاری، تمام مسلمان ممالک اور اُن کے عوام کی اکثریت منافقت میں مبتلا ہیں۔ ہمارے 5 سٹار عمرے اور 7 سٹار حج بھی منافقت، سہل پسندی اور نمائش کا حصہ ہیں۔ ہم ریاکاری اور جھوٹ بول کر ووٹ لیتے ہیں اور ووٹ دیتے ہیں۔ سیاست کو Art of Statecraft کہا جاتا ہے ۔ ہمارے نبی کریم صاف سُتھری سیاست کا نمونہ تھے۔آج کا مسلمان سیاست دان ریاکار دروغ گو اورظالم ہے۔ شیطان کی تیسری خصلت حسد ہے۔ شیطان نے حسد ہی تو کیا تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُسے ہمیشہ کے لئے مردُود قرار دیا۔ حسد ہی برادر کُشی کی اصل وجہ ہے۔ مسلمانوں، مسیحیوںاور ہندوﺅں کی بادشاہیاںبردارکُشی سے بھرپور ہیں۔ سلطنت ِ عثمانیہ ، ہندوستان کے تُرک اور پٹھان سلاطین اور مغل بادشاہوں کا پورا دور بغاوتوں اور بھائی ماری سے معمور ہے۔ کیوں؟؟؟؟ تخت پر بیٹھنے کا لالچ اور رعایا پر مکمل اختیار حاصل کرنے کا نشہ خونریزی کاباعث بنتا تھا۔ پہلی جنگِ عظیم یورپی طاقتوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ کالونیاں حاصل کرنے کا لالچ تھا۔ جرمنی ہی یورپ کا ایسااہم ملک تھاجو افریقہ یا ایشیاءمیں کسی قسم کا سامراجی قبضہ نہ کر سکا تھا۔جرمنی نے آسٹریا اور ترکی کو اپنے ساتھ ملایا اور 1914ءمیں حریف یورپی طاقتوں پر چڑھ دوڑا۔ شکست کھائی، نہائت ہتک آمیز شرطوں پر صلح نامہ ہوا۔ جرمن عوام کے دل میں اِن ہتک آمیز شرائط کے خلاف شدید غصہ تھا جس کو ہٹلر نے انتقامی رنگ دے کر پہلی جنگ کا ہر صورت بدلہ لینے کے لئے اتنی زور دار تحریک شروع کی کہ 1939ءکی جنگ ِعظیم شروع ہو گئی۔ اس جنگ کی اصل وجہ بنی شیطان کی انتقام لینے کی خصلت۔ (جاری ہے)

شیطان کی چوتھی خصلت ہے غیبت۔ اس خصلت کے خلاف اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں پُر زور الفاظ میں فرماتے ہیں کہ انسانی رشتوں کو توڑنے میں غیبت کا بڑا ہاتھ ہے۔ غیبت کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اُس نے اپنے بھائی کا گوشت کھا لیا۔ بطور مسلمان ہم لوگ غیبت کی بدعادت میں اتنے مبتلا ہیں کہ ہمیں احساس ہی نہیں کہ یہ کتنی بڑی معاشرتی برائی ہے علاوہ گناہ ہونے کے ۔ شیطا ن کی پانچویں خصلت بہتان اور جھوٹ ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ بہتان بازی اور جھوٹ نے ہمارے عدالتی نظام کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ جھوٹی (FIR) ، جھوٹی شہادتیں، جھوٹ بولنے والے وکیل اور اس تمام جھوٹ کو سُن کر ہماری عدالتوں کے فیصلے ۔ یہ بیماری برصغیر میں تو عام ہے، کیونکہ رومن لا (Roman law) کی عملدار ی جھوٹ اور بہتا ن بازی کو تقویت دیتی ہے۔

