دھرنوں سے معاشی ساکھ متاثر ہوئی، عالمی سرمایہ کار دیا میز بھاشا پر سرمایہ کاری سے ہچکچا رہے ہیں اسحٰق ڈار

دھرنوں سے معاشی ساکھ متاثر ہوئی، عالمی سرمایہ کار دیا میز بھاشا پر سرمایہ ...

  



                                اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دھرنے کی سیاست سے پاکستان کی معاشی ساکھ کو متاثر ہونے سے عالمی سر مایہ کار دیامیر بھاشا منصوبے پر سرمایہ کاری کےلئے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، اس کے باوجود پاک امریکہ سرمایہ کاری کانفرنس کا منعقد ہونا پاکستانی معیشت کی ترقی پر اعتماد کا اظہار ہے، ہم پاکستان میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھا کر جی ڈی پی کے مقابلے ٹیکس کی شرح میں اضافے کے خواہشمند ہیں، ٹیکس اصلاحات کمیشن کی سفارشات پارلیمنٹ میں پیش کریں گے اور پارلیمنٹ کی منظوری سے ان پر مکمل عملدرآمد ہو گا۔ وہ ہفتہ کو یہاں ٹیکس اصلاحات کمیشن کے پہلے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ ہفتے کے روز ٹیکس اصلاحات کمیشن کا اجلاس وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ،ایف بی آر ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوا، جس میں چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے ٹیکس نظام اور ٹیکس وصولیوں کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر خزانہ نے کمیشن کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کے ارکان کو چاہیے کہ اپنی طرف سے عملی تجاویز پیش کریں جبکہ ٹیکس اصلاحات کمیشن کی سفارشات پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی اور وہاں سے منظوری کے بعد ان پر مکمل عملدرآمد ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور کلائنٹ فرینڈلی ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں، موجودہ حکومت پاکستان ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کر کے جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرنا چاہتی ہے،ہمیں بالخصوص عدالتوں میں زیر التواءٹیکس مقدمات کی درست پیروی کی حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو تمام عالمی مالیاتی ادارے کہہ رہے تھے کہ پاکستانی معیشت 30جون 2013ءتک دیوالیہ ہو جائے گی تاہم ہماری حکومت نے سب سے پہلے کفایت شعاری کے اقدامات کے طور پر حکومتی اخراجات میں 30فیصد تک کمی کی جبکہ ہماری اقتصادی اصلاحات کے نتیجے میں آج موڈیز، سٹینڈرڈ اینڈ یور سمیت تمام عالمی ریٹنگ ادارے ایک ترقی کرتی ہوئی معیشت قرار دے رہے ہیں جبکہ گولڈمین سیشنز کے اکاﺅمسٹ جم نیل اور بی بی سی نے پیشنگوئی کی ہے کہ 2050 میں پاکستانی معیشت 44 ویں پویشن سے ترقی کر کے دنیا میں 18ویں نمبر پر آ جائے گی۔ اس کے علاوہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی پاکستانی معیشت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، حال ہی میں دیامیر بھاشا ڈیم منصوبے کےلئے پاک امریکہ سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد بھی پاکستانی معیشت پر اعتماد کا اظہار ہے تاہم پہلے قدم پر عالمی سر مایہ کار اس منصوبے پر سر مایہ کاری کےلئے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں کیونکہ دھرنے کی سیاست نے بیرون ملک پاکستانی معیشت کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ چیئرمین ٹیکس اصلاحات کمیشن سید مسعود علی نقوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میثاق جمہوریت کی طرح”میثاق معیشت“ کی ضرورت ہے، یہاں وسائل کی کمی نہیں بلکہ اصل مسئلہ وسائل کو استعمال کرنے کا ہے

اسحق ڈار

مزید : صفحہ آخر


loading...