مقبوضہ کشمیر ،بڈگام میں حکومت کیخلاف سیلاب زدگان کے مظاہرے ‘ٹریفک معطل

مقبوضہ کشمیر ،بڈگام میں حکومت کیخلاف سیلاب زدگان کے مظاہرے ‘ٹریفک معطل

  



سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں ضلع بڈگام کے علاقے نارہ بل میں سیلاب متاثرین نے قابض انتظامیہ کی طرف سے ریلیف کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف ایک زبردست احتجاجی دھرنا دیا۔ دھرنے کے باعث نارہ بل ماگام سڑک پر ٹریفک کئی گھنٹے تک معطل رہی۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نارہ بل اور اسکے اطراف کے کئی دہیات کے سینکڑوں لوگوں نے دھرنے کے دوران بھارت اور قابض انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ دھرنے میں شریک لوگوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیلاب میں وہ اپنا سب کچھ گنوا بیٹھے ہیں لیکن قابض انتظامیہ کی طرف سے انہیں ریلیف کے نام پر معمولی سی رقم ادا کی گئی جسے انہوں نے لینے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کے رہائشی مکانات مکمل طور زمین بوس ہوگئے ہیں انہیں بھی ایک معمولی رقم تھمانے کی کوشش کی جا رہی ہے جوانکے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے۔ عبدلماجد بٹ نامی ایک شخص نے کہا کہ نارہ بل میں نقاصانات کا تخمینہ لگانے والی ٹیم نے جانبداری سے کام لے کر متاثرین کے حق پر شب خون مارا ہے کیونکہ بعض ایسے لوگوں کے نام بھی لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں جنکا سیلاب میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ انہوںنے کہا کہ ان لوگوں کے نام محض اس وجہ سے شامل کیے گئے ہیں کیونکہ یہ قابض انتظامیہ کے منظور نظر ہیں۔ حلیمہ نامی ایک بیوہ نے کہا کہ انکا مکان مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا ہے اور ریلیف کے نام پر ا±سے 12ہزار 6سو روپے دئے گئے ہیں۔خاتو ن نے بتایا کہ اس رقم سے ریت کی ایک گاڑی بھی خرید ی نہیں جاسکتی ہے مکان کی تعمیر کس طرح سے ممکن ہے۔

ادھر ضلع بانڈی پورہ کے علاقے ماہی گیر بستی ہروال پورکے رہائشیوں نے بھی قابض انتظامیہ کی طرف سے نظر انداز کیے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کہا کہنا تھا کہ ولر کے کنارے آباد تمام بستیوں کو سیلاب کے باعث شدید نقصان پہنچا ہے اور لوگوں نے ریلیف کیمپ میں پناہ لے رکھی ہے۔ عبدلکریم ڈار اور حاجی حبیب اللہ ڈار نامی افراد نے ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ کے دفتر کے باہر احتجاج کے دوران کہا کہ قابض انتظامیہ نے علاقے کے سیلاب زدگان کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ مستحقین کے بجائے قابض انتظامیہ کے حمایتیوںاور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں میں امداد چیک تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

مزید : عالمی منظر