 آپ نے غور کیا ہو گا کہ ہمارے قرآن ِمجید اور ہماری احادیث کا زیادہ زور معاشرے کے توازن پر ہے۔ عبادات تو ہر مذہب کا حصہ ہیں۔ ہمارے دین میں بھی عبادات ہیں، لیکن ہماری عبادت کو قبول کرنا یا نہ کرنااللہ تعالیٰ کی اپنی صوابدید پر ہے۔معاملات ،معاشرت اور معاشیات(یعنی حقوق العِباد) میں اگر ہم سے کو تاہی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ اُس کی معافی ہمیں نہیں ملے گی خواہ ہم کتنے ہی حج کر لیں ، عمرے کر لیں، مسجدیں بنوادیں یا نذر و نیاز کریں۔ حقوق العباد کے شعبے میں قریباً تمام مسلمان مجمومی طور پر اور پاکستا نی مسلمان خصوصی طور پر شدید خلاف ورزی کے مرتکب ہیں۔ جتنی بھی معاشرتی، معاشی، عدالتی ، سیاسی اور سماجی نا انصافیاں ہمارے ملک میں ہیں اُس کی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم شیطانی خصلتوں کے پیرو کار بن گئے ہیں جبکہ ہمیں دینِ محمدی کا پیروکار ہونا چاہئے، تھا جس میں شیطان کا کوئی گذر نہیں ہے۔

اپنے مسلم ہونے کا تجزیہ کرتے ہوئے مَیں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ خوش قسمتی سے مَیں مسلمان کے گھر میں پیدا تو ضرور ہوا، لیکن میرے تجسس نے مجھے دوسرے مذاہب کا مطالعہ کرنے کا موقع دیا اور اپنے دین کو عملی (Empirical) نکتہ نظرسے سمجھنے کا موقع ملا۔ بطور دین کے ، اسلام تمام مذاہب میں اس لئے افضل ہے کہ اس میں محض عبادات یاحقوق العبادات کا ذکر نہیں ہے (کیونکہ ان ہر دو عناصر پر دوسرے مذاہب بھی زور دیتے ہیں)،بلکہ دین ِ اسلام نے ہمیں منفرد عقیدہ عطا کیا ہے جس پر ہمارا بہر صورت ایمان ہونا لازمی ہے۔ ہمارے عقیدے کے 5 ارکان ہیں اللہ تعالیٰ کی وحدت، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول اور نبی، فرشتے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی ہوئیں کتب (Scriptures) اور روز ِ حساب۔ بطور مسلمان کے اگر میرا مکمل ایمان عقیدے پر نہیں ہے تو میں مسلمان ہی نہیں ہوںخواہ میں اسلامی نام رکھ لوں، عمرے اور حج کروں، مسجد میں بلا ناغہ صلاة کے لئے جاﺅں ، اگر میرا عقیدہ ناپختہ ہے تو پھر مَیں مسلمان نہیں ہوں۔ یہ عقیدہ ہی ہے جو مجھے دوسرے مذاہب والوں سے زیادہ ممتاز کرتا ہے۔

اگر میراعقیدہ بھی سہی ہو، میں عبادات کا بھی پاپند رہوں، اپنی شکل و صورت اور لباس بھی مسلمانوں جیسا بنا لوں، لیکن میں معاملات میں کمزوری اور کوتاہی بلکہ دانستہ خلاف ورزی کروں تو کیا میں واقعی مسلمان ہوں؟۔ دراصل ریٹائرمنٹ کے بعد مَیں نے اپنے بیٹوںکے کہنے پر شاہ عالم مارکیٹ میںکاروبار شروع کر دیا۔

