شامی تنازعہ پر امریکہ اور روس کے مابین جنگ چھڑجانے کا خطرہ

شامی تنازعہ پر امریکہ اور روس کے مابین جنگ چھڑجانے کا خطرہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


نیویارک( آن لائن ) شام کے تنازعہ پر امریکہ اور روس کے مابین جنگ چھڑجانے کا خطرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتاجا رہا ہے۔ پہلے روس نے اپنے شہریوں کو جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کی تنبیہ کی تھی اب امریکی ماہرین کی طرف سے بھی اپنے شہریوں کو روسی حملے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے ایک سابق اعلیٰ افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’روسی فوج کسی بھی وقت امریکہ پر حملہ آور ہو سکتی ہیں۔‘‘ اس نیوی افسر کے مطابق روسی افواج آبدوزوں کے ذریعے امریکی ریاست الاسکا کے گاؤں واسیلا کے ذریعے امریکہ میں داخل ہوں گی کیونکہ الاسکا کا ساحلی علاقہ قطعی طور پر غیرمحفوظ ہے اور روس کے لیے یہ بہترین جگہ ہے جہاں سے وہ امریکہ پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔نیوی افسر کا کہنا تھا کہ ’’نیوی میں ڈیوٹی کے دوران ہم ایسا محسوس کرتے تھے کہ باراک اوباما نے الاسکا کے دفاع کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے انتہائی غیرمحفوظ علاقہ بنا رکھا ہے۔ حالانکہ تیسری عالمی جنگ کی صورت میں یہ ریاست ہمارے اگلے مورچے کی حیثیت اختیار کرے گی۔ یہ ریاست ہم پر حملہ آور ہونے کا راستہ ثابت ہو سکتی ہے جس سے داخل ہو کر دشمن تمام ملک سے ہوتا ہوا کینیڈا تک اور اس کے بعد ہمارے شمال مغربی علاقوں کی طرف جا سکتا ہے۔‘‘نیوی افسر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’’روسی فوج نے امریکہ کے ساتھ باقاعدہ جنگ کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں جن میں انہیں ہماری کمیونیکیشنز کو تباہ کرنے اور ہمارے اہم پلوں پر قبضہ کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔‘‘رپورٹ کے مطابق دیگر کئی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوجی سادہ کپڑوں میں ملبوس، انتہائی خاموشی کے ساتھ الاسکامیں داخل ہو رہے ہیں اور تج دیئے گئے موٹلز اور فوجی اڈوں میں رہ رہے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -