جمہوریت کے علمبردار کا امپائر کی انگلی پر ناچنے ،آمریت کی گود میں پلنے والوں سے مقابلہ ہے :بلاول بھٹو

جمہوریت کے علمبردار کا امپائر کی انگلی پر ناچنے ،آمریت کی گود میں پلنے والوں ...

  



    کراچی (سٹاف رپورٹر) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج جمہوریت کے علمبرداروں کا امپائر کی انگلی پر ناچنے والوں اور آمریت کی گود میں پلنے والوں سے مقابلہ ہے ،مساوات ہماری معیشت ہے ، جمہوریت ہماری سیاست ہے، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر کی شکل میں پاکستان کی دنیا بھر میں پہچان تھی ، وہ اس ملک کے غریب عوام کی بیٹی تھیں، وہ اس ملک میں آمریت کے خاتمے کا عزم لے کر آئیں ، یہ عزم انہیں شہید بھٹو نے دیا تھا، اور دنیا نے دیکھا کہ تیس لاکھ لوگ ان کی خاطر گھروں سے باہر آئے ، بلاول بھٹو نے کہا کہ لوگوں کو امید تھی کہ بے نظیر انہیں آمریت سے بچانے آئی ہیں ، مشرف کی پیداوار نے کہا تھا کہ رات 12 بجے 18 اکتوبر کا جلسہ ختم ہوجائے گا ، اور پھر بے نظیر کے قافلے پر خود کش بم دھماکہ کیا گیا ، دو سو جانثار قربان ہو گئے ، کراچی کی سڑکوں پر پیپلز پارٹی کا لہو پانی کی طرح بہایا گیا، اس دن ثابت ہوا کہ آج بھی بندوقوں والے نہتی لڑکی سے ڈرتے ہیں ،۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور حملے صرف ہم پر کیوں ہوتے ہیں ، گولی ہے تو صرف ہمارے لئے ، کوڑے ہیں تو صرف ہمارے لئے ، ایسا کیوں ہے ، کبھی اس ملک کے منتخب وزیر اعظم کو پھانسی دے دی جاتی ہے، کبھی مسلم امہ کی منتخب خاتون وزیر اعظم کو شہید کر دیا جاتا ہے ، یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں بم دھماکوں سے ڈرا لیں گے ، وہ سمجھ لیں کہ بھٹو کبھی ڈرتا نہیں ہے بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ پاکستان میں یا تو بھٹو ازم یا ضیاءاور مشرف آمریت کی باقیات ہیں ‘ نوازحکومت میں ضیا ازم گھس گیا ہے آخر دہشت گردی اورحملے صرف ہم پر ہی کیوں ہو رہے ہیں‘ بھٹو ازم بندوق کے ذریعے ایجنڈا مسلط کرنے والوں کے راستے میں حائل ہے‘ایک طرف بھٹو کے چاہنے والے تو دوسری طرف امپائر کی انگلی پر ناچنے والے ہیں‘ بی بی کے آصف اور بیٹے کو ملک میں جمہوریت کو بچانا ہے‘ آج جس سکرپٹ کا شور ہے کل بھی بھٹو کیخلاف یہی سکرپٹ تھا‘وزیر اعظم بتائیں کس نے انہیںاجازت دی کہ وہ پوری وفاقی حکومت کے وسائل دھرنا ختم کرنے پر لگا دیں‘ماڈل ٹاﺅن لاہور میں 22 لوگوں کو قتل ‘90 کو زخمی کرکے ایف آئی آر بھی انہی کے خلاف درج کرا دی‘ وزیر اعلیٰ پنجاب ضیاءکی پیداوار ہیں‘ ہمارا شیر کشکول بھرنے امریکہ گیا تھا بائیڈن کی تھپکی سے بلی بن کر واپس آ گیا‘پنجاب میں ترقی نام کی کوئی چیز نہیں‘عوام صرف شو بازی کی سکیموں کو گڈ گورننس نہیں مانتے ‘ ہمیں دکھاوا نہیں آتاکہ عام بس کو میٹرو بنا کر عوام کو دھوکہ دیں ‘کل ایک میٹرو کو یہ لوگ جہاز بنا کر عوام کو بے وقوف بنائیں گے ‘جتنا خرچہ بھارت نے مریخ پر سیارہ بھیجنے کےلئے خرچ کیا اس سے 3 گنا (ن)لیگ نے میٹرو پر لگا دیا‘کراچی پاکستان کا م معاشی حب ہے اسے کراچی کو دنیا کا عظیم شہر بنائیں گے ‘وزیر اعظم کراچی کو اس کا حق دیں “عدلیہ سے بھی شکایت ہے‘ دہشت گردی کیلئے خوف کی علامت پولیس افسران کی ترقی ختم کر کے ان کا قتل کیاجاتا ہے ‘20 سال سے ایم کیو ایم کراچی پر قابض ہے ‘ ہم کراچی کو یتیم نہیں چھوڑیں گے‘ بجلی کی قیمت آسمان تک پہنچ گئی‘ایران گیس پائپ لائن پالیسی جاری رہتی تو لوگ بل دیکھ کر خودکشی نہ کرتے‘ میں سب کو دعوت دیتا ہوں کہ ترقی کیلئے مل کرملک کی تقدیر بدل دیں۔، جنوبی پنجاب کو اس کے حقوق نہ دیئے گئے تو میں چھین کر حقو ق لوں گا۔