مَیں نے جب اپنے آپ کو ٹٹولا تو سخت شرمندگی محسوس ہوئی۔ میری شکل و صورت دیکھیں تو چہرے پر سُنت ِ رسول کے مطابق بڑی نورانی داڑھی ہے، ماتھے پر صلاة کی وجہ سے کا لا سیاہ محراب بھی ہے، ٹخنوں سے اُونچی شلوار بھی ہے، گھر میں اہلیہ ، بہویں اور بیٹیاں پورا حجاب لیتی ہیں، ہم سب گھر والے عمرے اور حج سے بھی فیض یاب ہو گئے ہیں، لیکن جب اپنی دوکان میں بیٹھتا ہوں تو رمضان شریف کی آمد سے پہلے اپنے گودام ضروریات کی اشیا سے بھر لیتا ہوں، بلکہ گودام کو بھرنے کے لئے بینک کو جھوٹے سچے کاغذات دے کر قرض بھی اُٹھا لیتا ہوں۔ بڑا بیٹا جو واپڈا میں لائن سپرنڈینٹ ہے اس کی آمدنی ماشااللہ لاکھوں میں ہے،اُس سے بھی قرض لے کر سستے قسم کا مال چائنا سے بذریعہ حوالہ قیمت ادا کر کے منگوا لیتا ہوں (حوالے کی وجہ سے کسٹم ڈیوٹی بھی کم لگتی ہے اور انکم ٹیکس والوں کا مُنہ بھی بند رہتا ہے)چائنا کے مال پر Made in Japan کی مہر لگوا لیتا ہوں۔ یہ ترکیب مجھے میرے منجھلے بیٹے نے بتائی تھی جو کسٹم کے محکمے میں ہے اور ڈیفنس میں 2 کنال کی کوٹھی میں رہتا ہے۔ بڑا ہی سعادت مند ہے۔ ہر جمعرات کو داتا صاحب حاضری دیتا ہے اور وہاں سے عشا کی نماز کے بعد ہی گھر واپس آتا ہے۔ چھوٹا بیٹا پانچوں نمازیں مسجد میں پڑہتا ہے۔ سر پر رومالی ٹوپی بھی رکھتا ہے۔ لبرٹی مارکیٹ میں اُس کا کاروبار گھڑیوں کا ہے۔ قیمتی برانڈ کی گھڑیاں چائناسے منگواتا ہے۔ بالکل اصلی کی مانند، رولیکس، اومیگا، راڈو اور برائٹ لنگ کی گھڑیاں۔ ظاہر ہے میرا بیٹا اچھا سیلز مین ہونے کی وجہ سے گاہک سے اصل برانڈ کی گھڑی کی قیمت ضرور لیتا ہو گا۔ میرا یہ چھوٹا بیٹا تجارت میں بڑا ماہر ہے۔ مجھ پر گیا ہے۔

پتہ نہیں کچھ ہفتوں سے مجھے اپنی مسلمانی پر شک سا ہونے لگا تھا۔ چھان بین کر کے دیکھا تو دل کو تسلی ہوئی کہ مَیں تو بخشا ہوا مسلمان ہوں۔ ضمیر کی خَلش دُور کرنے کے لئے ہر رمضان کے مہینے میں روزانہ شام کو 4 دیگیں بریانی کی پکوا کر غربا¿ میں چھوٹے چھوٹے پیکٹوںمیں بانٹتا ہوں۔ شہرت بھی مل جاتی ہے اور دِل کو سکون بھی مل جاتا ہے،جس آدمی کی کوئی نماز قضا نہ ہوتی ہو، روزہ ، حج اور ہر سال عمرہ کرنے کا پابند ہو، بس زکوٰة میں کچھ کوتاہی ہو جاتی ہے۔ گورنمنٹ کے ٹیکس سے بچ نکلنا اسلام کی خلاف ورزی تو نہیں ہے۔ کسٹم دیوٹی بچا لینا بھی غیر اسلامی نہیں ہے۔ مَیں تو اسے تجارت سمجھتا ہوںبھلا رسول اللہ کے زمانے میں اس قسم کے ظالمانہ ٹیکس کہاں تھے۔ الحمدللہ مَیں تو سُنت رسول کا عین پابند ہوں۔ مجھے اب یقین ہے کہ میری مسلمانی پکی ہے۔ شیطان تو یوں ہی وسوسے ڈالتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ مَیں اِب بڑے درجے کے متمول تاجروں میں شمار ہوتا ہوں۔ الحاج کہلاتا ہوں، شاہ جمال میں 2000 مربع گز کے پلاٹ پر مکان بنایا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ بے شمار دولت کے باوجود مجھے کھانے پینے میں پرہیز کرنا پڑتا ہے۔ مجھے ہڈیوں کی تکلیف بھی ہوگئی۔ نماز اَب کرسُی پر بیٹھ کر پڑھتا ہوں۔ سارا روپیہ پیسہ اولاد کو دے دیا۔ کچھ رقم بچی تو اُس سے اپنے نام سے منسوب کرکے ایک مسجد بنوادی ہے۔ مرنے کے بعد بھی لوگ حاجی منظور کو یاد رکھیں گے۔ اچھا کام مَیں نے یہ بھی کیا کہ مسجد پر مَیں نے اپنا مسلک لکھ کر اپنے ہم مسلکوں کے لئے آسانی پیدا کر دی ورنہ تو میری بنائی ہوئی مسجد میں نمازی ہی نہ آتے، ساری رقم ضائع ہو جاتی۔

کبھی کبھی رات کو مَیں جب اپنے کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں، تو شرم بھی آجاتی ہے اور پھر میرے ذہن میں سوال اُبھرنے لگتا ہے کہ کیا مَیں مسلمان ہوں۔(ختم شد)

مزید : کالم


loading...