شیخ رشید کا نیا لقمہ، شٹر، پہیہ جام، کیا یہ نیا منصوبہ ہے؟

شیخ رشید کا نیا لقمہ، شٹر، پہیہ جام، کیا یہ نیا منصوبہ ہے؟
شیخ رشید کا نیا لقمہ، شٹر، پہیہ جام، کیا یہ نیا منصوبہ ہے؟

  



تجزیہ، چودھری خادم حسین

فرزند ِ راولپنڈی شیخ رشید نے تحریک انصاف کے سرگودھا میں ہونے والے ایک بڑے جلسے سے متاثر ہو کر عمران خان کو پھر ایک نئی لائن دے دی اور یہ بھی ویسی ہے جیسی اس سے پہلے دی جاتی رہی اور ناکامی کا سامنا رہا، شیخ رشید باتوں کے ماہر ہیں ان کو لفاظی آتی ہے۔ وہ بڑی عید سے قبل قربانی کی بات کرتے رہے، پھر ان کی طرف سے تصادم کی کئی باتیں کی گئیں۔ یہ تو حکومت کی حکمت عملی یا مجبوری تھی کہ تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے ہر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ شاہراہ دستور پر دھرنا ابھی تک جاری ہے، اس دوران قومی دفاتر اور عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس کو مارا گیا، پی ٹی وی پر قبضہ کیا گیا، اس کے باوجود اس پیمانے پر فساد یا تشدد نہ ہو سکا، جس کی ضرورت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، حکمران جلد سنبھل گئے اور ریاستی قوت کے استعمال کو قطعاً بھول گئے۔ یوں بقول سراج الحق ڈی چوک میں نعشیں نہ گر سکیں اور مارشل لاءلگوانے کے مقاصد پورے نہ ہوسکے، حالانکہ شیخ رشید تو برملا کہتے رہے ہیں۔

اب ان کی طرف سے پھر ایک شوشا چھوڑا گیا، انہوں نے سرگودھا کے جلسے میں اعلان کر دیا کہ عمران خان محرم الحرام کے مہینے میں ملک گیر سطح پر شٹر ڈاﺅن اور پہیہ جام کی کال دینے والے ہیں، حالانکہ عمران خان نے تو اپنے حامیوں اور کارکنوں سے کہا کہ وہ تیاری کریں۔ اگلا سال انتخابات کا ہے اور وہ دو ماہ بعد نیا لائحہ عمل دیں گے۔ اب اگر یہ بھی شیخ رشید والا ہے تو پھر ایک نئی صورت حال ہے، کیونکہ یہ امر محال است والی بات ہے۔ ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ تو1977ءمیں پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کے دوران نہیں ہوا کہ پورا ملک بند ہو گیا ہو، حالانکہ حکومتی رٹ کئی حوالوں سے نظر نہیں آتی تھی اس کے باوجود مذاکرات ہوئے اور کامیابی کو سبوتاژ کر دیا گیا، اس حقیقت کو تسلیم کیا جا چکا ہوا ہے۔ تحریک کی اعلیٰ قیادت اور مذاکرات والی ٹیم کے قریباً سبھی رہنما کہہ چکے ہوئے ہیں کہ جنرل ضیاءالحق نے غلط مارشل لاءلگایا تھا، اس لئے یہ تو ممکن نہیں ہو گا کہ ملتان اور سرگودھا یا پھر ایک دو دوسرے جلسوں کے اثرات اتنے ہی زیادہ مرتب ہو چکے ہیں کہ ایک بیان پر پورا ملک ہی بند ہو جائے گا کہ اگر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کو پذیرائی ملی ہے تو ابھی 11جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے پارلیمنٹ میں ان کی مخالفت کی تھی۔ یہ اعلان اور صورت حال کشیدگی پیدا کرنے کی شعوری کوشش ہے کہ جلسے آئینی حق ہیں اور سیاست میں کئے جا سکتے ہیں۔

بہرحال اطلاع یہ ہے کہ حکمرانوں نے مشاورت کی اور فیصلہ کیا کہ دھرنے بالکل ختم کرانے کے لئے پہلے عوامی تحریک اور پھر تحریک انصاف سے دوبارہ مذاکرات کئے جائیں اور مفاہمت سے ان کو اٹھوایا جائے۔ ایسا ہونا چاہئے اور دونوں جماعتوں کو دھرنے ختم کرنے کے لئے باعزت راستہ ملنا چاہئے۔ ویسے ایک تجزیئے سے اتفاق کرنے کے لئے ذہن مجبور کرتا ہے کہ یہ جلسے اور مہم عام انتخابات کرا سکے یا نہ، آئندہ بلدیاتی انتخابات پر یقینا اثر انداز ہو گی اس سلسلے میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کو فائدہ ہو رہا ہے۔ اب پیپلزپارٹی بھی شاید اپنی ساکھ ہی بحال کرنے کے لئے میدان میں آئی اور بڑا شو کیا ہے، جو اس جماعت کے لئے ضروری بھی ہے کہ گرے ہوئے گراف کو اٹھانا ہے ۔ اوپر لانا ہے یہ بات طے شدہ ہے کہ اب بلدیاتی انتخابات زیادہ دیر تک ٹالے نہیں جا سکیں گے۔

اس صورت حال میں مسلم لیگ(ن) کی پوزیشن اور حیثیت کیا ہو گی اور اس کا ووٹ بنک کتنا متاثر ہوا۔ فی الحال کچھ کہا نہیں جا سکتا البتہ یہ تجویز کیا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) بھی اس حوالے سے مشاورت کر کے لائحہ عمل طے کرے۔ عام انتخابات نہ سہی بلدیاتی انتخابات تو ہونے ہیں اور یہ جماعتی سطح پر ہی ہوں گے۔

مزید : تجزیہ