نئے دور میں پلاسٹک کے آقا

نئے دور میں پلاسٹک کے آقا
نئے دور میں پلاسٹک کے آقا

  



بہتر یہی ہے کہ پہلے پورا واقعہ سناﺅں اور پھر لوگوں کو اس سے کوئی عالمانہ نتیجہ نکالنے کی ترغیب دوں۔ عظیم سائنس دان سر آئزک نیوٹن نے اپنا کشش ثقل کا نظریہ اسی طرح قائم کیا تھا ۔ فرق یہ ہے کہ نیوٹن باغ میں بیٹھ کر زمین پہ گرتے ہوئے سیب کو دیکھتا رہا۔ مَیں نیوٹن نہیں ہوں، لہٰذا حیرانی اس پہ ہے کہ بندے کی حق حلال کی تدریسی کمائی اس طلسمی کھڑکی سے باہر کیوں نہیں نکل پائی جسے اے ٹی ایم کہتے ہیں ۔ ایک آپشن تھی کہ اندر کاﺅنٹر پہ پہنچ کر اس آدمی کے متھے لگ جاﺅں ،جو ہر بار میرا چیک جمع کرتے ہوئے یہ دھمکی دیتا ہے کہ آپ کے نام کے ساتھ یہ جو پی یو بمعنی پنجاب یونیورسٹی لکھا ہوا ہے،اگر چاہوں تو اس پہ رپھڑ ڈال دوں۔ اس شام بینک کا وقت ختم ہو چکا تھا ، سو ایک طرح سے عزت تو بچ گئی، مگر رقم لینے کے لئے ایک طویل دھرنے کا آغاز ہو گیا ۔

پہلا مرحلہ تو وہی تھا جیسے عام طور پہ ہوتا ہے ۔ ڈیبٹ کارڈ کو مطلوبہ رخ پہ مشین کی درز میں ڈالا اور شناختی نمبر کے چاروں اعداد فیڈ کر دئے ۔مشین نے پوچھا کون سی زبان ؟ کہا انگریزی ۔ سوال ہوا پیسے چاہئیں یا کوئی دوسری سروس ، اور اگر پیسے تو کتنے ؟ چونکہ جز وقتی استاد کی تنخواہ بھی جز وقتی سی ہوتی ہے ، اس لئے جواب میں پانچ ہزار پہ تقسیم ہونے والی کم سے کم رقم ٹائپ کر دی ۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایک مخصوص مشینی ”ٹک“ کے ساتھ پہلے کارڈ واپس ملتا ، پھر ٹھک کر کے رسید نکلتی ، آخر میں نوٹ گننے کی آواز آتی اور کھٹ سے رقم ہاتھ میں ۔ کارڈ تو بخیر و عافیت واپس آگیا گیا جو صورت حال کا روشن پہلو ہے ۔ ساتھ ہی گنتی کے صوتی اثرات بھی محسوس ہوئے ، لیکن نوٹوں کی بجائے کاغذ کا ایک دو لفظی ٹکڑا باہر نکلا ’ٹرانزیکشن ریورسڈ‘ ۔ پنجابی میں کہیں گے ’ہیٹھلی اتے‘ ۔

مالی ضرورت ہنگامی قسم کی تھی ، مگر پاکستان قدرت کا عطیہ ہے ، اس لئے مومنانہ روایت کے عین مطابق صبر شکر کی پریکٹس بچپن ہی سے کر رکھی ہے ۔ یہ اطمینان کم بھی تھا کہ کارڈ سلامت ہے ، کہیں اور استعمال کر لیں گے ۔ ناصر کاظمی نے ہم جیسوں کو حوصلہ دینے کے لئے ہی کہا ہے کہ ’بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہل دل کے‘ ۔ پر اہل دل روپیہ بانٹنے والے شیشہ گھر سے باہر نکلے ہی تھے کہ موبائل پہ ایس ایم ایس آیا ’آپ کے اکاﺅنٹ سے رقم منہا کر لی گئی ہے ‘ ۔ آگے وہی اعداد تھے جو پانچ ہزار پہ تقسیم ہو سکتے ہیں ۔ ’اوئے ، یہ کیا ہوا ؟‘ اشفاق احمد کے تلقین شاہ کا قول ہے ’جذبات تو بس ان کے دل میں ہوتے ہیں جن کے چہرے کی رنگت پیلی ہو ‘ ۔ میرا رنگ اس وقت جیسا بھی تھا ، میں یہ ثابت کرنے پہ تل گیا کہ اہل دل اہل دماغ بھی ہوتے ہیں ۔

