’’فلاحِ انسانیت‘‘ والے اور عمران کا دھرنا!

’’فلاحِ انسانیت‘‘ والے اور عمران کا دھرنا!
 ’’فلاحِ انسانیت‘‘ والے اور عمران کا دھرنا!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جنابِ عمران خان نے30اکتوبر کے روز دھرنے کا جو اعلان فرمایا تھا، اب اس کو تین دن آگے بڑھا کر 2نومبر کے روز، ہر حال میں اسلام آباد بند کرنے اور حکومت کو کسی طور نہ چلنے دینے کا اعلان فرما دیا ہے۔ 30اکتوبر کا دن اس لئے رد کیا گیا کہ اُس روز، اتوار ہوگا، یعنی دفاتر و ادارے،ہفتہ وار تعطیل کے باعث ویسے ہی بند ہوں گے، جبکہ عمران خان تو اپنے زور اور اپنی طاقت سے بند کرنا چاہتے ہیں، تاکہ دُنیا کو پتہ چل سکے کہ وہ پاکستان جیسے مُلک میں، حکومت سے زیادہ طاقتور ہیں اور حکومتی نظام کو اپنی مرضی کے تابع رکھنے کی قوت و صلاحیت رکھتے اور اپنی خواہش و اشارے کے مطابق چلا اور بند رکھ سکتے ہیں۔انہوں نے ملکی سیاسی تاریخ کا جو طویل ترین دھرنا دیا تھا، اس میں تو وہ ایک مخصوص علاقے تک محدود رہے تھے اور ساتھ میں جناب طاہر القادری کے معتقدین کا جم غفیر بھی تھا۔ تحریک انصاف کے لوگ تو رات میں جمع ہوتے اور ڈی جے بٹ کی موسیقی کو اپنی روح کی غذا جان کر، خوب متحرک ہوتے تھے،جبکہ عوامی تحریک کے وابستگان، دن رات، اپنے پڑاؤ ہی میں پڑے رہتے تھے، ’’اس دھرنے کے اثرات، منفی زیادہ تھے یا مثبت؟‘‘ یہ الگ سے قابل بحث موضوع ہے،اسلام آباد کے رہائشی، کاروباری حضرات اور ملازمین کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کا جو از حد، نقصان ہوا تھا، وہ بھی ایک طرف رکھ دیا جائے، تب بھی پی ٹی وی اور پارلیمینٹ پر حملوں کی وجہ سے، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جو سیاہ باب رقم ہوا تھا، وہ کسی طور بھی کم افسوس ناک نہیں۔
پچھلے دھرنے میں جو کچھ بھی ہوا، اس کے بارے میں تنقیدی و توصیفی انداز میں لکھنے کی بجائے، اتنا کہنا صحیح رہے گا کہ اُس دھرنے میں تحریک انصاف والے(بقول خود) ’’محدود علاقے میں رہے تھے اور کوئی ایسا حربہ نہیں اپنایا تھا کہ جس سے، کسی کی راہ روکی جائے‘‘(حالانکہ دھرنے سے شہری، کاروباری اور دفتری زندگی بُری طرح متاثر ہو گئی تھی)۔


جبکہ اس بار وہ علی الاعلان اور چیلنج کے انداز میں کہہ رہے ہیں کہ’’ہم حکومت کو چلنے نہیں دیں گے اور (پاکستان کے دارالحکومت) اسلام آباد کو ہر حال میں بند کر دیں گے‘‘۔اسی خاطر انہوں نے30اکتوبر، اتوار کے دن (کہ جب ادارے اور دفاتر ویسے ہی بند ہونے تھے) کی بجائے،ورکنگ ڈے(بدھ کے روز) کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی فرما دیا ہے کہ ’’دھرنا مطالبات کے مانے جانے تک چلے گا اور اس کی طوالت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا‘‘۔جنابِ عمران خان نے حکمرانوں اور حکومتی اداروں پر واضح کر دیا ہے کہ ’’اگر تم نے (حکومتی رٹ قائم کرنے کی خاطر) پکڑ دھکڑ کی یا کوئی حربہ اختیار کیا تو ہم جو (مُنہ توڑ)جواب دیں گے، تم یاد رکھو گے‘‘۔ یعنی خان صاحب اسلام آباد بند کرنے کی خاطر، ’’مرنے مارنے‘‘ تک جانے کی بھی پرواہ نہیں کرتے، تبھی وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ ’’مَیں موت سے نہیں ڈرتا‘‘۔


تجزیہ کار، حیران تھے کہ پچھلے دھرنے میں تو عمران خان کے ساتھ، ان کے ’’سیاسی کزن‘‘ طاہر القادری کا توانا سہارا تھا، اس بار تو وہ ’’ناراض ناراض‘‘ سے ہیں اور اسلام آباد دھرنے میں شرکت سے انکار کر چکے ہیں، پھر خان صاحب اتنے یقینی انداز میں اکیلے، اسلام آباد بند کرنے کی،پُرزور باتیں کیوں کر رہے ہیں؟ کیا اِس بار بھی کسی ’’امپائر‘‘ کی انگلی اُٹھنے کا’’وعدہ یا یقین‘‘ ملا ہے؟ یا کوئی اور اشارہ ہے؟ معاملہ ہے کیا؟۔۔۔حیرانی کے اِسی عالم میں، گزشتہ رات (پیر17،اکتوبر) جیو ٹی وی کے پروگرام ’’شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں، قدرے باخبر صحافی جناب حامد میر نے ایک ایسا انکشاف کیا کہ دینی ذہن رکھنے والے حیران (بلکہ پریشان) ہو جائیں اور تجزیہ کاروں کی حیرانی دور ہو جائے، حامد میر کہہ رہے تھے، کہ ’’اِس بار عمران خان کے دھرنے میں وہ لوگ شریک ہوں گے جو بڑی بڑی ریلیاں کرتے ہیں، جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، جو کہتے ہیں کہ وہ ’’انسانیت کی فلاح‘‘ کے لئے کام کرتے ہیں۔ وہ جب آئیں گے تو عمران خان کے اشارے اور حکم پر کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں گے، پچھلے دھرنے میں تو تحریک انصاف والے رات کی رات آتے تھے اور میوزک پر نعرے بازی کر کے چلے جاتے تھے، جبکہ یہ وہ لوگ ہیں،جو بغیر کھائے پیئے بھی کئی کئی دن نکالیں گے، مجھے جو لوگ ملے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ ہم دھرنے میں شریک ہوں گے۔ ان لوگوں کا جمہوریت سے بھی اتنا تعلق نہیں،یہ لوگ آئیں گے تو سمجھ لیں، عمران خان کے دھرنے کی قوت کیا ہو گی؟‘‘


جنابِ حامد میر واضح طور پر’’جماعت الدعوۃ‘‘ اور ’’فلاح انسانیت فاؤنڈیشن‘‘ کی طرف اشارہ کر رہے تھے، ان کی بات سن کر مجھے یقین نہیں آ رہا تھا، اِس لئے کہ اِس جماعت کے اکثر لوگ سیاست میں مسلم لیگ (ن) سے ہمدردی اور تعلقِ خاطر کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ عمران خان اور تحریک انصاف کی آزاد خیالی اور دھرنے میں ’’ناچ گانے‘‘ کو بھی کسی طور پسند نہیں کرتے، پھر وہ دھرنے میں کیوں کر شریک ہو سکتے ہیں؟۔۔۔ اچانک خیال آیا کہ ہو سکتا ہے،’’دفاعِ پاکستان کونسل‘‘ سے تعلق رکھنے والے، اس طرف ملتفت ہوں کہ، اس کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق سے تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا حکومت کے مراسم، بہت اچھے اور ’’گہرے‘‘ ہیں، اتنے ’’گہرے‘‘ کہ تمام تر سیاسی تنقید کے باوجود صرف انہی کی جماعت کو30کروڑ کی خطیر رقم عطا کی گئی تھی، یہ رقم کسی تعلیمی تبدیلی کے لئے تھی یا روایتی حریف مولانا فضل الرحمن کی پارٹی کے مقابل موثر کردار ادا کرنے کے لئے تھی ۔۔۔ہو سکتا ہے،’’ دفاعِ پاکستان کونسل‘‘ کے پلیٹ فارم سے دھرنے میں شرکت کا کوئی’’فیصلہ‘‘ ہو چکا ہو، کہ اس کونسل کے اکثر لوگ(مولانا سمیع الحق، جماعت اسلامی، شیخ رشید، سردار عتیق، مولانا ابو زبیر وغیرہ) یا تو کسی نہ کسی طرح تحریک انصاف کے حلیف ہیں یا مسلم لیگ(ن) کے خلاف و سخت ناقد(ویسے بھی یہ کونسل مخصوص حالات ہی میں متحرک ہوتی نظر آتی ہے)


حامد میر کی بات سُن کر، دوسرا خیال یہ ابھرا کہ ہو سکتا ہے، جس خبر کے آؤٹ ہونے پر، حکومت پر سخت تنقید کی جا رہی ہے، اس کے مطابق بعض حکومتی ذمہ داران نے (مبینہ طور پر) حافظ سعید صاحب اور ان کی پارٹی کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے اس کے ردعمل میں ’’جماعت الدعوۃ‘‘ نے اتنا بڑا فیصلہ کر لیا ہو، اور اِس طرح عمران خان کے ساتھ مل کر حکومت اور حکومتی پارٹی کو سبق سکھانا چاہتی ہو!ہم نے اِس معاملے کو اچھی طرح جاننے کی خاطر، جماعت الدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا امیر حمزہ کو کال کی اور پوچھا کہ ’’حامد میر صاحب نے جو کچھ بتایا ہے کیا وہ صحیح ہے؟ تو انہوں نے کہا’’مجھے نہیں معلوم انہوں نے کیا کہا ہے، نہ ہی کسی نے اُن کے بیان کے بارے میں بات کی ہے‘‘۔ہم نے پوچھا:’’کیا یہ جماعت الدعوۃ‘‘ کی پالیسی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ’’نہیں ایسی کوئی پالیسی نہیں بنی، البتہ ہمارے ہاں چونکہ اب جمہوریت کے بارے میں پہلے والی سختی نہیں رہی تو لوگ ووٹ بھی ڈالتے ہیں، زیادہ تر نے مسلم لیگ(ن) کو ووٹ دیا ہے، کئی تحریک انصاف کے بھی حق میں ہیں، ہو سکتا ہے کئی لوگ دھرنے میں بھی شریک ہو جائیں‘‘ہم نے پوچھا: ’’کہیں حکومتی لوگوں کے حافظ صاحب کے بارے میں بیان کے ردعمل میں تو لوگ دھرنے میں شریک نہیں ہوں گے؟


کہنے لگے: ’’ہو سکتا ہے، لوگ ردعمل میں شریک ہوں، مگر ایسا نہیں کہ امیر حمزہ اور حافظ عبدالرحمن مکی لوگوں کو ساتھ لے کر شریک ہوں اپنے طور پر لوگ ردعمل میں شریک ہو ں تو ہو سکتا ہے‘‘۔ ہم نے کہا ،’’حامد میر صاحب نے تو یقینی طور پر کہ دیا ہے اور معاملہ بڑا اہم ہے، آپ کی جماعت کی طرف سے پالیسی بیان آ جانا چاہئے، تو کہنے لگے: ’’اب اس طرح کے بیان صحیح نہیں، اس طرح تحریک انصاف ناراض ہو جائے یا کوئی اور ناراض ہو جائے،ہمارا جو موقف ہے اس سے لوگ آگاہ ہی ہیں‘‘۔مولانا امیر حمزہ نے واضح طور پر، بتا دیا کہ ’’تنظیمی طور پر تو ایسی کوئی پالیسی نہیں، افراد اپنے طور پر شریک ہو سکتے ہیں‘‘ ان کا کہنا بجا ہے، پھر بھی سوچ پیدا ہوتی ہے کہ ’’ایک منظم جماعت‘‘ سے تعلق رکھنے والے افراد، انفرادی طور پر ’’نظریاتی وابستگی‘‘ کو نظر انداز کر کے،کسی دوسری پارٹی کے انتہائی اقدام میں اس کی قوت و طاقت کس طرح بن سکتے ہیں؟حامد میر صاحب سے جو لوگ ملے، وہ کون تھے؟ اور وہ ’’انفرادی شرکت‘‘ کی بجائے ’’منظم شرکت‘‘ والی بات کس طرح کر رہے تھے؟حامد میر صاحب، ایک ذمہ دار صحافی ہیں اور مولانا امیر حمزہ، اپنی پارٹی کے مرکزی ذمہ دار، دونوں کو ایک بار پھر سے، معاملے کو سمجھنے اور سمجھانے کی خاطر متعلقہ افراد کے بارے میں اچھی طرح جان لینا چاہئے!

مزید :

کالم -