جسم فروشی میں ملوث شخص کمسن لڑکی کو بیاہ کر کراچی فرار، پولیس نے ملزم کو پکڑ کر لاکھوں کمائے اور آزاد کر دیا

جسم فروشی میں ملوث شخص کمسن لڑکی کو بیاہ کر کراچی فرار، پولیس نے ملزم کو پکڑ ...
جسم فروشی میں ملوث شخص کمسن لڑکی کو بیاہ کر کراچی فرار، پولیس نے ملزم کو پکڑ کر لاکھوں کمائے اور آزاد کر دیا

  



لاہور(ملک خیام رفیق)گیارہ شادیاں کرنے والے نے نادرہ کی ملی بھگت سے کمر عمر بچی کا جعلی شناختی کارڈ تیار کر واکر ایک اور شادی کر لی،جسم فروشی کا دھندہ کرنے والا لاہور کی14سالہ فاطمہ کنول کو کراچی لے اڑا ،مقدمہ کے اندراج کے باوجود ہاتھ آئے ملزم کو پولیس نے ساز باز کر کے عدالت میں بے گناہ قرار دلوا کر لاکھوں کما لئے ،آٹھ بچیوں کا باپ کمسن بیٹی کو جسم فروشوں کے چنگل سے نکالنے کے لئے انصاف کی بھیک مانگنے وزیر اعلی ہاؤس پہنچ گیا ،چیف جسٹس اور اعلی حکام سے بیٹی کی بازیابی کے لئے اپیل ۔تفصیلات کے مطابق گلشن نور لکھوڈائر کارہائشی امتیازجو آٹھ بیٹیوں کا باپ ہے اور آج کے مشکل دور میں غبارے بیچ کر اپنی زندگی گزار رہا ہے اور اپنے خاندان کو دو وقت کی روٹی کما کر بڑی مشکل سے گزارا کر رہاے فراڈیوں کے ایک ٹولے نے اس کو اس کی کمسن بیٹی کو گھر میں کام دلوانے کے بہانے اغوا کر لیا سلیم نامی شخص جس کے رانی عرف مکھو فلم ایکٹرس کے ساتھ گھریلو تعلقات تھے نے امتیاز کو مکھو کے گھر میں کام کرنے کے لئے اس کی بیٹی کا مانگا اور بتایا کے گھر میں کام کا ماہانہ معاوضہ دیا جائے گا جس سے اس کی بیٹی کا خرچہ رانی عرف مکھو خود برداشت کرے گی بلکہ اس کو ماہانہ آمدن ملنے لگے گی جس اس کے گزر بسر کرنے میں آسانی آئے گی سلیم کی باتوں کے لالچ میں غریب باپ اتیاز نے اپنی 14سالہ بیٹی فاطمہ کنول کو سلیم کے ساتھ رانی عرف مکھو کے ہاں کام پر بھجوا دیا مگر چند روز بعد امتیاز اپنی بیٹی سے ملنے گیا تو پتہ چلا کے مکھو اس کو چائلڈ سٹار بنانا چاہتی ہے اور اس کی بیٹی کو ڈرامہ سیریل میں کام لے کر دے رہی ہے اتیاز کے مطابق اس کے انکار کے باوجود اس کی بیٹی فاطمہ کی ضد نے باپ کو مجبور کر دیا اور اس نے اپنی بیٹی کو ڈراموں میں کام کی اجازت دے دی جس پر چند روز بعد ہی رانی نے سلیم کے ساتھ اس کی