ان ارفع عزائم کو تقویت موٹر کار میں میرا انتظار کرنے والے اس دوست نے بھی دی جو ایک سرکاری کالج میں ادب کا استاد بن جانے پر بھی یہ نہیں بھولا کہ اس کی بنیادی ڈگری کامرس کے مضامین میں تھی ۔ ’ایس ایم ایس جہاں سے آیا ہے اس نمبر پہ فون کریں تا کہ وہ رقم سچ مچ کٹ نہ گئی ہو جو آپ نکلوانا چاہ رہے تھے‘ ۔ لیں جناب ، اب گیارہ سال پرانی کار میں بیٹھ کر موبائل فون تھامتا ہوں ۔ ہاتھ اس خوف سے کانپ رہا ہے کہ ادھیڑ عمر میں خوشحالی کی یاد گار یہ صوتی آلہ چھن گیا تو بیگم صاحبہ سختی سے پیش آئیں گی ۔ آج سے تین سال پہلے جب ایک انگریزی خواں ڈاکو نے نے میرا بٹوے کا بوجھ ہلکا کیا تو یہی علاقہ تھا اور اکتوبر میں غروب آفتاب کا یہی مانوس منظر ۔ خیر ، فون ملایا ، گھنٹی بجی مگر لائن ڈراپ ہو گئی ۔ تو کیوں نہ دوبارہ ٹرائی ماری جائے ؟ اچھی خاصی رقم کا معاملہ ہے ۔

دوسری کوشش ابتدائی طور پہ کا میاب رہی ۔ ہمارے بینک کا نام ذرا اینگلو انڈین ٹائپ کا ہے ۔ خاتون کی خیر مقدمی آواز سن کر میں نے اردو اور انگریزی میں سے قومی زبان کے حق میں ووٹ تو دیا مگر ریکارڈنگ کا لہجہ کچھ غیر ملکی سا تھا ۔ ’ہمارا مینو تبدیل ہو چکا ہے ، براہ مہربانی توجہ فرمائیے ‘ ۔ خدا جانتا ہے کہ ’ہمارا‘ اور ’مہربانی‘ کی ’ر‘ سے سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس یاد آگئیں ۔ اس سے آگے.... ’گم شدہ یا چوری زدہ کارڈ کے لئے ایک ملائیں ، سیلف سروس بینکنگ کے لئے دو ، دیگر پراڈکٹس اور سروسز کے لئے تین ، مزید معلومات کے لئے صفر ملائیں اور ہمارے فون بینکنگ آفیسر سے رابطہ کریں‘ ۔ اب صفر جو دبایا ہے تو مزید معلومات شروع گئیں ۔ ایک ، دو ، تین اور پھر ایک ہی قابل عمل صورت کہ دوبارہ شروع کے ’مین مینو‘ پہ چلا جاﺅں ۔ میں نے گھبرا کر فون بند کر دیا ۔

تیسری اٹیمپٹ میں انگریزی کی آپشن دباتا ہوں ۔ ابکے ہدایات ذرا زیادہ واضح ہیں ، جس سے خوشی ہو رہی ہے ۔ گھپلا وہیں جاکر ہوتا ہے جو ذیلی مینو کا نکتہ ءآغاز ہے۔ کامرس گریجویٹ چلاتا ہے ’اب دو دبا دیں....دو دبا دیں‘ ۔ دو دباتا ہوں اور واہ ، سچ مچ کا آدمی زندہ آواز میں بولنے لگتا ہے ’ہاﺅ مے آئی ہیلپ یو ، سر؟‘ میں محتاط پیرائے میں کہانی بیان کرتا ہوں کہ کس طرح اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کی کوشش کی ، سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو رہا تھا....یہاں تک کے نوٹ گننے کی آواز بھی آئی،مگر نوٹوں کی بجائے کاغذ کا پرزہ ہاتھ لگا، جس پہ درج تھا کہ کارروائی الٹا دی گئی ہے ۔ پھر ایس ایم ایس ملنے پر اس خوف میں مبتلا ہوں کہ ہوٹل کے گاہک کی طرح کھایا پیا کچھ نہیں ، گلاس توڑا بارہ آنے ۔ ’ذرا سا انتظار کیجئے‘ ۔ ہدایت پہ عمل کیا مگر ایک منٹ ہوا تھا کہ رابطہ پھر ٹوٹ گیا۔

اس سے یہ مراد نہیں کہ فلم انٹرول سے پہلے ختم ہونے لگی ہے ۔ اب موبائل کی ہسٹری بغور دیکھوں تو اس شام وقفہ وقفہ سے ایک ہی نمبر پہ کی گئی کالوں کی تعداد سات بنتی ہے ۔ ہاں ، جب بھی بامعنی گفتگو کی نوبت آئی ، ایک نئی آواز سننے کو ملی اور ہر بار مجھے اپنی کہانی کا خلاصہ دہرانا پڑا ۔ پھر بھی آخری مکالمہ کمال کا تھا ۔ ’سر ، آپ سے تھوڑی دیر پہلے بھی بات ہوئی ہے ‘ ۔ ’جی ، کئی لوگوں سے ہوئی ، لیکن بات بیچ میں رہ جاتی ہے‘ ۔ ’اچھا ، کارڈ نمبر بتائیے ، پچھلے کسی ٹرانزیکشن کی اماﺅنٹ اور اپنا سی این آئی سی ‘ ۔ سب کچھ بتا دیا ۔ ’یہ سی این آئی سی نمبر صاف کیوں نہیں بول رہے آپ؟‘ ’ جب پہلا فون کیا تو روشنی تھی ، اب اندھیرا ہے اور نمبر پڑھا نہیں جا رہا‘ ۔ چونکہ کال ریکارڈ ہو رہی تھی ، اس لئے کار کی مدھم لائٹ میں باریک باریک اعداد پڑھ ہی لئے ۔ بالآخر اس جواب سے تسلی ہو گئی کہ ’ آپ کے پیسے نہیں کٹے‘ ۔

