ججز تعیناتی کی مجوزہ فہرست منسوخی پہلی کامیابی ہے‘ شیخ جمشید حیات

ججز تعیناتی کی مجوزہ فہرست منسوخی پہلی کامیابی ہے‘ شیخ جمشید حیات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملتان(خبر نگار خصوصی) ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن ملتان کے صدرشیخ جمشید حیات نے کہاہے کہ جنوبی پنجاب کے وکلاء کے اتحاد اوریکجہتی کے سبب علیحدہ صوبہ اورخود مختارہائیکورٹ کے قیام کی تحریک کے پہلے مرحلے میں ججز تعیناتی کی مجوزہ فہرست کی منسوخی پہلی کامیابی ہے اس لئے انفرادی مفاد سے بالاتر ہوکر وکلاء کو نمائندگی دلانے کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ان خیالات کااظہارانھوں نے(بقیہ نمبر49صفحہ12پر )
گزشتہ روز ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن ملتان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس پاکستان نے ملاقات میں بارکے مطالبات کوجائز قراردے کر تعیناتیوں کو مؤخر کردیا ہے اور3 نومبر کو ہونے والے آئندہ اجلاس میں نئی فہرست پیش کی جائے گی جس میں ملتان بینچ کو بھی مناسب نمائندگی دی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ حکومت اورسپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملتان میں سپریم کورٹ رجسٹری قائم کی جائے تاکہ یہاں کے وکلاء کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع مل سکے۔ انھوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی تمام بارایسوسی ایشنز ،سیاستدانوں ،تاجروں،دانشوروں اورسول سوسائٹی کے تمام طبقا ت کو اعتماد میں لے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا تاکہ علیحدہ صوبہ اورخود مختارہائیکورٹ کی منزل کو حاصل کیا جاسکے۔سابق صدرہائیکورٹ بارسید اطہر حسن شاہ بخاری نے کہا کہ ججز کو ہڑتال پر اکسانے پرپنجاب کی اعلیٰ عدالتی شخصیت کے خلاف آئینی درخواست دائر تیارکرلی گئی ہے جو چند روز میں سپریم کورٹ میں دائر کردی جائیگی۔ سابق و ائس چیئرمین پنجاب بارکونسل رمضان خالد جوئیہ نے کہا کہ ہائیکورٹ کی جانب سے 150 سالہ تقریبات منانے کے نام پر 50 کروڑ ہڑپ کیا جارہاہے۔سابق صدر ہائیکورٹ بارسید محمد علی گیلانی نے کہا کہ موجود تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے مثالی اتحاد کی ضرورت ہے۔ممبرپنجاب بارکونسل رانا عارف کمال نون نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے وکلاء کاگرینڈ کنونشن منقعد کرکے تحریک کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔اجلاس سے دیگر سینئروکلا ء مرزاعزیز اکبر بیگ،خواجہ قیصربٹ،خادم ندیم ملک ،شیخ غیاث الحق،رانا خالد محمود،خورشید خان،اللہ دتہ کاشف،فخر ملانہ اورخالد نعیم نے بھی خطاب کیا جبکہ وکلاء کے درمیان اختلافی نوک جھونک بھی جاری رہی۔