30 نومبر کو لاہور میں پارٹی کا یوم تاسیس منایا جائیگا۔ پیپلز پارٹی کے ورکرز بتا دیں شیر کے شکار پر کب نکلنا ہے، کشمیر میں امن کا خواہش مند ہوں ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ کارکنان کے جوش اور جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ میں حضرت قائد اعظم کے مزار کے ساتھ کھڑا ہوں ‘ قائد اعظم نے ہمیں پاکستان کا تحفہ دیا لیکن قسمت نے انہیں وقت نہیں دیا کہ وہ ہمیں جمہوریت کا تحفہ دیتے لیکن پھر ذوالفقار علی بھٹو میدان میں آئے اور انہوں نے بابائے قائد کا خواب پورا کر دکھایا۔ ان کا خون سے آخود پرچم ان کی بیٹی نے اٹھایا۔ قائد اعظم سے لے کر قائد عوام ‘ پھر شہید جمہوریت ا و رآج سے لے کر ایک ہی مقصد ہے ہے کہ عوام کو ان کا حق دیا ہے۔ بلاول بھٹو نے زندہ ہے بھٹو زندہ ہے ‘ کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے کا نعرہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ دو قوتیں رہیں ایک بھٹو ازم اور دوسرے آمریت کی باقیات ‘ میں ان کو آمریت کی پیداوار قرار دیتا ہوں یہ ضیاءکی باقیات ہیں اور مشرف کی باقیات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام اور شہادت ہماری منزل ہے۔ بلاول نے کہا کہ 18 اکتوبر 2007ء وہ دن تھا جب آمریت کے مارے ہوئے لوگوں کو امید کی کرن نظر آئی تھی ۔ وہ وقت تھا جب بھٹو کی بیٹی اور پاکستان کی پہچان ‘بے سہارا ماﺅں کی بیٹی ‘ بہنوں کی بہن تھی اس ملک میں آمریت کے خاتمے کا عزم لے کر آئی وہ کیسے بھول جاتی کہ ذوالفقار علی بھٹو کی دی گئی جمہوریت ان سے چھین لی گئی ۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ 30 لاکھ لوگ ان کے لئے ایک نئی امید کے ساتھ نکلے ۔ وہ جانتے تھے کہ عظیم لیڈر انہیں دہشت گردی اور آمریت سے بچا لے گی لیکن آمریت کے پرستاروں نے جمہوریت کے چاہنے والوں کو خون آلود کر دیا۔ مشرف کے حامیوں نے یہ سب کچھ کیا مشرف نے پہلے کہا تھا کہ یہ جلسہ رات 12 بجے ختم ہو جائے گا اسے کیسے معلوم تھا کہ جلسہ اس وقت ختم ہو جائے گا۔ 200 جان نثار قربان ہو گئے۔ پیپلز پارٹی کا خون سڑکوں پر پانی کی طرح بہایا گیا اور پتہ چل گیا کہ لڑتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشت گردی اور حملے ہم پر کیوں ہو رہے ہیں۔ گولی ہے تو صرف ہمارے لئے ‘ ہمارے قائد عوام کو تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے کیا یہ تختہ دار صرف ہمارے لئے ہیں۔ کبھی مسلم امہ کی پہلی وزیر اعظم کو سرعام شہید کر دیا جاتا ہے ۔ کیا خودکش حملے میں تو صرف ہمارے لئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں پھانسیوں سے مار ڈالیں گے لیکن سمجھ لو کہ بھٹو کبھی ڈرتا نہیں ۔ ہماری ڈکشنری میں ڈر کا لفظ ہی نہیں۔ اس دور کے رسم و رواجوں سے ‘ ان تخت و تاجوں سے۔ میں باغی ہوں۔ ہاں میں باغی ہوں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے جیالے ضیاءدور کے پھندے کو چومتے ہوئے جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے ہوئے شہید ہوئے۔ اگر ہمارے ساتھ ظلم کی جھلک دیکھنی ہو تو جمہوریت کو سمجھنا ہو تو ان جیالوں کو دیکھو جو 18 اکتوبر 2007ءکو بے نظیر کی طرف بڑھے اور اپنی جان دیدی لیکن بے نظیر بھٹو کو تنہاءنہیں چھوڑا۔ مرتے وقت بھی جیالوں کے لبوں پر ایک ہی نعرہ تھا کہ اب راج کرے گی بے نظیر ‘ وزیر اعظم بے نظیر ‘ 27 دسمبر 2007ءمیں راولپنڈی میں سڑکوں پر لہو بہتا ہے تو ہمارا بہتا ہے۔ بھٹو ازم بندوق کے ذریعے ایجنڈا مسلط کرنے والوں کے راستے میں حائل ہے۔ بھٹو ازم پورے پاکستان کی بات کرتی ہے اور پورے پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ‘ پنجاب کی ماں ‘ سندھ کی شان ‘ بلوچستان کی جان اور کے پی کے کی آن گلگت بلتستان کی پہچان اور آزاد کشمیر کی زبان ہے۔ بھٹو ازم اس ملک کی زنجیر ہے۔ بلاول بھٹو نے کہاکہ اگر پیپلز پارٹی نہیں ہو گی تو روشنیاں آپ کے گھر کے راستے بھول جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ ایسا وقت نہ لائے۔ ایک طرف آمریت تو دوسری طرف بھٹو کے چاہنے والے ہیں ایک طرف ووٹ والے اور دوسری طرف امپائر کی انگلی پر ناچنے والے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جمہوریت نے عوام کو نیا پاکستان دیدیا ہے۔ ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ ہم نے ایک جمہوری پاکستان اور 1973ءکا آئین عوام کو دیا۔ ان کیلئے ہمارے بزرگوں نے جانیں قربان کیں۔ بھٹو کے دشمن ضیاءکا حقیقی بیٹا اور اس کے وارث ذو الفقار بھٹو کے بتائے ہوئے آئین پر عمل کرتے ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے ۔ بی بی کے آصف اور بیٹے کو ملک میں جمہوریت کو بچانا ہے۔ ملک میں سکرپٹ کا شور مچا ہے ۔ حکومت بے وس ہے ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے ۔ لوگوں سنو میں بتاتا ہوں کہ اصل سکرپٹ کا حصہ کیا ہے یہ سکرپٹ وہ ہے جس کے بارے میں ذوالفقار بھٹو نے کہا کہ میرے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ کل بھی سکرپٹ یہی تھا اور آج بھی وہی ہے۔ یہ لوگ ضیاءکی شکل میں کبھی ہمارے اوپر مسلط کئے جاتے ہیں کبھی آئی جے آئی کی شکل میں ًآتے ہیں ‘ کبھی فاروق لغاری کی طرح قومی غدار بن جاتے ہیں تو مشرف کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ پھر مشرف اور ضیاءکی شکل میں غدار مل کر 2007ءمیں بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیتے ہیں۔ آصف نے پاکستان کھپے اور بے نظیر کے بیٹے نے جمہوریت بہترین انتقام کا نعرہ لگا کر ملک کو زنجیر کی طرح جوڑا کبھی یہ لوگ امپائر کی شکل میں جمہوریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں کبھی نواز شریف کو جعلی مینڈیٹ دے کر لایا جاتا ہے کہ خان کو اپوزیشن لیڈر بنایا جائے تاکہ بھٹو کے نظام کو درہم برہم کیا جائے اور پاکستان میں سول وار شروع ہو جائے اس میں غیر ملکی قوتیں شامل ہیں جو پاکستان کو عراق اور شام بنانا چاہتے ہیں تاکہ خودکش بمبار تیار ہوں اور پاکستان سے اسامہ بن لادن نکلے ۔ یہ چاہتے ہیں کہ پھر پاکستان کے کسی حصے میں آئی ایس آئی ایس کا دفتر کھلے ‘ نوجوانوں کو یہ ساری باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے اگر اس ملک کو سول وار سے بچانا ہے تو اس کا حل صرف بھٹو ازم ہے۔ اس ملک میں صرف بھٹو کا نام چلے گا۔ جب تک سورج چاند رہے گا۔ بھٹو تیرا نام رہے گا۔ بلاول نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب میں آپ کو بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور آپ کو کس نے اجازت دی کہ ًآپ پوری وفاقی حکومت کے وسائل دھرنا ختم کرنے پر لگا دیں۔ پیپلز پارٹی نے بھی کٹھ پتلیوں کے دھرنے دیکھے لیکن ہم نے اپنی ذمہ دساریاں نہیں بھولیں۔ پاکستان میں کوئی اصل دھرنا تھا تو وہ میرے ہزارہ برادری کے بھائیوں کا تھا اور ہمارے وزیر اعظم خود چل کر ان کے پاس گئے۔ ہم نے اخلاقی بنیادوں پر اپنی ہی حکومت کو ختم کیا تھا لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب نے ماڈل ٹاﺅن میں کیا کیا؟۔ 22 لوگوں کو قتل اور 90 سے زائد کو زخمی کر دیا اور پھر ایف آئی آر بھی ان کے خلاف درج کرا دی۔ ہم مرہم رکھتے اور اپنی حکومت کر دیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب ضیاءکی پیداوار ہیں۔ تمہی مدعی اور خود ہی منصف ہو ۔ وزیر خارجہ اور کٹھ پتلیوں تمہی اس کے ذمہ دار ہو۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب میں ہر طرف گلو بٹ گلو بٹ ہی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان موجودہ حکومت کے باعث خارجہ پالیسیوں میں ناکام ہو رہا ہے۔ ہمارا شیر کشکول بھرنے امریکہ گیا تھا لیکن بائیڈن کی تھپکی سے بلی بن کر واپس آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھٹو ازم سے سبق سیکھنا اور باہمی اختلافات ختم کرنا ہوں گے۔ پنجاب میں ترقی نام کی کوئی چیز نہیں۔ دوسری جانب سندھ میں پیپلز پارٹی کے علاوہ 63 سالوں میں تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ پنجاب میںتو قیام پاکستان سے پہلے خوشحالی تھی اور اس کے اوپر سارا سرمایہ حکمرانوں نے لگا دیا اب وہ چھوٹے صوبے سے اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے لوگوں کو روزگار اور تعلیم دی آئندہ بھی دیں گے، ہزاروں بے زمین ہاریوں کو زمیندار بنایا ہے، چند طاقتیں پیپلز پارٹی کے ترقیاتی کام دکھانا نہیں چاہتیں، عوام صرف شو بازی کی سکیموں کو گڈ گورننس نہیں مانتے یہ صرف عوام کی خدمت کرنے سے آتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور اقتدار کی وجہ سے پاکستان چینی اور گندم بر آمد کر رہا ہے، ہمیں دکھاوا نہیں کیا کہ عام بس کو میٹرو بنا کر عوام کو دھوکہ نہیں دیا، کل ایک میٹرو کو جہاز بنا کر عوام کو بے وقوف بنائیں گے اور پھر ایک جہاز کو راکٹ بنا کر مریخ پر بھیجنے کا ڈرامہ رچائیں گے۔ جتنا بھارت نے مریخ پر سیارہ بھیجنے کےلئے خرچ کیا ،(ن)لیگ کی حکومت نے اس سے تین گنا زائد رقم خرچ کر کے میٹرو کا ڈھونگ رچایا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو ازم غربت کے خلاف جہاد کا نام ہے، سب سے زیادہ روزگار پیپلز پارٹی نے عوام کو دیا۔ انہوں نے نعرہ لگایا کہ بی بی کا بیٹا آئے گا، روزگار لائے گا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی پاکستان کا م معاشی حب ہے ‘ کراچی کو دنیا کا عظیم شہر بنائیں گے ‘ کراچی میں لاہور سے دوگنا زیادہ آبادی ہے لیکن پولیس لاہور سے دوگنا زیادہ ہے ۔ پیپلز پارٹی حکومت کی وجہ سے کراچی میں جرائم کی شرح انتہائی کم ہے کراچی میں واشنگٹن ‘ کیپ ٹاﺅن اوردیگر شہروں کی نسبت جرائم کی شرح کم ہے ۔نیا سندھی غم زدہ ہے کہتا ہے کہ ظلم کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہمیں ہمارا حق دیں ۔ کراچی سپیشل کیس اور میگا سٹی ہے اسے خصوصی پیکج دیا جائے۔ پاکستان کے دشمنوں ‘ آمریت کے پجاریوں ‘ جوڈیشل مافیا سمیت کئی مافیاز ہیں۔ مجھے عدلیہ سے بھی شکایت ہے۔ دہشت گردی کیلئے خوف کی علامت پولیس افسران کی ترقی ختم اور ان کا قتل کر دیاجاتا ہے اور میںدہشت گردوںسے کہتاہوں کہ سندھ کو سبوتاژ کرنا بندکر دیں۔ ہم غربت اور جہالت کے خلاف جہاد کرنے کو تیار ہیں۔ ذوالفقار بھٹو کی طرح پوچھتا ہوں جہاد کرو گے ‘ لڑو گے ‘ مرو گے۔ بلاول نے کہا کہ ایم کیو ایم 20 سالوں سے کراچی پر حکمرانی کر رہی ہے اور کراچی کے ساتھ جو کچھ ہوا ہم جانتے ہیں۔ اب پاکستان تحریک انصاف کراچی کی ایم کیو ایم بننا چاہتی ہے ہم ناامید نہیں ہیںکراچی کو یتیم نہیں چھوڑیں گے۔ صرف بھٹو کا نظام کراچی کو بدلے گا۔ پورے ملک میں آج دھاندلی کا شور ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے خلاف تو ہمیشہ دھاندلی ہوتی رہی ہے لیکن ہم کسی تحریک کا حصہ نہیں بنے نہ ہی ہم کسی امپائر کی انگلی پر ناچتے ہیں۔ کٹھ پتلی وزیر اعظم کے آنے تک یہ سکرپٹ ختم نہیں ہو گا۔ کراچی والو 2018ءمیں شفاف انتخابات ہوں گے تو کراچی کو حقیقی آزادی ملے گی اور یہاں بسنت کا سماں ہو گا اور کارکنان نے یہ شہر کراچی بھٹو کے نعرے بھی لگائے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت آسمان تک پہنچ گئی۔ اگر وزیر اعظم آصف علی زرداری کی ایران گیس پائپ لائن پالیسی جاری رکھتے تو لوگ بل دیکھ کر خودکشی نہ کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ 50ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر کے پورے ملک کو بجلی فراہم کر سکتا ہے اور ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ وزیر اعظم کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں آج ہم مل کر پاکستان کی تقدیر بدل دیں ایم کیو ایم کو مل کر کام کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ہم مل کر کام کریں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ خدانخواستہ سندھ میں ایپولا وائرس آیا تو سندھ کا بچہ بچہ ای م کیو ایم کا جینا حرام کر دے گا پھر میں بھی آپ کو نہیں بچا سکوں گا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم غریبوں کو حق دیتے ہیں توہم پر چور ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور ہماری جان لینے پر تلے رہتے ہیں۔ کرپشن کا نعرہ تو ایک بہانہ ہے اس کا اصل مقصد لوگوں کی خدمت سے روکنا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سب کو کام کرنا ہو گا۔ وزیر اعلیٰ سمیت سب کو کارکردگی اور شفافیت دکھانا ہوگی۔ میں حکومت سندھ سے گزارش کرتا ہوں کہ ملازمتوں کیلئے درخواستیں اور ٹینڈرز آن لائن مانگیں۔ بیورو کریسی کو اپنا انداز بدلنا ہو گا۔ وزیر اعظم صاحب اس سے پہلے ملتان، سرگودھا، سیالکوٹ، منڈی بہاﺅالدین کے جیالوں کا احتساب شروع کر دیں لیکن شفافیت آپ کےلئے ضروری ہے لیکن اس کا حساب دے دیں تو آپ کے اکاﺅنٹنٹ اور میٹر چیکر نے آپ اور اپنے دوستوں میں بانٹا۔ بلاول نے کہا کہ وہ پاکستان اور دوہرا معیار کیوں ہے، پاکستان کے مختلف حصوں سے آنے والوں نے آبپارہ چوک پر کوئی کنسرٹ رکھا نہ امپائر کی انگلی پر ناچے ہیں۔ وہ کچھ پتلی دھرنا دیتے ہیں تو میڈیا سر پر اٹھا لیتا ہے لیکن بلوچوں کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ بھٹو ازم کی وجہ سے بلوچستان میں حقیقی انقلاب آ رہا ہے۔ آج کل بڑی بڑی تقریر یں کی جاتی ہیں، ایک طرف انکل الطاف ہیں جو دل میں آتا ہے بول دیتے ہیں، دوسری طرف اسلام آباد میں بیٹھے کٹھ پتلی سول نافرمانی کے نعرے لگاتے ہیں یہ حق آپ کو کس نے دیا۔ اگر ملک میں آمریت ہوتی تو نواب اکبر بگٹی کی طرح آپ کو ایف16 طیارے سے اڑا دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ میں جب کشمیر کی بات کرتا ہوں تو مجھے غلط نہ سمجھا جائے، میں بھی امن کی تلاش میں ہیں، ہم مسئلہ کشمیر کے ہاتھوں مذاکرات کو یرغمال نہیں بنانے دیں گے لیکن اس مسئلے کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بنے گا پاکستان، میں بیٹا ہوں بے نظیر کا۔ بلاول نے کہا کہ فوج وزیرستان میں ہماری سلامتی کی جنگ لڑ رہی ہے لیکن صرف طاقت سے جنگ نہیں جیتی جا سکتی جبکہ آمریت کے پیروکاروں نے ہر کام طاقت کے ذریعے کرنے کی کوشش کی۔ مشرف نے ہر کام طاقت سے کیا کیونکہ اس کے پیچھے بھٹو ازم نہیں تھا۔ آپریشن براہ راست اس لئے کامیاب ہوا کیونکہ اس کے پیچھے عوام تھے۔ افسوس ہے کہ سٹیٹس کو اور کچھ پتلی سیاستدان خوفزدہ ہیں، وہ حکیم اللہ محسود کےلئے آنسو تو بہا سکتے ہیں لیکن فوج کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔ یہ اسلام آباد میں بیٹھے جب کھڑا ہونے کا وقت آیا تو یہ بیٹھ گئے۔ یہ لوگ فوج کی پیٹھ میں چھرے گھونپ رہے ہیں،بزدلو، دھرنے کی ہیلمٹ سے منہ باہر نکالو اور جا کر خیبرپختونخواہ کے عوام کی خدمت کرو۔ اگر طالبان سے ڈر لگتا ہے تو آئی ڈی پیز کی خیر لو، آپ تو 90دن میں کرپشن ، دہشت گردی ختم کر کے نیا پاکستان بنانے نکلے تھے، آپ نیا پاکستان کیا بناتے ،آپ کو نیا خیبرپختونخواہ بھی نہیں سنا سکے، ہم 37 سالہ سیاست میں امپائر کی انگلی پر نہیں ناچے۔ پاکستان تحریک انصاف نہیں بلکہ امپائر کےلئے انصاف ہے۔ آپ صحت کے نام پر جو دھجیاں بکھیر رہے ہیں، وی آئی پی کے جہاز کا احتساب تو کرلیں کیا یہ سیاست ہے، سیاست سیکھنی ہوتو بھٹو ازم سے سیکھیں، ہم آپ کو سونامی سے متاثرہ لوگوں کی خدمت سکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب جاری ہے اور ہم جیتیں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت ہمارے ہاتھوں میں ہاتھ نہیں دے گی تو امن ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے،پنجاب حکومت ساتھ نہیں دے گی تو امن خواب بن جائے گا ۔ اگر جنوبی پنجاب کو اس کے حقوق نہ دیئے گئے تو میں چھین کر حقو ق لوں گا۔30 نومبر کو لاہور میں پارٹی کا یوم تاسیس منایا جائیگا۔ پیپلز پارٹی کے ورکرز بتا دیں شیر کے شکار پر کب نکلنا ہے۔ ، مزار قائد پر جلسے سے خطاب میںپاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ قدم بڑھائیں اور ہمارا ساتھ دیں تاکہ بے نظیر کا پاکستان بن جائے، اس کے لئے ہمیں کوئی التحریر سکوائر بنانے کی ضرورت نہیں ہے، یہ سب کچھ سیاسی طریقے سے ہو جائے گا،ملک میں ایک ہی پارٹی ہے جو سب کو للکارتی ہے اور حق و سچ کی بات کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کا جلسہ یا کارنر میٹنگ ہوتی ہے تو بہت سی طاقتیں باتیں کرنے آ جاتی ہیں، کچھ دن پہلے انصاف کا نام لینے والی پارٹی نے ہم پر ڈاکہ مارا ہے، میں کہتا ہوں کہ اس شخص نے اپنے باپ کے الفاظ کی لاج نہ رکھتے ہوئے ہم پر شب خون مارااور میں کہتا ہوں کہ واپس آجاﺅ، ان کے والد نے کہا تھا کہ کبھی پیپلز پارٹی نہ چھوڑنا مگر طاقت کی چمک دیکھ کر انہوں نے چھلانگ مار دی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ مدرسہ ہمارے بڑوں نے بنایا تھا مگر اس کے لئے کوئی چندہ نہیں لیا گیا، اسی ادارے سے قائد اعظم نے تعلیم حاصل کی مگرہم نے کبھی ان کاموں کو سیاست کے لئے استعمال نہیں کیا کیونکہ یہ ہمارا فرض ہے مگر یہاں کچھ لوگ یونیورسٹی اور ہسپتال بنا کر اس کے نام پر نوجوانوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں مگر وہ ہمیں بے وقو ف نہیں بنا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف پہاڑوں پر جنگ ہو رہی ہے تو دوسری طرف بھارت ہماری سرحد پر حملے کر رہا ہے مگر آپ نے اسلام آباد میں ڈرامہ لگا رکھا ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ آئیں پاکستان کو لاحق خطرات کی بات کریں، آئیں بچوں کے مستقبل کی بات کریں، آئیں مل بیٹھ کر سوچیں ، آپ نے ڈکٹیٹر کے ریفرنڈم میں حصہ لیا تو کہتے ہیں کہ غلطی ہو گئی مگر ہم جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ ملے ہو، ہمیں سب معلوم ہے ان جلسوں کے لئے پیسہ کہاں سے آ رہا ہے مگر ہم خاموش رہیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی کے پاس ہر مشکل کا حل موجود ہے، اگر اگلی بار موقع ملا تو ہر کسان کو سولر ٹیوب ویل دیں گے اور اس کی قیمت بھی نہیں لیں گے، کسانوں کو ان کی فصلوں کی کئی گنا زیادہ قیمت دیں اور عوام کو کم ترین قیمت پر بیچیں گے تا کہ ان کو جمہوریت کے ثمرات ملیں جس کے لئے انہوں نے قربانیاں دی ہیں۔ آصف زرداری نے کہا کہ ہمیں اللہ نے سب کچھ دیا ہے ، ہمارے پاس کمی ہے تو بس مل بیٹھ کر بات کرنے کی عقل نہیں ہے، ہمیں مل کر بیٹھنا ہو گا، ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اس دن سے ڈرتا ہوں جب سوات میں اٹھنے والے وہ لوگ یہاں ہمارے گھروں تک آ جائیں گے، میں اس قوم کے مستقبل کے لئے لڑ رہا ہوں ، اگر ہم سب اس کے لئے مل کر کھڑے ہو جائیں گے تو پھر ہمیں کسی سہارے کی ضرورت نہیں رہے گی، ہمارا ملک آئی ایم ایف کے بغیر چل پڑے گامگر اس کے لئے ہر کسی کو مفاہمت کے ذریعے ساتھ ملانا ہو گا، آپس میں سیاسی اکھاڑہ بنا کر ایک دوسرے کو کمزور کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

کراچی (سٹاف رپورٹر)پیپلز پارٹی کے رہنما میاں منظور وٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ لاہور میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے سب سے بڑاجلسہ کیا جس کا ریکارڈ کوئی نہیں توڑ سکا ، جو لوگ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی سندھ تک محدود ہے آج میں انہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ کشمیر سے کراچی تک پارٹی کے جھنڈے لہرا رہے ہیں ، اور میں پنجاب سے آنے والے دوستوں کو مبارکباد دیتا ہون ، میں ان کی وفاداری کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، انہوں نے کہا کہ بزدل لوگ کاروباری ہوسکتے ہیں تاجر ہوسکتے ہیں ،بہادر نہیں ہوسکتے ، پاکستان پیپلز پارٹی بہادروں کی جماعت ہے ، بے نظیر نے سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ، آج بہادروں کی اولاد بلاول بھٹو میدان میں آیا ہے ،لوگ تلاش کر رہے تھے کہ محترمہ کی شہادت کے بعد کوئی بھٹو میدان میں آئے آج بلاول میدان میں آگیا ہے اور انشا اللہ یہ میدان مارے گا۔پیپلز پارٹی کے رہنما صادق عمرانی ، خانزادہ خان اور اخونزادہ چٹان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی کامیابی سے مخالفین کی نیندیں اڑ گئی ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے آج فخر کا مقام ہے کہ ہم بھٹو کا مشن آگے لے کر چل رہے ہیں۔ صادق عمرانی نے کہا کہ ہم ایک ہیں اور ملک کی ترقی کیلئے کام کر رہے ہیں ، خانزادہ خان نے کہا کہ عمران خان نے ملک میں دھاندلی کا شور مچا رکھا ہے میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اگر ملک میں دوبارہ الیکشن کے دوران اتنی سیٹیں جیت لیں تو میں پارٹی رہنماﺅں کی جانب سے دی جانے والی ہر سزا بھگتنے کو تیار ہوں ، زمرد خان نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان کے دشمنوں کو چیلنج کیا تھا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی ہیں وہ جان دے دیں گی لیکن اس ملک کی آزادی اور اس کی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دیں گی ، آج اس ملک میں آزادی محترمہ کے خون کی وجہ سے ہے جس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اخونزادہ چٹان نے کہا کہ ملک دشمن جان لیں محترمہ کی شہادت کے بعد بلاول بھٹو ان کا مشن آگے لے کر چل رہے ہیں اور ہم سب ان کے ساتھ ہیں۔ اعتزازا حسن نے کہا کہ آج کے جلسے سے کارکنوں میں استحکام پیدا ہوا ، آج کا جلسہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم جب میدان میں اترتے ہیں تو کھیل کا ماحول تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ شہید بھٹو، شہید محترمہ بے نظیر کے خون سے کھینچی گئی ایک داستان ہے جو آج بھی پرعزم ہے ، آج کا جلسہ ایک سنگ میل ہے اور 18 اکتوبر کے شہدا اور غازیوں کی حوصلہ افزائی کے طور پر منعقد ہوا ہے ،۔