اہلسنت کا ذمہ داروں کی شہریت منسوخی کے غیر آئینی اقدام کیخلاف 28 اکتوبر کو احتجاجی مظاہرہ ہوگا

اہلسنت کا ذمہ داروں کی شہریت منسوخی کے غیر آئینی اقدام کیخلاف 28 اکتوبر کو ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


چارسدہ (بیور و رپورٹ) اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی اور مرکزی صدر مولانا اورنگزیب فاروقی سمیت ذمہ داران اور کارکنان کی شہریت کی منسوخی غیر آئینی اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔28اکتوبر کو حکومتی اقدامات کے خلاف اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائیگا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائیگا ۔ مولانا حق نواز درانی ۔ تفصیلات کے مطابق اہلسنت والجماعت کے ضلعی ترجمان مولانا حق نواز درانی نے اخبارات کیلئے جاری کر دہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اہلسنت والجماعت کے قائدین کی شہریت منسوح کرنا غیر آئینی اور بنیادی انسانی حقو ق کے خلاف ہے ۔ وفاقی حکومت آمرانہ اور ظالمانہ فیصلوں سے اہلسنت والجماعت کے پر امن پالیسیوں اورجدو جہد کو سبوتاژ کرکے پاکستان میں انتشار اور تشدد کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مملکت خداد پاکستان ہمارے آباؤ و اجدا د نے لا زوال قربانیاں دیکر اس لئے نہیں بنایا تھا کہ ہمیں دھکے دیکر اپنے ملک سے نکالا جائے ۔ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مذہبی حلقوں کی محرومیاں بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ایپل کی کہ شہریت کی منسوخی کے حوالے سے سوموٹو ایکشن لیکر محب وطن لوگوں کو انصاف فراہم کریں۔ انہوں نے کہاکہ وہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اعلی عدلیہ سے بھی رجوع کرینگے اور عوامی عدالت میں بھی جارہے ہیں۔ 28اکتوبر کو اسلام آباد میں اس حوالے سے ایک بڑ ا احتجاجی جلسہ ہو گا جس سے قائد اہلسنت والجماعت علامہ محمد احمد لدھیانوی خطاب کرینگے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ لیگی حکومت منافقانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ حکومت نے ہمیشہ بڑے سانحات کے بعد امن کیلئے قائدین اہلسنت کو استعمال کیا ۔ اب محب وطن لوگوں پر پابندی اور غداروں کو آزادی دینا کہا ں کا انصاف ہے ۔