پھٹی کی رسد میں معمولی رکاوٹ کے باعث کاٹن مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

پھٹی کی رسد میں معمولی رکاوٹ کے باعث کاٹن مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

  



کراچی (آن لائن) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گذشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل وسپننگ اور کپاس کے نجی برآمد کنندگان کی جانب سے روئی کی خریداری میں دلچسپی کے ساتھ ہی ساتھ پھٹی کی رسد میں معمولی رکاوٹ کے باعث کاٹن مارکیٹ میں ملا جلا رجحان رہا۔ صوبہ پنجاب کے کپاس پیدا کرنے والے کئی علاقوں میں بارشوں کے باعث پھٹی کی رسد کم ہونے اور TCP کی جانب سے روئی کی 10 لاکھ گانٹھیں خریدنے کے اعلان کی وجہ سے کاشتکاروں نے پھٹی کی رسد محدود کردی جس کے باعث روئی کے بھاؤ میں اضافہ ہوگیا لیکن بعد ازاں بین الاقوامی کپاس منڈیوں چین‘ بھارت اور نیویارک کاٹن مارکیٹوں میں روئی کے بھاؤ میں کمی ہونے سے مقامی کپاس منڈی میں بھی روئی کے بھاؤ کم ہو گئے ۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ فی من 5200روپے کے بھاؤ پر مستحکم رکھا۔

صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 4800تا 5350روپے، پھٹی کا بھاؤ فی 40کلو 2200تا 2500روپے ،صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 5250تا 5350روپے، پھٹی کا بھاؤ 2450تا 2650روپے رہا۔ کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ٹی سی پی کے ذریعے روئی کی خریداری کے فیصلہ کے بعد روئی کی خریداری کیلئے ایجنٹوں کی تقرری کیلئے اخبارات میں اشتہار دینے سے کپاس کے کاشتکاروں کا حوصلہ بلند ہوااور کاشتکاروں نے پھٹی کی رسد محدود کردی جس کے باعث پھٹی کے بھاؤ میں اضافہ ہوگیا تھا لیکن بعد میں بین الاقوامی منڈیوں میں کپاس کے بھاؤ میں دباؤ کے باعث مقامی منڈی میں بھی روئی کے بھاؤ میں فی من 100 روپے کی کمی واقع ہوگئی۔ دریں اثناء کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی نے کپاس کی پیداوار کے تخمینہ میں 15لاکھ 40ہزار گانٹھوں کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس کے بعد کپاس کی پیدوار کا مجموعی تخمینہ ایک کروڑ 51لاکھ گانٹھوں سے کم کرکے ایک کروڑ 35لاکھ 39ہزار گانٹھ کردیا گیا۔ گذشتہ ہفتہ مقامی کاٹن یارن مارکیٹ میں بھی مندی کا رجحان رہا ،مارکیٹ میں زبردست مالی بحران ہے۔ CCACنے 15اکتوبر تک کپاس کی پیداوار کے اعداد وشمار جاری کئے ہیں جس کے مطابق اس عرصے میں ملک میں کپاس کی پیداوار 55لاکھ 44ہزار گانٹھوں ریکارڈ ہوئی ۔

مزید : کامرس


loading...