دیت نہیں ’قصاص‘، لاہور نے فیصلہ دے دیا ، لوڈ شیڈنگ کا حل پیش کر دیا، اب ’قائد اعظم ازم ‘ چلے گا:طاہر القادری

دیت نہیں ’قصاص‘، لاہور نے فیصلہ دے دیا ، لوڈ شیڈنگ کا حل پیش کر دیا، اب ...
دیت نہیں ’قصاص‘، لاہور نے فیصلہ دے دیا ، لوڈ شیڈنگ کا حل پیش کر دیا، اب ’قائد اعظم ازم ‘ چلے گا:طاہر القادری

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ ہم حکمرانوں کو آج کا ریمنڈ ڈیوس نہیں بننے دوں گا، ہم مینار پاکستان کے سائے تلے آج اعلان کرتے ہیں کہ کسی شہید کی دیت نہیں لیں گے بلکہ ان کے خون کا قصاص لیا جائے گا، خون کے بدلے خون لیا جائے گا اور اس کے لئے ہر قانونی راستہ اپنایا جائے، اسلام نے خودقصاص کو ظلم کے خلاف کامیابی قرار دیا ہے، اس ملک پر ہونے والے ہر ظلم پر قصاص لیا جائے، دیت سے متعلق ہر افواہ دم توڑ جائے گی اور شہداءکا بدلہ لیا جائے گاکیونکہ ساری دنیا کی دولت بھی میرے جوتے کا سودا نہیں کر سکتی، یہ معاملہ قاتلوں کی پھانسی پر ختم ہو گا۔مینار پاکستان پر عوامی اجتماع سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ میں تمام اتحادیوں کو کامیاب جلسے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ، ہماری ٹیم نے اس کے لئے دن رات کام کیا، ان کی محنت نے آج مینار پاکستان پر انقلاب کے حق میں عوامی ریفرنڈم کر دیا ہے، لاہور اب کسی مسلم لیگ ن کا نہیں ہو گا بلکہ عوامی تحریک اور انقلاب کا ہو گا، لاہور نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور آ ج کا جلسہ تاریخی نہیں بلکہ تاریخ ساز ہے۔

 انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد میں ہمارے کارکنوں کی اتنی تعداد تھی کہ حکومت کے پاس ہتھکڑیوں کی تعداد کم پڑ گئی تھی، اس کے بعد حکومت کے پاس ہم پر برسانے کے لئے آنسو گیس کے شیلزکی تعداد کم تھی تو بھارت سے 50 ہزار شیل منگوائے گئے اور پھر ہمارے شرکاءکو آگ اور خون میں نہلا دیا گیا، اس زہریلی گیس سے ہمارے سینکڑوں کارکن زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس بجلی بنانے کے اس وقت 9 منصوبے چل رہے ہیں اگر وہ منصوبے جلد سے جلد مکمل ہو بھی جائیں تو 2017 میں ہوں گے مگر اس وقت ہماری ضرورت 35 ہزار میگا واٹ ہو چکی ہو گی، اس بجلی کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہو سکے گا، اگر یہی لوگ حکمران رہے تو یہ لوڈشیڈنگ کے اندھیرے ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے، ہمارے پاس ان مسائل کا حل موجود ہے، اس کا حل وسائل کی تقسیم ہے زیادہ سے زیادہ صوبے بنائے جائیں اور ضلع اپنے انتظامات خود کرے گا تو اس مسئلے کا حل نکل آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج تک بجلی پیدا کرنے کے جو بھی طریقے استعما کئے جاتے رہے وہ طریقے درست تھے ہی نہیں، 12 طریقوں سے یہ مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے لئے وسائل کے اختیارات نچلی سطح پر دینا ہوں گے، ضلع اپنی بجلی پیدا کرے گا، اس کوبیچے گا اور پھر اس کا بل وصول کرے گا، سولر بجلی، ونڈ مل بجلی ہر سطح پر بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے گی، چھوٹے لیول پر پن بجلی بنانے کے لئے نہروں پر یونٹس لگائے جانے چاہئیں۔

 طاہر القادری کا کہنا تھا کہ بسوں کو چلانے کے لئے غیر ملکی کمپنیوں کو دیئے جا رہے ہیں، لاہور میں صفائی کرنے کے لئے کوئی ملکی کمپنی دستیاب نہیں اور ایک برادر اسلامی ملک کی کمپنی کو دے دیا گیا اور لاہور میں پارکنگ کا ٹھیکہ بھی اب اسی ملک کو دیا جا رہا ہے، اس قوم کو اپاہج کر دیا گیاہے اب اس طرز حکمرانی پر میں کیا کہوں؟ ابھی جنگلہ بس سروس کے پاس سے گزرا، اگراس پر اربوں روپے ضائع کرنے کی بجائے صاف پانی کا نتظام کر دیا جاتا تو ملک کا بھلا ہو جاتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ نے ہر نعمت سے نوازا ہے، ہماری آبادی ایک بڑی کنزیومر مارکیٹ ہے، ہمارے پاس تجارتی راستے ہیں مگر ہمیں ضرورت ہے تو بس کسی انقلابی حکومت کی ہے، یہی قوم تھی جس نے ایٹمی بم بنایا تھا مگر آج ہمیں ذلیل کر کے رکھ دیا گیا ہے، ہمارے لوگ جب باہر جاتے ہیں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ دیتے ہیں، انقلاب کے بعد پاکستان کو ’قائد اعظم ازم‘ پر چلائیں گے اور پاکستان جی 20کا ممبر بن کر معاشی منڈیوں کا حصہ بنے گا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنا دس نکاتی انقلابی ایجنڈہ بھی پیش کیا جس میں ہر شہری کو روزگار کی فراہمی، خوراک ، تعلیم ، صحت کی سہولیا ت کی ضمانت اور غرباءکے لئے آسائشوں کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی ہمارا انتخابی منشور ہو گا۔ اس سے قبل انہوں نے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے سانحہ لاہور کے شہداءاور انقلاب مارچ کے شہداءکے لئے فاتحہ خوانی کرواتے ہوئے کہا کہ اس جلسے کا سارا کریڈٹ شہیدوں کو جاتا ہے ، جن کی قربانیوں کی وجہ سے یہ قوم بیدار ہوئی اور اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے، میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...