سندھ ہائی کورٹ کا آئی جی کو شراب کی تمام دکانیں فوری بند کرانے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ کا آئی جی کو شراب کی تمام دکانیں فوری بند کرانے کا حکم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (آ ن لائن)سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس سجاد علی شاہ پرمشتمل بینچ نے آئی جی سندھ کو شراب کی تمام دکانیں فوری بند کرانے کا حکم سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ شراب کی دکان سارا سال کھلی رکھنے کا کون سا قانون ہے۔منگل کو عدالت میں مسلم آبادیوں میں موجودشراب خانوں سے مسلمانوں کوسرعام شراب فروخت کرنے کے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ڈی جی ایکسائز نے عدالت میں رپورٹ پیش کی کہ کراچی میں 120شراب خانون کے لائسنس ہیں جبکہ صرف ضلع جنوبی میں ہی 24لائسنس دیے گئے۔ڈی جی ایکسائز کی رپورٹ کیمطابق ضلع جنوبی میں بیس ہزار اقلیتی افراد اور شراب کی 24 دکانیں ہیں۔عدالت نے آئی جی سندھ کو شراب کی تمام دکانیں فوری بند کرانے کا حکم سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ شراب کی دکان سارا سال کھلی رکھنے کا کون سا قانون ہے؟۔عدالت کا کہناتھاکہ سال کے365دن شراب کی دکانوں کے لائسنس غیر قانونی ہیں اورحدود آرڈیننس کے تحت شراب اقلیتوں کے تہواروں پر دی جا سکتی ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ضلع جنوبی میں شراب اقلیتوں کے نہانے کے بعد بھی بچ جائے گی،صرف اقلیتوں کے تہوار، ہولی ، کرسمس اوردیوالی سے پانچ روز قبل شراب دی جاسکتی ہے۔عدالت نے سندھ حکومت کو حکم دیا کہ دو روز میں شراب خانوں کو بند کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے اور شراب کے لائسنس ری کال کر لیے جائیں جبکہ ڈی جی ایکسائز کو حکم دیا گیا کہ وہ شراب کے لائسنس ری کال کر کے رپورٹ فوری طور پر جاری کریں۔ عدالت نے ڈی جی ایکسائیزکوحکم دیاہے کہ شراب خانوں کے لائسنس دینے میںآرڈینیس 1979ء کی سیکشن 17کی خلاف ورزی کی گئی ہے لہذامحکمہ ایکسائیزتمام لائنسنس منسوخ کرکے دوبارہ انکوائری کے بعد رپورٹ عدالت میں پیش کرے تاہم جب تک تمام شراب خانوں کوبندرکھاجائے ۔

مزید :

صفحہ اول -