عمران خان کو صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے آپشن پر شدید مخالفت کا سامنا

عمران خان کو صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے آپشن پر شدید مخالفت کا سامنا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے2نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کے بعد خیبرپختونخوا سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا، جہاں دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مخالفانہ جلسوں اور دھواں دھار تقاریر کے علاوہ صوبائی حکومت کے اتحادی بھی عمران خان کی بعض تجاویز کی مخالفت میں کھل کر سامنے آ گئے۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان اسلام آباد بند کرنے کے احتجاج کے دوران آخری آپشن کے طور پر خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں، مگر عمران خان کی بدقسمتی دیکھئے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی اتحادی جماعتوں قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے اس تجویز کی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے اس کی بھرپور مزاحمت پر اتفاق کیا ہے۔ عمران خان کی تجویز ہے کہ اگر میاں نواز شریف نے پُرامن احتجاج کے نتیجے میں استعفیٰ نہ دیا تو تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی سے اجتماعی طور پر مستعفی ہو جائیں گے اور اس کے بعد صوبائی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی، جو کہ تحریک انصاف کا بہرحال آخری آپشن ہے،جہاں تک قومی اسمبلی کے اراکین کے استعفوں کا معاملہ ہے تو عمران خان ایک بار پہلے بھی اس تجربے کو آزما چکے ہیں، جس میں شدید مزاحمت کے بعد انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، نتیجتاً کچھ اراکین قومی اسمبلی نے ناراض ہو کر اپنا الگ دھڑا بھی بنایا، بالکل اِسی طرح یا اس سے بھی زیادہ مزاحمت صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے معاملے پر ہو رہی ہے، بظاہر صوبائی حکومت کی اتحادی جماعتیں اور حزب اختلاف کی پارٹیاں اور صوبائی حکومت تحلیل کرنے کی تجویز کی بھرپور مخالفت کر رہی ہیں، لیکن اندرون خانہ تحریک انصاف کے بیشتر ایم پی ایز بھی اس تجویز سے ناخوش ہیں اس مخالفت کی اصل وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی گزشتہ انتخابات میں محض اِس لئے کامیاب ہوئے تھے کہ ان کا انتخابی نشان بیٹ تھا اور لوگوں نے امیدواروں کے بارے میں کسی قسم کی شناسائی لینا پسند نہیں کیا اور بیٹ پر ٹپے لگاتے رہے، کامیابی کے بعد تحریک انصاف کے اراکین پارلیمینٹ اپنے ووٹروں میں اپنا مقام بنانے میں ناکام رہے اور حکومت بھی کوئی قابلِ ذکر تبدیلی نہ دکھا سکی،ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اراکین پارلیمینٹ کی بھاری اکثریت یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ دوبارہ الیکشن میں ووٹ ڈالنے سے پہلے ووٹر ان کے بارے میں ضرور سوچے گا اور اس سوچ کا نتیجہ امیدواروں کے حق میں اچھا نہیں ہو سکتا، لہٰذا ان اراکین پارلیمینٹ کی حتیٰ الوسیع کوشش یہ ہے کہ وہ حکومت اور پارلیمینٹ کے مزے زیادہ سے زیادہ وقت تک لیتے رہیں، جبکہ اتحادی جماعتوں کی کوشش ہے کہ آخری برس وہ اپنے حلقوں میں ایسے منصوبے شروع کرائیں جو عام انتخابات میں ان کے لئے معاون ثابت ہو سکیں۔حزب اختلاف ان اختلافات سے فائدہ اُٹھا کر عمران خان کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے چکر میں ہے۔
جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے واضح الفاظ میں اپنی پارٹی کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ 2014ء کے دھرنے میں ان کی پارٹی کو مجبور کیا گیا اور اب رائیونڈ مارچ میں بھی ہم نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ تحریک انصاف نے ان کے ساتھ کبھی بھی مشاورت نہیں کی اور نہ ہی کبھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی۔ عنایت اللہ خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی پارٹی صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے اقدام کی بھرپور مخالفت کرے گی، کیونکہ صوبائی اسمبلی تحلیل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ قومی وطن پارٹی کی مرکزی قیادت اگرچہ اس معاملے پر معنی خیز طور پر خاموش ہے،مگر قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی وطن پارٹی بھی اس معاملے پر جماعت اسلامی کی ہم خیال ہے۔مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر اورنگزیب نلوٹھد نے موقف اختیار کیا ہے کہ پی ٹی آئی بھاگنے کے چکر میں ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنے بلند و بانگ دعوؤں نے برعکس ہر محاذ پر بُری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے اور اب سیاسی خود کشی کر کے اپنی ساکھ کو بچانے کے چکر میں ہے۔ خیبرپختونخوا میں حکومت کی اتحادی اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے صوبائی اسمبلی کی تحلیل روکنے کے لئے گورنر اور عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اِس قدر شدید مخالفت کے بعد امکان ہے کہ عمران خان اسمبلی تحلیل کرنے کے اقدام سے اپنے آپ کو دور رکھیں گے، بصورت دیگر انہیں اپنی پارٹی کے اندر سے بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف عمران خان کے اسلام آباد دھرنا کے اعلان کے بعد وفاق میں حکمران جماعت اور ان کی اتحادی پارٹیوں نے تحریک انصاف پر جوابی وار کرنا شروع کر دیئے۔ گزشتہ ہفتے خیبرپختونخوا میں ’’ہفتہ جلسہ جلسہ‘‘ منایا گیا۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما انجینئر امیر مقام نے مردان میں جلسے کا اہتمام کیا، اس جلسہ سے وفاق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بھی خطاب کیا۔ مسلم لیگ(ن) کے اس جلسے میں پہلی بار کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اگرچہ کارکنوں کو پورے صوبے سے اکٹھا کیا گیا تھا،مگر اس کے باوجود لوگوں کے جم غفیر کو دیکھتے ہوئے اس کو تاریخی جلسہ قرار دیا جا سکتا ہے، جلسے میں تمام تقاریر کا نشانہ عمران خان، اس کی پارٹی اور اسلام آباد دھرنا تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید جو کہ ہمیشہ دھیمے انداز اور نرم لہجے میں خطاب کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے بعض معنی خیز باتیں کہیں۔ پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ’’دو نومبر کو عمران خان اسلام آباد میں نہیں ہوں گے‘‘ پرویز رشید کی یہ بات معنی خیز ہے کہ ان کی اس بات سے سوال اُٹھتا ہے کہ کیا عمران خان کو گرفتار کر لیا جائے گا؟ اگر نہیں تو پھر کیا انہیں اغوا کر لیا جائے گا؟ دو نومبر کے لئے تھوڑے دن رہ گئے، پتہ چل جائے گا کہ اگر عمران خان اسلام آباد میں نہیں ہوں گے، تو پھر کہاں ہوں گے۔ پرویز رشید نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت مسلم لیگ(ن) کی مرہون منت اور محتاج ہے ہم جب بھی چاہیں خیبرپختونخوا میں اپنی اکثریت ثابت کر سکتے ہیں۔ پرویز رشید کا یہ بیان حقائق پر مبنی ہے، حکومت سازی کے ابتدائی ایام میں جے یو آئی نے دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر اپنی حکومت بنانے کی بہت کوششیں کیں،مگر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے کوئی مثبت اشارہ نہ ملنے کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ(ن) کی مرکزی قیادت خیبرپختونخوا حکومت کی تبدیلی کا اشارہ دے تو آج کی مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں کل کی حکومت کا بھی حصہ نظر آئیں گی اور یوں پی ٹی آئی مرکز کی طرح خیبرپختونخوا میں تنہا اپوزیشن نظر آئے گی۔ اس بات کا امکان بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ تحریک انصاف کے بعض ایم پی ایز بھی اگلی حکومت کا حصہ بنتے نظر آئیں، مگر مسلم لیگ(ن) کی مرکز ی قیادت تحریک انصاف کو اس کی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے الگ کرنے کے چکر میں ہے، جس میں وہ اب تک کامیاب نظر آ رہی ہے۔ عمران خان کے خلاف جلسے کرنے والوں میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ بھی شامل ہیں جنہیں چار برسوں کے دوران پہلی بار پتہ چلا کہ پختونوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کا استحصال ہو رہا ہے اور اس خطے کے عوام کو ان کے جائز اور آئینی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ چار سدہ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے خیبرپختونخوا کے عوام کے مصائب پر خوب گریہ کیا، مگر وہ یہاں کے عوام کو متاثر نہ کر سکے ۔ مولانا فضل الرحمن نے مردان اور اسفندر یار ولی خان نوشہرہ میں جلسے کے لئے حزب روایت غریب عوام کی غربت اور پختونخوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر نوحہ پڑھتے رہے اور پھر اسلام آباد چلے گئے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -