اسرائیل نے مسجد اقصی میں یہودیوں کی جعلی قبریں بنانا شروع کر دیں

اسرائیل نے مسجد اقصی میں یہودیوں کی جعلی قبریں بنانا شروع کر دیں

  



مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی)اسرائیلی حکومت یہودی آباد کاروں کی انجمنوں کے ساتھ ملکر القدس الشریف کی تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے جعلی قبریں بنانا شروع کر دیں میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کےلئے نیا حربہ مسجد اقصی کے جنوب میں واقع سلوان کالونی کے السلودحہ کے علاقے میں یہودیوں کی جعلی قبروں تیار کی جا رہی ہیں اس اقدام کے ذریعے صہیونی حکومت میں یہودی مرداگان کی اکثریت ثابت کر کے علاقے کی اسلامی شناخت کو ختم کرنا چاہتی ہے۔اس امر کا انکشاف القدس کی عرب اسٹڈیز ایسوسی ایشن سے وابستہ سینٹر فار لینڈ ریسرچ نے جاری کردہ رپورٹ میں کیا۔ یاد رہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران اس قسم کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہودی تنظیمیں، اسرائیل میں سرگرم نیچر پروٹیکشن اتھارٹی کے ساتھ ملکر مسجد اقصی کی جنوبی سمت کی دیوار سے ملنے والے اموی محلات اور سلوان کالونی کے درمیانی علاقے میں پتھروں پر مبنی قبریں بنا رہی ہیں۔

ان قبروں پربقول رپورٹ، شش کونوں والا نجمہ داود اس طرح کنندہ کیا گیا ہے جس سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ قبریں ایک طویل مدت سے علاقے میں موجود ہیں تاکہ سیاحوں کو یہ باور کرایا جا سکے کہ یہ قبریں سنہ 1948 سے پہلے کی ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...