ایران کا افسوس ناک غیر دوستانہ اقدام

ایران کا افسوس ناک غیر دوستانہ اقدام

  



 بلوچستان کے سرحدی علاقے مند میں ایرانی سرحدی محافظوں کی بلااشتعال فائرنگ سے فرنٹیئر کور بلوچستان کا ایک اہل کار شہید اور تین زخمی ہو گئے۔ایرانی گارڈز کی بلا اشتعال فائرنگ سے فرنٹیئر کور کی ایک گاڑی بھی تباہ ہو گئی۔ ایرانی اہل کار سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو کلومیٹر اندر تک پاکستانی علاقے میں گھس آئے، تاہم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ترجمان فرنٹیئر کور بلوچستان کے مطابق واقعہ ضلع کیچ کی تحصیل مند میں پاک ایران سرحدی علاقے چوکاب میں پیش آیا۔ فرنٹیئر کور کے اہل کار سرحدی علاقے چوکاب میں شرپسند عناصر کا تعاقب کررہے تھے کہ اس دوران ایرانی سیکیورٹی فورسز نے ان پر بلا اشتعال فائرنگ کر دی ۔ایرانی سیکیورٹی فورسز مسلسل چھ گھنٹے تک پاکستانی حدود کے اندر مارٹر گولے برساتی رہیں۔ایرانی فورسز کی چھ گاڑیوں میں سوار 30گارڈز پاکستانی حدود میں دو کلومیٹر اندر تک داخل ہوئے، ایرانی سرحدی گارڈز نے نوکنڈی کے علاقے لشکریاب گاﺅں میں مکینوں کو زد و کوب اور شدید ہراساں بھی کیا اور ایران کی رضا کار فورس بسیج کے کمانڈر کے ایک رشتہ دار کے گھر سے جو پاکستانی علاقے میں رہتا ہے گاڑی اور دیگر سامان ساتھ لے گئے، یہ گاڑی اور سامان گزشتہ روز ایرانی بسیج کمانڈر مجید نوتیزئی نے ایران سے پاکستان میں اپنے رشتہ دار غوث بخش نوتیزئی کے گھر بھجوایا تھا۔

ایران اور پاکستان برادر مسلمان ممالک اور ہمسائے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان اچھے اور قریبی تعلقات کی ایک تاریخ ہے دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کا دکھ سکھ میں ساتھ دیا ہے۔اس پس منظر میں ایرانی سیکیورٹی فورسز کا پاکستانی علاقے پر بلا اشتعال فائرنگ کرکے ایک پاکستانی سیکیورٹی اہل کار کو شہید کر دینا بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے۔6گھنٹے تک پاکستانی علاقے پر توپوں کے گولے برساتے چلے جانا بھی ایسا واقعہ ہے کہ اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان میجر جنرل محمد اعجاز شاہد نے اس واقعے کی بالکل درست طور پر مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مستقبل میں ایران کی جانب سے کسی بھی بلا جواز اور غیر قانونی جارحیت کا بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایران میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں دہشت گرد عناصر کے پاکستان سے جانے کے الزامات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین ایران یا کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔دفتر خارجہ کی ترجمان نے ایران کے ڈپٹی جنرل کمانڈنگ بریگیڈئر حسین سلامی کے پاکستان کے خلاف بیان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران کی جانب سے پہلے بھی اس طرح کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں، مگر ان کا وہ آج تک کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔پاکستان اور ایران کے درمیان بارڈر مینجمنٹ کا ایک میکانزم موجود ہے۔اگر اسے کوئی شکایت ہے تو وہ پاک ایران بارڈر کمیٹی میں لائے۔

پاکستان ایک عشرے سے بھی زیادہ عرصے سے دہشت گردی کے عفریت کا شکار ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سب سے زیادہ ملبہ پاکستان پر ہی گرا۔شمالی وزیرستان وغیرہ میں بہت سے ایسے دہشت گردوں نے اڈے اور پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں جن کا تعلق غیر ممالک سے ہے اور جن کا آج کل پاکستانی فورسز صفایا کررہی ہیں۔ یہ آپریشن طویل غوروفکر کے بعد شروع کیا گیا اس سے پہلے دہشت گردوں کو راہ راست پر لانے کی ہر ممکن کوشش مختلف سطحوں پر کی گئی جو کامیاب نہ ہو سکی، دہشت گردی کے اس عفریت نے پاکستان کو 50ہزار قیمتی انسانی جانوں سے محروم کر دیا۔پاکستانی معیشت کو تباہ کر ڈالا، اب تک کم و بیش ایک سو ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ پاکستان نے یہ سب مالی و جانی نقصان ہمت اور حوصلے سے برداشت کیا ہے۔دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور وطن نہیں ہوتا وہ اپنے اہداف کو مدنظر رکھ کر کارروائیاں کرتے ہیں اور جہاں ممکن ہوتا ہے سرحدیں بھی عبور کر لیتے ہیں ، اس لئے ایران کا یہ الزام کہ ایران میں دہشت گردی کرنے والے پاکستان سے آتے ہیں، کسی طرح وزن نہیں رکھتا، یہ عناصر جو بھی ہیں یہ پاکستان کے لئے مصیبت بنے ہوئے ہیں اور پاکستان کو ان کی وجہ سے گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ وہ کسی سرحدی علاقے سے ایران کی حدود میں داخل ہو گئے ہیں تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ اس میں پاکستان ملوث ہے۔اور اس کی سزا پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو دی جائے،اگر کسی دہشت گرد نے کوئی کارروائی ایران کے اندر کی ہے تو وہ اسی طرح قابل مذمت ہے جس طرح پاکستان کے اندر کی جانے والی کارروائیاں قابل مذمت ہیں، لیکن ایرانی سیکیورٹی فورسز نے جس طرح پاکستانی علاقے میں گھس کر پاکستانی فورسز کو نشانہ بنایا اور ایک کو شہید اور 3کو زخمی کر دیا یہ ہر لحاظ سے افسوسناک ہے اور پاکستان کو ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ یہ معاملہ اٹھانا چاہیے....تازہ اطلاع یہ ہے کہ ایرانی سفیر کو دفتر خارجہ میں بلایا گیا ہے۔

نیو کلیئر مسئلے پر ایران جس طرح عالمی دباﺅ میں رہا ہے اور کسی حد تک اب بھی ہے اور اسے جس انداز کی بین الاقوامی پابندیوں سے واسطہ پڑا پاکستان نے اس سیاسی تنہائی کے دور میں ہمیشہ ایران کی سفارتی حمایت کی اور عالمی دباﺅ کے باوجود تجارت کا سلسلہ جاری رکھا، دونوں ملکوں کے درمیان گیس پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ بھی اس کی مثال ہے جو امریکہ اور مغربی ملکوں کو کسی طرح بھی پسند نہیں۔پاکستان مشکل اقتصادی صورت حال میں بھی ایران کے ساتھ کسی نہ کسی انداز میں تجارت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کی خوراک کی ضروریات بھی پوری کرتا رہا ہے۔ اگرچہ یہ سلسلہ یکطرفہ نہیںہے۔ ایران بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کرتا ہے اور دونوں ملک اسلامی رشتے میں بھی بندھے ہوئے ہیں، اس لئے اگر بلوچستان جیسا کوئی بھی واقعہ رونما ہوتا ہے تو یقینی طور پر یہ دکھ کا باعث بنتا ہے۔

یہ درست ہے کہ خارجہ امور میں ایران کی پالیسی اپنی ہے اسے حق حاصل ہے کہ اپنے بہترین مفاد میں جو بھی بہتر سمجھے وہ کرے، جن ملکوں سے چاہے تعلق رکھے، جن کو چاہے دشمن سمجھے اور جنہیں چاہے دوست بنا لے، ایران ایک قدیم ملک ہے انقلاب تو ابھی ساڑھے تین عشرے پرانی بات ہے اس ملک کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور ہر دور میں اس کی خارجہ پالیسی بدلتی رہی۔محمد رضا شاہ پہلوی کے دور میں ایران نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر رکھے تھے اور تہران میں اسرائیلی سفارت خانہ کام کررہا تھا۔امریکہ نے بھی ایران کو خلیج میں پولیس مین کا کردار سونپ رکھا تھا۔ شاہ کے خلاف ایرانی عوام کی نفرت کا ایک سبب امریکہ کو دی جانے والی غیر معمولی سہولتیں بھی تھیں۔انقلاب آیا تو انقلابی قائدین نے یہ ساری پالیسیاں ریورس کر دیں۔ لیکن یہ دونوں ادوار بہرحال ایران کی تاریخ کا حصہ ہیں۔اگرچہ موجودہ انقلابی قیادت ان کی ذمے دار نہیں وہ اپنے ملک کے لئے جو بہتر سمجھتی ہے کررہی ہے اب امریکہ اور اسرائیل اس کے دشمنوں کی فہرست میں صفِ اول پر ہیں اسی طرح پاکستان بھی ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے جو بہتر سمجھتا ہے کرتا ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کے کچھ پہلو اگر ایران کو پسند نہیں تو یہ اس کی رائے ہو سکتی ہے اس بنیاد پر پاکستان کو مطعون نہیں کیا جا سکتا، ایران کے لئے ہمارا مشورہ یہی ہے کہ وہ پاکستان کو برادر اسلامی ملک اور اچھا ہمسایہ سمجھے اور اپنی سیکیورٹی فورسز کو حق ہمسائیگی ادا کرنے پر مجبور کرے۔ پاکستان ایران کو دوست سمجھتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ وہ دشمنوں جیسے اقدامات سے گریز کرے گا۔

مزید : اداریہ


loading...