ہائیکورٹ نے لیسکو کو بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس کے متنازع واجبات کی وصولی سے روک دیا

ہائیکورٹ نے لیسکو کو بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس کے متنازع واجبات کی وصولی سے روک ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے لیسکو کو بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس کے متنازع واجبات کی وصولی سے روکتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ اختیار صرف ایف بی آر کے پاس ہے۔جسٹس عابد عزیز شیخ نے یہ حکم صدیق آئرن سمیت 11کمپنیوں کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے جاری کیا ۔درخواست گزاروں کی طرف سے محمد محسن ورک ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ لیسکو بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس کے متنازع واجبات وصول کرنا چاہ رہا ہے اور اس حوالے سے پنجاب بھر بھی صنعتی اداروں کو بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کے متنازع واجبات لگا کر بھجوائے جا رہے ہیں جو غیرقانونی اقدام ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ لیسکو سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ48کا اختیار استعمال کرنے کا مجاز نہیں، اگر لیسکو کو متنازع واجبات کی وصولی کا اختیار دیدیا گیا تو اس طریقے سے ٹیکس گزاروں کو شنوائی کا موقع نہیں ملے گے، ٹیکس واجبات کے تنازعات حل کرنا صرف ایف بی آر کا اختیار ہے ،لیسکو کو سیلز ٹیکس کے متنازع واجبات کی وصولی سے روکا جائے، ایف بی آر کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ لیسکو ایف بی آر کے کہنے پر یہ بجلی کے بلوں میں متنازع واجبات شامل کر رہا ہے، عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد تمام درخواستیں نمٹاتے ہوئے حکم جاری کیا کہ لیسکو کو بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس کے متنازع واجبات کی وصولی کا اختیار نہیں ہے، عدالت نے ایف بی آر کو حکم دیا ہے کہ وہ درخواست گزاروں کو شنوائی کا مکمل موقع دے اور اگر سیلز ٹیکس کے واجبات بنتے ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -