موصل کی جانب عراقی فوج کی پیش رفت توقع سے تیز‘آپریشن جاری

موصل کی جانب عراقی فوج کی پیش رفت توقع سے تیز‘آپریشن جاری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


بغداد/واشنگٹن(این این آئی)امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے کہاہے کہ عراقی شہر موصل کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروانے کی لڑائی کے آغاز کے پہلے روز عراقی فوج نے توقعات سے تیز پیش قدمی کی ہے تاہم اس کارروائی میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترجمان پینٹاگون پیٹرکک نے ایک بیان میں کہاکہ موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی اور پیر سے عراقی توپخانے نے موصل پر گولہ باری کا آغاز کیا جس کے ساتھ ہی اس جنگ کا آغاز ہوگیا،گولہ باری کے ساتھ ساتھ ٹینکوں نے بھی موصل کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ۔عراقی حکام کا کہنا تھا کہ موصل پر عراقی افواج کا دوبارہ قبضہ ہونا درحقیقت عراق میں دولتِ اسلامیہ کی مکمل شکست کے مترادف ہوگا۔اس کارروائی میں مدد کرنے والے امریکی کمانڈر جنرل سٹیفن ٹاؤنسینڈ کا کہنا تھا کہ یہ جنگ مشکل ہوگی اور اس کی تکمیل میں کئی ہفتے لگیں گے،بریگیڈیئر جنرل حیدر فاضل نے امریکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موصل پر سے دولت اسلامیہ کا کنٹرول ختم کرانے کے آپریشن میں 25 ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں۔
،یاد رہے کہ ایک روز قبل عراق کے وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے اعلان کیا تھا کہ موصل سے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کا قبضہ ختم کروانے کے لیے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔موصل عراق میں دولتِ اسلامیہ کا آخری گڑھ ہے اور اس کے شدت پسندوں نے سنہ 2014 میں شہر پر قبضہ کیا تھا۔تنظیم کے سربراہ ابو بکر البغدادی نے اس کے بعد موصل کے شہر سے ہی اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا جس کی علامتی اہمیت ہے،عراقی اور اتحادی افواج اور کرد پیشمرگاہ کے 30 ہزار جوان اس جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ موصل میں دولت اسلامیہ کے تقریباً 4000 سے 8000 جنگجو ہیں۔موصل میں کارروائی کے آغاز پر اقوامِ متحدہ نے شہر میں محصور 15 لاکھ افراد کے تحفظ کے حوالے سے 'شدید خدشات' کا اظہار کیا ۔

مزید :

عالمی منظر -