بلاول بھٹو کی سیاسی زندگی کا پہلا عظیم ترین جلسہ ہے ، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم کس امتحان سے گزر رہے ہیں ، ہمیں آج یہ عزم کرنا ہے کہ ہم ملتان کے انتخاب کو ہم جمہوری انداز میں قبول کریں گے اور جمہوری روایات کے مطابق اس کو یکسر تبدیل کریں گے اس کیلئے محنت درکار ہو گی ، اس کیلئے کام کرنا ہو گا ، میں کہنا چاہتا ہوں کہ آج کارکن پرجوش ہیں ، اور امید کرتے ہیں کہ اپنی طرح جوان خون کو اس پارٹی میں شامل کریں گے ، جو بھی سینئرز ہیں ان کو پیچھے بٹھائیں اور نوجوانوں کو آگے لائیں ، خواتین کیلئے منشور لائیں ، سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جیالوں کو جنہوں نے 18 اکتوبر کو جان کا نذرانہ پیش کیا میں ان کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں ، اسی میدان میں کارکن اپنی قائد کے استقبال کیلئے جمع ہورہے تھے ، لاکھوں انسانوں کا سمندر تھا لیکن ایک سازش کے تحت اس قافلے پر شب خون مارنے کی کوشش کی گئی۔ تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ لوگ بم دھماکے کے بعد پہلی مرتبہ اپنی قائد کی خیریت دریافت کرنے کیلئے ان کی طرف بھاگے ، یہ کارکنوں کا جنون ہے ، آج ایک اور بھٹو میدان میں آچکا ہے۔ بلاول آج جمہوریت کا علم بلند کرنے میدان میں آیا ہے،سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کی رہنما فہمید ہ مرزا نے کہا ہے کہ جب تک یہ عوام زندہ ہے جمہوریت کوکوئی خطرہ نہیں، پیپلزپارٹی چاروں صوبوں کی تقدیر ہے، بےنظیرکے واپس وطن آنے پرپوراپاکستان خوش تھا، لیکن دشمنوں کویہ خوشی راس نہ آئی، فہمیدہ مرزا نے کہا کہ بلاول بھٹومیرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں، یہاں موجودہر بچہ،بڑابلاول بھٹو کی آوازپرلبیک کہتاہے،سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ جمہوریت پاکستان کی سالمیت کی ضامن ہے، جمہوریت صوبائی خود مختاری اور عوام کو روزگار فراہم کرتی ہے، آج بلاول بھٹو نے اپنے نانا کا انقلابی پرچم اٹھالیا ہے جو انہوں نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے محترمہ بے نظیر بھٹو کو تھمایا تھا، انقلاب دھرنوں سے نہیں جانوں کی قربانیاں دینے سے آتا ہے،سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ہمارا کسی سے مقابلہ نہیں ہے، ہم 18 اکتوبر کا دن منا رہے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پیپل پارٹی اور پاکستان کے عوام لازم و ملزم ہیں، 18 اکتوبر کو محترمہ نے جلسہ کرنا تھا لیکن جمہوریت مخالف قوتوں نے سازش کی، جتنی سازشیں کرنی ہیں کر لو! اب خلق خدا راج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہر جگہ جلسے کر کے عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، ہمارا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے، ہم 18 اکتوبر کا دن منا رہے ہیںسابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو شہید کا ایجنڈا بلاول بھٹو پورا کریں گے، جلسے سے ثابت ہو گیا کہ پیپلز پارٹی چاروں صوبوں کی زنجیر ہے، مستقبل کا وزیراعظم بلاول بھٹو ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو فیڈریشن کی نشانی ہیں اور وہ بینظیر بھٹو شہید کا مشن پورا کریں گے۔یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اس وقت ملک نیوکلیئر پاور اور آئین کی بدولت قائم ہے، وہ آئین جو ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو دیا، بینظیر شہید نے آمریت کا مقابلہ کیا اور ملک کو جمہوریت دی، میزائل ٹیکنالوجی دی، محترمہ شہید سے کیا گیا وعدہ 1973ءکا آئین بحال کر کے پورا کیا، انہوں نے بلاول بھٹو کو تمام تنظیموں کو تحلیل کرنے کا مشورہ بھی دیا اور کہا کہ تمام تنظیموں کو ازسرنو بنایا جائے

مزید : صفحہ اول


loading...