ایبولا بحران : ڈبلیو ایچ او میں بلیم گیم شروع ، ناکامی پر سوالیہ نشان لگ گئے

ایبولا بحران : ڈبلیو ایچ او میں بلیم گیم شروع ، ناکامی پر سوالیہ نشان لگ گئے
ایبولا بحران : ڈبلیو ایچ او میں بلیم گیم شروع ، ناکامی پر سوالیہ نشان لگ گئے

  



 جنیوا(مانیٹرنگ ڈیسک )عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ افریقہ میں ایبولا سے بروقت نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ تنظیم کی رپورٹ میں اس ناکامی کی وجہ خراب ترسیل اور عملے کی نا اہلی کو قرار دیا گیا ہے۔

 عالمی میڈیا کے مطابق ڈبلیو ایچ او کی گلوبل رسپانس ہیڈ ایزابیل نوٹال کا کہنا ہے کہ اس وقت تک یہ بیماری مغربی افریقہ میں عام نہیں تھی اور صرف وسطی افریقہ میں تھی۔ خبر رساں ادارے کی مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس میں شامل افراد نوشتہ دیوار پڑھنے میں ناکام رہے۔ ڈبلیو ایچ او کے قریبی ذرائع نے بلوم برگ کو بتایا کہ ایبولا کے پھیلاﺅکے ابتدائی مراحل میں مختلف ناکامیاں رہیں۔ ادارے کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ ایبولا پر قابو پانے میں ناکامی کے حوالے سے تفتیش کا وقت آ گیا ہے۔ اس رپورٹ میں جن مسائل کا ذکر کیا گیا ہے اور جن تک اے پی اور بلومبرگ کی رسائی ہو سکی ہے ان میں ڈبلیو ایچ او کے ماہرین جو فیلڈ میں تھے وہ جنیوا میں ادارے کے ہیڈ کوارٹر کو اپنی رپورٹ بروقت بھیجنے میں ناکام رہے۔ دفتر شاہی کی وجہ سے گنی میں اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے لیے پانچ لاکھ ڈالر پہنچانے میں ناکام رہی۔ اس طرح کے الزامات نئے نہیں ہیں لیکن یہ دستاویزات ادارے میں معلومات کے تبادلے کی کمی کو اجاگر کرتے ہیں۔بروقت اقدام کرنے میں ناکامی پر انھوں نے کہا اس وقت تک یہ بیماری مغربی افریقہ میں عام نہیں تھی اور صرف وسطی افریقہ میں تھی۔انھوں نے کہا جب ہم نے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ جون کے بعد سے اس نے دوسرا رخ اختیار کر لیا۔ اس سے قبل ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چان نے بلومبرگ کو بتایا تھا کہ انھیں اس بیماری کے شروع ہونے اور پھیلاﺅ کے بارے پوری طرح سے مطلع نہیں کیا گیا ،اس کے لیے کیے جانے والے اقدامات اس کے برابر اور مطابق نہیں تھے۔ ایبولا سے اب تک 4,546 افراد ہلاک جبکہ نو ہزار سے زیادہ اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارے نے اپنی ناکامی کی جلد وضاحت کرنےکا اعلان کیا ہے۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...