کرش پلانٹس صنعت کے قیام میں رکاوٹیں دور کرنے کیلئے قوانین میں ترمیم پر غور کیا جا ئیگا، انیسہ زیب

کرش پلانٹس صنعت کے قیام میں رکاوٹیں دور کرنے کیلئے قوانین میں ترمیم پر غور ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پشاور(پاکستان نیوز)خیبر پختونخوا کی وزیر معدنی ترقی اور محنت انیسہ زیب طاہر خیلی نے کہا ہے کہ معدنی کان کنی کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے نئے منرل ایکٹ کے تحت مائننگ اور دیگر تمام متعلقہ امور میں محکمہ ماحولیات اور معدنیات کے باہمی تعاون کو ضروری قرار دیا گیا ہے جبکہ کرش پلانٹس کی صنعت کے قیام سے متعلق حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے محکمہ صنعت قوانین میں ترامیم پر غور کرے گا انہوں نے ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ غیر قانونی مائننگ کی شکایات کی روشنی میں محکمہ معدنیات کے ساتھ تعاون کر کے اسے فوری طور پر روکنے میں اپنا کردار اداکرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اپنے دفتر پشاور میں ہزارہ ڈویژن میں کرشنگ پلانٹس کی بندش کے مسئلے کے ممکنہ حل اور مائننگ اپریشنز سے متعلق دیگر امور کے بارے میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم،محکمہ ہائے معدنی ترقی و صنعت کے سیکرٹریز،ڈی جی معدنیات،سینئر انسپکٹر مائنز،چیف انسپکٹر مائنز، ڈائریکٹر پلاننگ معدنیات،ڈائریکٹرصنعت،ڈپٹی ڈائریکٹر انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی،سابق صوبائی وزیر یوسف ایوب ،محکمہ ماحولیات، معدنیات و دیگر متعلقہ محکمہ جات کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہزارہ ڈویژن میں کرش پلانٹس کی بندش کے مسئلے کا ممکنہ اور پائیدار حل نکالنے کی غرض سے مختلف تجاویز پر غور و خوض کیا گیا اور اس حوالے سے متعلقہ محکمہ جات نے اپنی آراء پیش کیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس بندش سے علاقے میں کرش پلانٹس میں کام کرنے والے محنت کشوں کو بیروز گاری کا سامنا ہے اور معاشی طور پر اس وجہ سے زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے اس مسئلے کے ممکنہ حل کیلئے ایک پوائنٹ پر اتفاق رائے پیدا کرنیکی غرض سے محکمہ صنعت کے ڈائریکٹر اخونزادہ انور سعید،چیف انسپکٹر مائنز فضل رازق اور ڈپٹی ڈائریکٹر انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی ثناء اللہ پر مبنی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو اپنی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر پیش کریگی جبکہ صوبائی وزیر نے ہزارہ ڈویژن میں بھی اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جس میں ای پی آئی،صنعت اور معدنیات کے متعلقہ حکام شامل ہوں گے اور کمیٹی معدنیات سے متعلق مذکورہ امور کی ریگولر مانیٹرنگ کرے گی۔