بلدیاتی انتخابات ہوئے مدت گزری، ادارے مکمل نہیں ہوئے، اب پھر تاریخ کا اعلان

بلدیاتی انتخابات ہوئے مدت گزری، ادارے مکمل نہیں ہوئے، اب پھر تاریخ کا اعلان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 بلدیاتی انتخابات ہوئے عرصہ بیت گیا لیکن پنجاب شاید آخری صوبہ ہے جو ابھی تک ان اداروں کے منتخب ارکان میں اختیارات نہیں دے پایا اور نہ ہی اضلاع اور تحصیلوں کی سطح پر ان اداروں کے سربراہ منتخب ہو سکے ہیں ، کچھ عرصہ قبل شور و غوغا اٹھاتھا اور مخصوص نشستوں کیلئے کاغذات نامزدگی بھی جمع ہوگئے تھے لیکن بوجوہ یہ سارا پراسس روک دیا گیا لیکن اب پھر یکایک نہ صرف اس کا اعلان کر دیا گیا ہے بلکہ فوری طور پر مخصوص نشستوں پر نامزدگیاں بھی مانگ لی گئی ہے، جس کیلئے جوڑ توڑ بھی شروع ہوگیا ہے، اگر حکومت پنجاب کے اس اقدام کا بغور جائزہ لیا جائے تو اسے اس قسم کی سرگرمی اس وقت یاد آتی ہے جب تحریک انصاف حکومت کیخلاف کوئی نہ کوئی تحریک یا جلسہ جلوس کا اعلان کرتی ہے لیکن اس مرتبہ تحریک انصاف نے تخت یا تختہ کا اعلان کر ڈالا ہے اور 2نومبر کو اسلام آباد بلاک کر کے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے ۔ اب تحریک اس مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا لیکن پنجاب حکومت سمیت وفاقی حکومت کو تحریک انصاف کے اس اعلان سے ’’وختہ‘‘ ضرور پڑ گیا ہے جس کا حل انہوں نے یہ تلاش کیا ہے کہ فوری طور پر بلدیاتی اداروں میں مخصوص نشستوں پر انتخاب کروا کر چیئرمین اور میئر منتخب کروا دئیے جائیں، سیاسی لوگوں کو اپنے اپنے اضلاع میں مصروف کر دیا جائے تاکہ عمران خان کی کال پر وہ کان تو دھریں لیکن اپنی بنیادی ضلعی سیاست میں بھی مصروف رہیں جس سے یقیناً اس مجوزہ دھرنے پرکچھ نہ کچھ منفی اثر ضرور پڑیگا کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے اکابرین سمیت سب سیاسی پنڈتوں کو معلوم ہے کہ سیاستدان صوبے یا وفاق کی سیاست سے اپنے حلقہ انتخاب کی سیاست کو زیادہ ترجیح دیتا ہے اور اس حلقہ انتخاب میں پھر سے تحصیل اور ضلع کی سیاست میں بھی حصہ ضرور ڈالنا ہوتا ہے اور اگر وہ تحصیل اور ضلعی سیاست میں مثبت کردار ادا کرنے سے محروم رہ جائے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اسے آنیوالے انتخابات میں اس کی کیا قیمت چکانی پڑیگی۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو اس بارے میں اچھی طرح معلوم ہے اس لیے انہوں نے فوری طور پر اس کا اعلان کر کے مسلم لیگیوں کو لاہور اور کچھ کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے اور انہیں بظاہر یہ ٹاسک دیئے جانے ہیں کہ کس ضلع کا چیئرمین کون ہوگا جبکہ شہر کے میئر کی کنجی کس کے ہاتھ آئیگی، لیکن دراصل یہ تمام عہدیداروں، چیئرمینوں، ارکان اسمبلی کو بلانے کا مقصد واحد یہ ہے کہ کسی طرح وہ تحریک انصاف کے مقامی عہدیداروں، منتخب نمائندوں کو انکے آبائی علاقوں میں مصروف رکھیں تاکہ وہ 2 نومبر کے دھرنے کی طرف زیادہ توجہ نہ دے سکیں۔ اب میاں برادران کی یہ خواہش ان کے لیگی کس طرح پوری کر تے ہیں اس کیلئے وہ کوشش کر رہے ہیں اور اس میں وہ کتنی حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس کا اندازہ آنے والے وقت میں ہو جائیگا ۔
صوبائی اور وفاقی حکومت کیلئے ایک خبر بڑی اہمیت کی حامل ہونی چاہیے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری میں جنوبی پنجاب کے وکلاء کو نظر انداز کرنا انہیں کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے (یا شاید پڑ چکا ہے )کیونکہ اس یک نکاتی ایجنڈہ پر لاہور ہائیکورٹ بار ملتان بنچ ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی کال پر پورے جنوبی پنجاب سے ایک تیسراکنونشن منعقد کیا گیا جس کے محرک تو صدر ہائیکورٹ بار شیخ جمشید حیات اور صدر ڈسٹرکٹ بار عظیم الحق پیرزادہ تھے لیکن حیرت انگیز طور پر اس کنونشن میں نہ صرف حکومتی جماعت مسلم لیگ بلکہ تحریک انصاف کے عہدیداروں اور ارکان اسمبلی سمیت بزرگ سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی شرکت کی، یہ کنونشن اس حوالے سے منفرد تھا کہ اس میں کسی مقرر نے اپنی پارٹی پالیسی کی بات نہیں کی بلکہ کنونشن کے ایجنڈے کو فالو کرتے ہوئے اس کی بھرپور تائید کی۔ صدر ہائیکورٹ بار شیخ جمشید حیات نے اپنی تقریر میں ایجنڈے کے بارے میں کہا کہ ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہے بلکہ اجتماعی ایجنڈا ہے کہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کا مجوزہ اجلاس فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور جنوبی پنجاب میں خود مختار ہائیکورٹ کا قیام عمل میں لایا جائے اور اس خطے کو الگ صوبے کی حیثیت دی جائے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو تخت لاہور کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب جنوبی پنجاب کے وکلاء سمیت تمام مکتبہ فکر کے لوگ ایک صوبے کے قیام اور ایک ہائیکورٹ کے قیام کے مطالبے کیلئے ایک پیج پر جمع ہو چکے ہیں۔ ڈسٹرکٹ بار کے صدر عظیم الحق پیرزادہ نے علیحدہ صوبہ تحریک زندہ کرنے کا اعلان کر دیا اورکہا کہ اب تخت لاہور کو اپنے متعصبانہ رویے کا مزا چکھانا پڑیگا کیونکہ اس مہینے کے آخر میں علیحدہ صوبے کی تحریک کا دوبارہ آغاز کیا جائیگا جس میں تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدان، تاجر، وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہونگے جبکہ اس مقصد کیلئے پہلے سے کام کرنیوالی تنظیمیں بھی ہمارا دست و بازو ہونگی۔ پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین مرزا عزیز اکبر بیگ نے بھی اس کی تائید کی اور کہا جب تک علیحدہ صوبہ نہیں بنے گا اس خطے کو کوئی حقوق نہیں ملیں گے۔ کنونشن سے سابق صدور محمود اشرف خان، سید اطہر حسن بخاری سمیت دوسرے اضلاع سے آئے ہوئے وکلاء نے اپنے خطاب میں اس ایجنڈے کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے سابق صدر حبیب اﷲ نے کہا کہ صرف عدلیہ میں حصہ لینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ عدلیہ سمیت بیورو کریسی، مالیاتی و دیگر اداروں میں بھی حصہ لینا ضروری ہوگیا ہے اور اس معاملے میں وکلاء، صحافیوں، تاجروں اور سیاستدانوں سمیت سول سوسائٹی کو اکٹھا ہو کر چلنا ہے۔ اس نمائندہ کنونشن کی خاص بات بزرگ سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی اور تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر کی شمولیت تھی۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے واشگاف الفاظ میں روایتی سیاستدانوں پر تنقید کی اور کہا اب روایتی سیاستدانوں اور روایتی سیاسی جماعتوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی، اس لیے اگر جنوبی پنجاب کے ایک صوبے کا مطالبہ مان لیا جائے تو اس سے وفاق کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے جنوبی پنجاب کے وکلاء کو مناسب نمائندگی نہ دینے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ عسکری اور سیاسی قیادت کے ارادے چھپائے نہیں چھپ رہے ہیں، تاہم اگر اس حکومت نے پانچ سال پورے کر لیے تو ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی۔ اس حکومت نے بھی عوام کے مسائل کی طرف نظر نہیں دوڑائی جس کا سیاسی نقصان ہوگا۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر نے بھی اپنی تقریر میں ایجنڈے کی بھرپور تائید کی اور کہا کہ تاج محمد لنگاہ مرحوم نے اس خطے کو جو الگ صوبہ بنانے کا خواب دیکھا تھا اور تحریک شروع کی تھی اب اس تحریک کو کامیاب بنانے کا وقت آگیا ہے۔ اس خطے کے ساتھ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی زیادتی کی جا رہی ہے اور اس بار یہاں معزز وکلاء کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ناقابل قبول ہے۔ اب وکلاء برادری اس ایجنڈے کو لیکر ایک تحریک کا آغاز کرتی ہے تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات واضح ہے کہ اب کی مرتبہ اس ایشو پر 18 مکتبہ فکر کے لوگ ایک ہی پیج پر جمع ہوئے نظرآتے ہیں کیونکہ اس خطے کے ساتھ صرف یہی نہیں بلکہ اور بھی کافی معاملات ہیں جو توجہ طلب ہیں لیکن حکومت اسے بلاوجہ نظر انداز کرتی جا رہی ہے اور اس میں شاید اس علاقے کے ارکان اسمبلی کا وفدجو حکمرانوں کو بروقت صحیح حقیقت بنانے سے قاصر رہتے ہیں اور نہ ہی صوبائی یا قومی اسمبلی میں ان کی کوئی آواز سنی گئی ہے، اب ایسے میں یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ حکمرانوں کی چشم پوشی اس خطے کے ساتھ آج سے نہیں ہے۔
اب ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ہی لے لیں جس کا کام ترقیاتی کام کروانا ہے لیکن یہاں تعینات سرکاری ملازم بھی کسی سیاستدان سے کم نہیں ہیں جو اپنا ایسا ذاتی قانون چلا رہے ہیں کہ قانون کو بھی پسینہ آ جاتا ہے۔ ابھی چند روز قبل اس ادارے نے تقریباً2011 کے قریب ایسی کالونیوں کی لسٹ جاری کی ہے جو بقول ان کے غیر قانونی ہیں، اگر اتھارٹی کے ملازمین کہہ رہے ہیں تو یقیناً ہونگی لیکن یہ سرکاری ملازمین ان کالونیوں کی طرف آنکھیں اٹھا کر دیکھنے کی جرات بھی نہیں کر رہے ہیں جو گرین زون یعنی میٹرو پولیٹن زون میں ہیں اور مرلہ بھی 220 فٹ کا بیچ رہے ہیں اس پر تعجب ہی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -