میلہ وزیر اعظم کے مشیر نے لوٹ لیا

میلہ وزیر اعظم کے مشیر نے لوٹ لیا

  

اواری ہوٹل کا ہال چیختے سناٹے سے چٹخ رہا تھا۔ گاہ حاضرین کی تالیو ں سے یہ سناٹا گونجنے لگتا۔ لگتا تھا حاضرین اپنے ہاتھ اور دل کراچی سے آئے مقررجبران ناصر کے حوالے کر چکے تھے۔بعد میں ،اس جواں سال مقرر کی طغیانی و جولانی و روانی پر ترجمان وزیرِ اعظم مصدق ملک کا ایک تبصرہ یوں تھا: ’’پہلے تو میں سمجھاکہ یہ نوجوان میرے خلاف ہے ، پھر مجھے لگا یہ میری جماعت کے خلاف ہے اور پھر لگاکہ یہ فوج کے خلاف ہے اور تبھی میں پکار اٹھا: اوہ مائی گاڈ ! یہ تو سب کے خلاف ہے۔‘‘

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کو یہ جبران خلیل جبران لگا۔ جبران ناصر ریاست کے ماضی کے سارے کپڑے ، جو اس کے خیال میں گندے کپڑے تھے ، آج بیچ چوراہے دھونا چاہتاتھا۔ حافظ سعید ، ملا فضل اللہ ، سپاہ صحابہ ،مولانا عبدالعزیز نو گو ایریا بنی بارامام گاہیں ،آج فساد ہوگیا کل کا جہاد، غربتِ ویژن اور جہالتِ قیادت، مفلسی نے بانٹ دیا پاکستان اور اسی طرح کے کئی چبھتے سوال۔ دلوں کو تالی بنا کے ہاتھوں میں سمیٹ لانے والے اُس سیاہ پوش اور نیم ریش جوان کے لبوں پر بن پانی کی مچھلی کے سے تڑپتے سوال۔یہ واقعہ تھا کہ یوتھ کی ترجمانی کرتے ان سوالات نے اب تک کی پہلی اور سب سے زیادہ داد سمیٹ لی تھی ۔ یہاں تک کہ میرے پہلومیں بیٹھے کالم نگار اورادیب و شاعر خواجہ جمشید امام پکار اٹھے ، مشاعرہ ہو چکاصاحب!۔ لیکن مشاعرہ ہمیشہ جذبات پرکب مکمل ہوتا ہے، البتہ کہیں کہیں اورکبھی کبھی:

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل

مگر کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

چیئرمین ورلڈ کالمسٹ کلب حافظ شفیق الرحمٰن ، کہ شامی صاحب جن کا ہمیشہ نام بھول کر انھیں شورشِ ثانی کہنے لگتے ہیں ، بولے اور یوں کہ آخر آخر میں تولوگ تالیاں بجانا بھی بھول گئے۔انھوں نے پہلے دماغ کی اور پھر دل کی بات کی ۔ بھیانک انکشاف کیا کہ ملکی سلامتی کو درپیش پاک دھرتی پر من مانیاں کرتی لاکھوں این جی اوزکے بارے میں کسی کے پاس نہ کوئی ڈیٹا ہے اور نہ آج تک کبھی ان کا آڈٹ ہو سکاہے۔فکر سے خطاب کرتے کرتے پھروہ سامعین پر لفظوں کا سحر پھونکتے ہوئے شورش کے ہمنوا ہو گے میرا سب کچھ میرے وطن کا ہے ناظرین مجھے معاف کردیں اور مجھے اللہ سے بھی معافی مانگنی چاہئے کہ آج مجھے ایک حکومتی آدمی کی تعریف کابھی کچھ گناہِ کبیرہ کرنا ہے ۔ قصور زیادہ میرا بھی نہیں ، دراصل مصدق ملک ا س مجلس کاوہ یوسف بن گیا تھا کہ جس پہ مائل ہونے سے زلیخاؤں کوکبھی ان کا پندارِاقتدار بھی روک نہیں سکتا ۔ کس قدر سہل اور ہلکا پھلکاآغازکیا تھاانھوں نے۔’’ مجھے پتا ہوتا کہ یہاں مجھ پر اتنے سوالات کی بارش اور یورش ہو گی تو میں یہاں کبھی نہ آتا۔اب سمجھ میں نہیں آتا کیا کہوں ؟ ‘‘ تبھی لیہ سے آکے میرے ہم نشیں ہوئے ایک سامع نے جملہ کسا۔ ’’بولنا آتا نہیں اور چلے ہیں ہمارے حکمران بننے۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں سوچا۔کس قدر جلدباز، نتائج پر چھلانگ لگانے والی اور پیاسی قوم ہے یہ ۔ کاش کبھی حکمران بھی ان کے جذبات جان سکیں ! بہرحال مصدق ملک آہستہ آہستہ رواں ہو ئے تواعداد و شمار پیش کرتے کرتے یکایک جذباتی ہو گئے۔دماغ نہیں تب ہم ان کے دل کی آواز سن رہے تھے۔ اور سچ تو یہ بھی ہے کم از کم اس شام انھوں نے حکومتی دفاع میں لاہوریوں کے دل جیت اوراواری کا میلہ لوٹ لیا۔ان کا کہنا تھا۔’’ اگلے سال میں یہاں آؤں گا تو رہ گئے سوالوں کے بھی جواب ساتھ لاؤں گا۔ بعد میں لاہوریوں نے ان کے ساتھ اتنی سیلفیاں بنوائیں کہ لگتا تھا انھوں نے حکومت کے خلاف اپنے غم و غصے کے اظہار کاشاید یہی طریقہ پکڑ لیاہے۔ سیلفی سے سلفی کا لفظ کتنا ملتا جلتا ہے کہ جن کے خلاف گروزنی میں عالمی کانفرنس بھی ہوئی۔ مفتی منیب صاحب نے اس پر کالم بھی لکھا۔اب سناہے کہ کویت میں سلفی بھی ایک عالمی کانفرنس کے ذریعے خود کودوبارہ اہل سنت میں داخل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اللہ خیر کرے ۔ دعا ہے کہ کبھی دائرہ اہل سنت سے کسی کوجبراً نکالنے اورکبھی مردانہ وار اہل سنت میں داخل ہونے کی ان کوششوں سے خیمۂ اہل سنت سلامت ہی رہے۔ رہے شامی صاحب تو ان کا خطاب بڑا بر جستہ اور خستہ تھا۔فرمایا، ہم دہلی و کابل کی بے دلیل خواہش پراپنے کسی شہری کو گرفتار نہیں کرسکتے۔کہنے لگے کہ ہم سب کی جیبوں میں ہمیشہ اپنے اپنے ملزم پڑے رہتے ہیں اور جونہی کوئی (از قسمِ نیشنل ایکشن پلان) جیسا موقع میسرآتاہے تو ہم چاہتے ہیں کہ اس موقع پر پہلے ہمارے ملزم گرفتار کر لیے جائیں۔شامی صاحب کو سن کے مجھے کچھ فخر سا بھی محسوس ہوا۔ میں نے سوچا جن قوموں کے پاس شامی صاحب نہیں ہوتے ہوں گے بھلا وہ اپنی یوتھ کے جواب کیسے دیتے ہوں گے۔ یہاں ڈان کی متنازعہ سٹوری بھی بہت زیرِ بحث آئی ۔ جس پر مغیث الدین شیخ نے سلمان غنی کا موقف مسترد کر دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ خبر لیک کرنے والا پکڑا جائے اخبار کا کام تو خبر دیناہے۔ انھوں نے صحافتی تاریخ سے اپنے موقف میں کئی مثالیں پیش کیں ۔ شاعرانہ ، درویشانہ اور محبوبانہ وضع کے سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی نے سعودیہ کو بڑی محبت سے یاد کیا ، ایسی محبت سے کہ اگر سعودیہ سن اور سمجھ سکتا تو اعوذ باللہ پڑھ کے اس محبت سے پناہ مانگتا۔

