رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں بیرونی سرمایاکاری مایوس کن رہی

رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں بیرونی سرمایاکاری مایوس کن رہی

  



کراچی (این این آئی) رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں بیرونی سرمایاکاری مایوس کن رہی اسٹیٹ بینک کے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں بیرونی سرمایاکاری کیصورتحال مایوس کن رہی۔ گزشتہ سال کے مقابلے جولائی تا ستمبر 2014 بیرونی سرمایاکاری کے حجم 8 فیصد کمی سے 31 کروڑر ڈالر تک محدود رہا۔ سیاسی عدم استحکام اور توانائی بحران کے باعث جہاں براہ راست بیرونی سرمایاکاری 26 فیصد کمی سے 17 کروڑ ڈالر رہی وہیں دوسری جانب اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی پرکشش قیمتوں کے باعث عالمی سرمایاکاروں نے گزشتہ روزکے مقابلے 3 گنا زائد سرمایاکاری کی اور جولائی سے ستمبر کے دوران 18 کروڑ ڈالرز کے قریب شیئرز خرید ڈالے۔ذرائع کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران دوست ممالک مثلاً سعودی عرب اور چین کی جانب سے کی جانے والی غیرملکی سرمایہ کاری منفی میں رہی۔ دونوں ملکوں نے اس سہ ماہی کے دوران بالترتیب 3.9 ملین اور 14.6 ملین ڈالرز کی رقم واپس لے لی۔سب سے زیادہ مقدار میں 43 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری ہانگ کانگ کی جانب سے کی گئی، جو 169 ملین ڈالرز کی کل سرمایہ کاری کے 25 فیصد سے زیادہ ہے دیگر اہم سرمایہ کاری میں امریکا کی سرمایہ کاری کا حجم 41.5 ملین ڈالرز اور برطانیہ کا 36.6 ملین ڈالرز رہا دیگر یورپی ملکوں مثلاً سوئٹزرلینڈ، اٹلی اور فرانس نے بھی پاکستان میں سرمایہ لگایا تاہم پچھلے دس سالوں کے دوران پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری کاحجم انتہائی نچلی سطح پر گرگیا ہے، جس سے بین الاقوامی مارکیٹ میں ملکی ساکھ کو نقصان پہنچا ۔

مزید : کامرس


loading...