بیٹی فاطمہ کو کراچی کی ڈرامہ سیریل میں کام کے لئے بھیج دیا جہاں رزاق نامی شخص جس کا اپنا تھیٹر کاکام تھا کو تمام ذمہ داری دی کے وہ اس کی بیٹی فاطمہ کا خیال کرے امتیاز کے مطابق اس کی بیٹی پہلی بار 25فروری 2013کو کراچی گئی اور 15روز واپس آگئی جہاں اس نے اپنے باپ امتیاز کو بتایا کے اس نے شوٹنگز میں حصہ لیا جس کا معاوضہ بھی اس کو دے دیا گیامگر اس کے بعد کچھ عرصہ سلیم امتیاز کی اور اس کی بیٹی کی باقاعدگی سے ملاقاتیں کرواتا رہا مگر بعد ازاں اس کی بیٹی غائب ہو گئی جس پر امتیاز نے سلیم کو اپنی بیٹی کو واپس لانے کا کہا مگر سلیم ٹال مٹول کرتا رہا اور یہی بتاتا رہا کے اب اس کی بیٹی کراچی میں شوٹنگوں میں حصہ لے رہی ہے اور جلد واپس آجائے گی مگر امتیاز نے بتایا کے اس کی بیٹی کا کچھ پتہ نہ چلاجس پر امتیاز نے تھانہ مناواں درخواست دی جس پر مناواں پولیس اہلکاروں نے اس کوتھانے کے چکر لگوانا شروع کر دیئے پہلے پہل تو پولیس نے امتیاز کو یقین دھانی کروائی کے تمہارے ساتھ ظلم ہوا ہے اور جلد ہی تمہاری بیٹی کو بازیاب کروالیا جائے گا مگر بعد ازاں پولیس کارویہ تبدیل ہونا شروع ہو گیا اور پولیس نے بچی کو بازیاب کروانے کی بجائے امتیاز کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں مگر مقدمہ درج نہ کیا اور اس کو تھانے سے ہی نکال دیا گیا تاہم اعلی حکام کی مداخلت پر ےؤتھانہ مناواں نے کارروائی شروع کی اور امتیاز کی درخواست میں نامزد افراد کو اس کے سامنے بلایا جس میں رانی مکھو ،سلیم اور رزاق شامل تھے مگر ان تینوں نے اس کی بیٹی کے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا جس پر پولیس نے امتیاز کو دوبارہ تھانے میں نہ آنے کا حکم دیا مگر امتیاز نے تمام گھروالوں کے ساتھ مل کر احتجاج کیا تو اعلی پولیس حکام کو دوبارہ مداخلت کرنا پڑی اور تھانہ مناواں پولیس کو مقدمہ درج کرنے کی ہدایات کیں تو تھانہ مناواں پولیس نے مقدمہ درج کر لیا مگر اس کی تفتیش اس انداز میں کی کوئی بھی بات سامنے نہ آئی جس پر احتجاج

کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا تو رزاق نے 14سالہ فاطمہ کا اپنے ساتھ ہونے کا اعتراف کر لیا اور ایک نکاح نامہ بھی پیش کر دیا جس میں اس نے بتایا کے اس نے فاطمہ سے شادی کر لی ہے اور اس کی عمر 18سال ظاہر کی مگر پولیس نے رزاق سے بھاری رشوت لے کر نکاح نامہ تصدیق کے بغیر ہی درست قرار دے دیا اور تمام حقائق مسخ کر کے عدالت میں پیش کر دیئے اور امتیاز کو جھوٹا قرار دے دیا گیا ،مگر نادرہ کے ریکارڈ کے مطابق جو کے امتیاز نے فراہم کیا اس کونذر انداز کر دیا گیا ، رزاق کے 11نکاح نامے کراچی میں درج ہیں اور اب 12نکاح کرلیا ہے جبکہ ضلع ویہاڑی سے تعلق رکھنے والے رزاق کا کوئی کاروابار نہیں اور وہ جسم فروشی کا مکروہ دھندہ کرتا ہے جس کے متعلق رزاق کے دوستوں ے اس کو آگاہ کیا ،امتیاز کے مطابق سلیم ،پرویز ،رانی مکھو اور رزاق کئی دیگر افراد اس گینگ کاحصہ ہیں جو کم عمر لڑکیوں کو دبئی سمگل یا سپلائی کرتے ہیں جہاں ان سے جسم فروشی کروائی جاتی ہے ،یہ لوگ ایسے ہی لڑکیوں کو گھروں میں کاموں کا جھانسہ دے کر لے جاتے ہیں اور کم عمر لڑکیوں کو ڈراموں میں کام دلوانے کے بہانے ان کا جعلی نکاح کروادیتے ہیں جس کے بعد ان کو جسم فروشی کرواتے ہیں جو لڑکی ان کی چنگل سے نکلنے کی کوشش کر ے اور کا سودا دبئی یا کسی دوسرے ضلع میں کروا کر اس کو ہمیشہ کے لئے غائب کر وادیا جاتا ہے ،امتیاز نے اعلی حکام سے اپیل کی ہے کے اس کی بیٹی کو بازیاب کروایا جائے اور نادرہ کے اعلی حکام اس کی کم عمر بیٹی کا جعلی شناختی کارڈ تیار کروانے والے ملازمین کو بھی پکڑیں جبکہ نکاح خواں سمیت اس گروہ کے باقی ارکین کو بھی حراست میں لیا جائے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کے اس کی بیٹی کو بازیاب کروانے کے لئے از خود نوٹس لیا جائے۔

مزید : علاقائی


loading...