سفاک باس سے نمٹنے کا طریقہ سائنس نے بتادیا

سفاک باس سے نمٹنے کا طریقہ سائنس نے بتادیا
سفاک باس سے نمٹنے کا طریقہ سائنس نے بتادیا

  



لندن (نیوز ڈیسک) ایک بحث تو یہ ہے کہ اگر باس بہت سخت گیر ہو تو ماتحت کس طرح اس کے غصے کا نشانہ بنتا ہے۔ لیکن ایک دوسری بحث یہ ہے کہ آپ کا کونسا رویہ ہے جس سے آپ کا باس آپ سے ناراض رہتا ہے۔ اس سلسلے میں کی گئی تحقیق کے مطابق مندرجہ سات عادتیں آپ کو ہمیشہ باس کی نظروں میں مجرم بنائے رکھتی ہیں جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

-1 کسی بھی بات پر آپ کا بضد رہنا کہ آپ کی رائے اور دلیل کو من و عن تسلیم کرلیا جائے اور صاف نظر آرہا ہو کہ آپ کی دلیل اور رائے اندازوں پر مشتمل ہے۔

-2 دوسری بڑی وجہ اور عادت یہ ہے کہ کسی پروجیکٹ پر آنے والے فیڈ بیک پر کس طرح کی دفاعی پالیسی اختیار کرنا بھی آپ کے باس کو ناراض رکھتا ہے۔

-3 اگر آپ کا باس مصروف ہو اور آپ ان کی مصروفیت کے دوران ہی انہیں کوئی معلومات دیتے ہیں یا کسی سوال کا جواب دیتے ہیں تو آپ ان کی مصروفیت کا نظر انداز کرکے اپنی ہی ہانکے جائیں تو بھی اس کی ناراضی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

-5 اگر آپ کو باس کی طرف سے دی گئی کسی اسائنمنٹ پر کام مقررہ وقت کے بعد مکمل کرتے ہیں تو یہ کوشش بے کار ہوگی اور آپ پر سستی کا لیبل لگے گا اور باس ناراض رہے گا، اس لئے ضروری ہے کہ آپ اپنا کام مقررہ وقت پر مکمل کریں۔

-5 اچھا کارکن ہمیشہ وقت کے ساتھ چلنا ہے اور اپنے نئے نظریات اور خیالات کی بنیاد پر اپنے باس کو اچھی تجاویز دیتا ہے تو سمجھ لیں کہ وہ آپ اپنے باس کی آنکھ کا تارا ہیں اور اگر مکھی پہ مکھی مارتے ہیں تو آپ کی مقبولیت میں اضافہ نہیں ہوسکتا اور باس ناراض ہی رہتا ہے۔

-6 مختصر بات یہ ہے کہ اگر آپ کی سوچ منفی ہے اور منفی روپ میں ہی گھومتی رہتی ہے تو باس کی ناراضگی یقینی ہے۔

-7 باس کو حقائق سے آگاہ نہ کرنا بھی اس کی ناراضگی کی وجہ ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...