آخر میں سلجھے ، متین اور متحرک میزبان ذوالفقار راحت صاحب کا ایسی شاندار تقریب منعقد کرنے پر خصوصی شکریہ ۔ ذوالفقار راحت کاایک عرصہ گجرات کے چودھری برادران کے ساتھ گزارا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ اسی دوران ذوالفقار راحت نے ایسی وضعداری نجیب چودھریوں سے سیکھی یاخود چودھریوں نے ایسا تحمل ذوالفقار راحت سے سیکھ لیا ہے۔بہرحال وہ مستند خاکسار ہیں اور اب ورلڈ کالمسٹ کلب کے صدربھی بن گئے ہیں ۔ جس پرحافظ شفیق الرحمٰن داد کے مستحق ہیں ۔ ایک دوست کہنے لگے کہ جناب اجمل نیازی نے تویہ لکھ دیا ہے کہ ناصر خان نے حافظ شفیق الرحمٰن کو چیئرمین بنایا تھا مگراب وہ انھیں کچھ نہیں بنا رہے ہیں ۔ میں نے عرض کی نیازی صاحب بلاکے بے نیاز آدمی ہیں ۔ شکر کیجئے انھوں نے اتنا ہی کہا ، وگرنہ وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ فلاں کی والدہ نے جنم دے کے اسے بیٹا بنایا مگر ظلم دیکھئے کہ اس بیٹے نے بیوی کسی اور کو بنا لیا۔

دمِ آخر کرسیاں خالی اور موقع غنیمت دیکھ کر حافظ شفیق الرحمٰن ورلڈ کالمسٹ کلب کے ذمے داران ریاض احمد احسان، عمر چیمہ ،نوید ملک ، راجہ تیمور طارق اوردیگرسے میٹنگ کرنے لگے تھے اور میزبان ذوالفقار راحت صاحب ماریہ ، اوتھم سے آئے سٹوڈنٹس اوراپنے دیگر رفقاکا شکریہ ادا کر رہے تھے تو ہمیں اب جاکے اپنے حال اور مآل پر غور کرنے کا موقع ملا۔ کھلا کہ آج پھر ہم ایک چائے کا نقصان کر بیٹھے ہیں۔ دعا کیجئے ،اللہ اس نقصان کے پورا ہونے کا غیب سے سامان فرمائے۔

تقریب میں خاصی خواتین بھی تشریف لائی تھیں اور کچھ تو لگتا تھاکسی ریمپ شو کا رستہ بھول کے ادھر آنکلی ہیں اور ہاں سٹیج سیکرٹری صاحب بیچ بیچ میں شعر بھی پڑھتے پائے گئے تھے جو ان کی عاجزانہ پیش کش کے طفیل سامعین کی طرف سے نثر ہی تسلیم ہو سکے۔ اورایک عددمزید ہاں، دی نیشن کے ایڈیٹر سلیم بخاری خاص طور پر ہمیں اپنے ساتھ سلیفی بنوانے کا موقع دینے اور معروف عوامی خطیب صبغت اللہ احسن بھی ترجمان وزیراعظم کے ساتھ سلیفی بنوانے کو خصوصی طور پر تشریف لائے تھے۔ اللہ سب کی جہود قبول فرمائے۔

مزید :

کالم -