سندھ میں شام کو کاروباری مراکز کی بندش‘ آل پاکستان انجمن تاجران ملک گیر کنونشن بلائے گی

سندھ میں شام کو کاروباری مراکز کی بندش‘ آل پاکستان انجمن تاجران ملک گیر ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(کامرس رپورٹر)آل پاکستان انجمن تاجران کی طرف سے سندھ حکومت کی جانب سے سر شام تجارتی مراکز،بازار اور دکانیں بند کرنے کے فیصلے کی آل پاکستان انجمن تاجران نے شدید مذمت کرتے ہوئے 28 اکتوبر کو کراچی میں ملک گیر کنونشن بلانے کا اعلان کردیا ہے۔اس حوالے سے گزشتہ روز مرکزی سیکرٹری جنرل نعیم میرنے کہا کہ حکومت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔شام 7 بجے دکانیں بند کرنے کا فیصلہ قابل عمل نہیں اور نہ ہی تاجر برادری اس پر متفق ہے ۔ماضی میں بھی کئی دفعہ اس طرح کی ناکام کوششیں کی جا چکی ہیں۔بجلی بحران کا واحد حل بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہے۔ہم کراچی اور سندھ کی تاجر برادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔کراچی میں زبردستی دکانیں بند کروائی گئیں تو حکومت ملک گیر مزاحمت کا سامنا کرنے کیلئے تیارہو جائے۔نعیم میر کا کہنا تھا کہ وفاق سندھ حکومت کے فیصلے کو بنیاد بنا کر اگلا وار لاہور اور اسلام آباد میں کریگا۔انجمن تاجران نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت اپنا یہ فیصلہ واپس لے وگر نہ 28اکتوبر کو کراچی میں ملک گیر تاجر کنونشن بلا لیا جائیگااورپھرملک بھر کے تاجر رہنماؤں سے متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ شام 7 بجے دکانیں بند کرنے سے بجلی کی بچت کا حکومتی دعوی مضحکہ خیز ہے۔ملک بھر میں تمام چھوٹے شہروں کی دکانیں اور کاروبار پہلے ہی 7 بجے تک بندہو جاتے ہیں۔بڑے شہروں کی تمام ہول سیل مارکیٹیں بھی مغرب کی نماز کے فوری بعد بندہو جاتی ہیں لیکن ریٹیل مارکیٹیں ہی رات گئے تک کھلی رہتی ہیں۔نعیم میر کا کہنا تھا کہ ان ریٹیل مارکیٹوں میں پہلے ہی رات 8 تا 10 بجے تک لوڈ شیڈنگ کی جاری ہے۔ماضی میں بھی کنٹونمنٹ ایریا کی مارکیٹوں پر اس طرح کے فیصلوں کا اطلاق ممکن نہیں ہوسکااس لئے پہلے حکومت کینٹ ایریا کے بازار وقت مقررہ پر بند کروائے۔ویسے بھی میڈیکل سٹورز، پلے لینڈز ، پنکچر شاپس،گلی محلے کے کریانہ سٹورز پر فیصلے کا اطلاق ممکن نہیں، اس طرح کے ناقابل عمل فیصلے چھوٹے تاجروں اور مقامی انتظامیہ مابین تنازع کا باعث بنیں گے، حکومت فیصلے پر عملدرآمد سے پہلے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر مشاورت کرے۔

مزید :

کامرس -