 فتح کے نشہ میں گھر روانہ ہونے لگے تو کامرس گریجویٹ نے یہ کہہ کر ساری تگ و دو پہ پانی پھیر دیا کہ بینکنگ پریکٹس میں اے ٹی ایم پہ ملنے والی اطلاع حتمی شمار ہو تی ہے، جبکہ ایس ایم ایس کی قانونی حیثیت نہیں ۔ ’تم بھی سائینس کی مدد سے میری تو ہین کر رہے ہو‘ میں نے ایک مزاحیہ کتاب سے رٹا ہوا فقرہ پھینکا ۔ پر ساتھ ہی 30 سال پہلے بینکنگ پریکٹس کی مثال یاد آگئی، جب بی بی سی لندن کی عالمی سروس کے نواح میں اکاﺅنٹ کھولتے ہی گھر کے ایڈریس پہ ایک کارڈ موصول ہوا تھا جسے استعمال کر کے ہم مہینہ بھر کیش نکلواتے رہے ۔700پونڈ کی واپسی کا حیران کن نوٹس ملنے پہ بینک منیجر نے تفصیل سے سمجھایا کہ یہ کریڈٹ کارڈ ہے اور آپ اپنی تنخواہ نہیں، بلکہ قرضہ کی رقم کھاتے رہے ہیں، ’مگر مَیں نے تو کریڈٹ کارڈ مانگا ہی نہیں تھا ۔ ’یہ کمپنی پالیسی کے تحت آپ کو بھیج دیا گیا‘ ۔

آپ مانیں یا نہ مانیں ، لیکن سرمایہ داری کے کلچر میں جکڑی ہوئی گوروں کی بعض اور پالیسیاں بھی مزاحیہ نوعیت کی ہیں۔ جیسے لائف انشورنس کراتے ہوئے سگریٹ نوش کے بر عکس ، پائپ پینے والے کو اسموکر نہیں سمجھا جاتا ۔ اسی طرح رہائشی مکان کی خریداری کا قسط وار قرضہ مقررہ معیاد سے پہلے یکمشت واپس کرنے والے کا بقایا سود معاف نہیں کرتے ۔ الٹا اس بنا پہ جرمانہ عائد ہو جانے کا امکان بھی ہوتا ہے کہ یہ رقم ایک معینہ مدت تک آپ کے لئے مختص کی گئی تھی ، جسے پہلے لوٹا کر کمپنی پالیسی کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ جرمانہ والی ایک پالیسی سے مجھے فائدہ بھی پہنچا کہ دوستوں پہ دہشت ڈالنے کے لئے جو امریکی کارڈ جیب میں سنبھال رکھا ہے ، اس سے ایک مرتبہ پاکستان میں ہوائی جہاز کا ٹکٹ نہ ملنے کی تحریری شکائت کر دی تھی ۔ اس پہ کار ڈ والی کمپنی نے کہے بغیر ہرجانہ ادا کیا اور ایک معقول رقم خیر سگالی کی علامت کے طور پر میرے اکاﺅنٹ میں ڈال دی۔

وطن عزیز میں ہم ترقی کی اس سطح پہ نہیں پہنچے جہاں سرمایہ داری مکمل ضابطہ ¿ حیات بن جاتی ہے ۔ پھر بھی آپ پاکستانی ہوں یا غیر ملکی ، جدید جھاکا ٹیکنالوجی کا شکار ہونے والے کارڈ ہولڈر کو پہلے تو پتا ہی نہیں چلتا کہ طاقت کی دوا کی طرح اس کے جسم و جاں میں فوری قوت خرید کہاں سے آ گئی ۔ پتا تو اس وقت چلتا ہے جب ساتھ ہی دل سے یہ آہ بھی اٹھنے لگتی ہے کہ ’درد کی دوا پائی ، درد لادوا پایا‘ ۔ احمد ندیم قاسمی نے سیم و زر کو ’آدمی کے چاکر‘ کہہ کر اس پہ افسوس کیا تھا کہ ’آدمی سیم و زر کے کام آیا‘ ۔ ندیم صاحب یہ بھی بتایا کرتے کہ وہ جارج پنجم کے زمانے میں جب محکمہ ایکسائز میں سب انسپکٹر ہو کر بہاولپور گئے، تو بادشاہ کی تصویر والے سونے چاندی کے سکے ہمارے آقا ہوا کرتے ، پر یہ پچھلی صدی کے پہلے نصف کی بات ہے ۔ اب نئے دور میں ہمارے آقا پلاسٹک کے بنے ہوئے ہیں ۔  

مزید : کالم


loading...