سرائیکی تحریک: عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش

سرائیکی تحریک: عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش

  

اس تاریخی اور تہذیبی حقیقت کو بھلا کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے کہ تہذیبوں کے سنگم پر زبانوں کا امتزاج بھی ہوتا ہے اور ان کا ایک نیا لہجہ اور نیا روپ بھی سامنے آتا ہے، لیکن دوسری سچائی یہ بھی ہے کہ محض زبانوں کی بنیاد پر قومیں نہیں بنتیں۔ ان میں تہذیبی‘ ثقافتی اور تاریخی پس منظر بھی اہم ترین بنیاد ہوتاہے، لیکن افسوس کہ ہمارے کچھ دانشور جو سماجی اور فکری احساس محرومی کا شکار ہیں علیحدہ قوم اور اس قوم کے لئے الگ ملک کی خواہش کے اسیر ہیں اور انہوں نے محض زبان کی بنیاد پر اس کا سرائیکستان نام بھی تجویز کر رکھا ہے۔ وہ بھول گئے ہیں کہ سندھ کے پیچھے وادی سندھ کا تہذیبی‘ ثقافتی اور تاریخی پس منظر بھی موجود ہے جن کا اظہار موہنجوداڑو کی صورت میں موجود ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ کچھ دانشور دریائے ہاکڑہ کی اس تہذیب کا ذکر بھی کرتے ہیں جو چولستان کے آثار قدیمہ میں موجود ہے، لیکن۔۔۔ شاید انہیں یاد نہیں کہ دریائے ہاکڑہ ستلج کی ہی اک برانچ تھی جو دیگر دریاؤں کی طرح دریائے سندھ میں ضم ہوتی تھی، لیکن اس سے بھی پہلے ’’مولتان‘‘ ۔۔۔بلکہ مول استھان کی تاریخ ہندومتھالوجی میں موجود ہے اور ’’مولتان‘‘ کو برصغیر کا پہلا سب سے پرانا شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور یہ شہر ’’مول استھان‘‘ سے مولتان اور ملتان کیسے بنا؟ اسے تہذیبی سفر اور ارتقائی عمل میں دیکھنے‘ پرکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایسے بہت سے شہر موجود ہیں جن کا پہلے کچھ اور نام تھا ،لیکن وقت کے سفر میں آج انہیں نئے ناموں سے ہی یاد کیا جاتا ہے۔۔۔ ایسے میں بہرحال یہ تلاش کرنا بھی ضروری ہے کہ جس سرائیکستان سے نئے ملک‘ نئے صوبے کی تلاش جاری ہے یا پھر اس کے لئے سیاسی تحریک کو شروع کیا گیا ہے، اس کے اصل مقاصد کیا ہیں؟اور یہ تحریک ،جس میں ابھی تک عوام شامل نہیں ہوئے ،کب اور کیسے شروع ہوئی تھی۔

غالباً60ء کی دہائی کا زمانہ تھا، لیکن اس کو 80ء کی دہائی میں اس وقت عروج حاصل ہوا تھا جب پاکستان ضیاء الحق کے مارشل لاء کی اذیت برداشت کر رہا تھا۔۔۔ اسی زمانے میں ہی لسانی اور علاقائی بنیادوں پر سیاسی جماعتیں اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تنظیمیں سامنے آئیں۔ یہی وہ دور ابتلا تھا جس میں متحدہ قومی موومنٹ نے ریاست اور ریاستی اداروں کی سرپرستی میں باقاعدہ سیاسی جماعت کا روپ دھارا تھا، جس نے جناح آباد اور لیاقت پور کی علیحدگی کا مطالبہ بھی کیا اور اس کی باقاعدہ نقشہ بندی بھی کی تھی۔ جس کا اظہار وقتاً فوقتاً الطاف حسین کرتے رہے ہیں۔۔۔ اور پھر یہی وہ زمانہ تھا جب علاقائی اور قومیتی تقسیم کا ایشو زبان زدعام ہوا تھا،کم از کم چھ صوبوں کی تخلیق کا تذکرہ شروع ہوا جن میں ایک سرائیکستان بھی تھا اور اس کے سندھی اور پشتون قوم پرست ہی نہیں مہاجر قومی موومنٹ والے زبردست حمایتی تھے۔ مہاجر محض اس بنا پر حمایتی تھے کہ اس طرح ان کا اپنا راستہ ہموار ہوتا تھا۔

لیکن دلچسپ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب مہاجروں نے سندھ کی تقسیم کو سیاسی ترجیح بنایا تو اور مجوزہ نقشے میں میر پور خاص اور سکھر بھی شامل ہوئے یا پھر جب اپنا دامن چاک ہونے کا خطرہ محسوس ہوا تو سندھی قوم پرست تقسیم کے موقف سے علیحدہ ہو گئے۔ دوسرا یہ بھی کہ جب جذباتی سرائیکیوں نے نوابشاہ تک سرائیکی اثرات کا تجزیہ پیش کیا تو انہیں اس دامن کے ’’لیرو لیر‘‘ (تار تار)ہونے کا احساس ہوا تو ان کے پاس خاموشی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ ایسی ہی صورت حال پشتون قوم پرستوں کی بھی ہوئی کیونکہ ڈیرہ اسمعیل خان اور ٹانک کو بھی سرائیکی بولنے والے علاقے ظاہر کیا گیا اور انہیں پختونخوا کی تقسیم کے خطرات نظر آئے تو انہوں نے بھی سرائیکستان کی علیحدگی کو نظرانداز کرنا شروع کر دیا۔

یہی وہ پس منظر ہے ،جس میں سرائیکستان کی تحریک جو کبھی بھی عوامی تحریک نہیں بنی،جاگیرداروں اور ان کے خوشامدی دانشوروں تک محدود تھی محض چند اجلاسوں‘ سیمینارز اور تقریبات تک محدود ہو کر رہ گئی تھی، لیکن پنجابیوں کو بھی کچھ پتہ ہونا اب ضروری ہو گیا ہے کہ کھیل کہاں سے شروع ہوتا ہے‘ کھلاڑی کون ہے اور کون محض بارہواں کھلاڑی ہے، جس کا کام پانی پلانا اور پسینہ صاف کرنے کو تولیہ لے کر میدان میں آنا ہوتا ہے۔

تحریکیں محض سیاسی اتھل پتھل سے بامقصد نہیں ہوتیں۔ ان کے ساتھ عوام کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ افسوس کہ جاگیرداروں اور زمینداروں کے غلبہ اور تسلط کو برقرار رکھنے کی یہ تحریک محض عوام کو گمراہ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے، ناکامی ہی، جس کا مقدر ٹھہرے گی۔

مزید :

کالم -