سرکاری اداروں میں کرپشن حد سے آگے چلی گئی ہے،سید عارف شیرازی

سرکاری اداروں میں کرپشن حد سے آگے چلی گئی ہے،سید عارف شیرازی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


راولپنڈی(نیوز رپورٹر) امیرجماعت اسلامی سٹی ڈسٹرکٹ راولپنڈی سید عارف شیرازی نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آج 5 کروڑ سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔حکمران اللہ کا خوف کریں ٗ کیونکہ ان کو بھی اس دُنیا سے خالی ہاتھ جانا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی سٹی اور کینٹ کی مختلف یونین کونسلوں کے تنظیمی دورے کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سید عارف شیرازی نے کہا کہ ملک کے سرکاری اداروں میں کرپشن حد سے آگے چلی گئی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ریلوے میں 80 ارب اور پاکستان پوسٹ میں33 ارب روپے سے زائد کے گھپلے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک اللہ کی ایک نعمت ہے ۔جس کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے خزانوں سے بھر دیا ہے ۔ لیکن عوام نا اہل حکمرانوں کی غلط معاشی پالیسیو ں کی وجہ سے خود کشیوں پر مجبورہو رہے ہیں ۔ غربت سے تنگ آئے ہوئے والدین اپنے بچوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام ہمیں احترام آدمیت سکھاتا ہے اور اس کی بنیادیں بھی فراہم کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا ہے کہ ہم نے تمام انسا نوں کو بزرگی عطا کی ہے ۔اسی طرح قرآن کہتا ہے کہ ہم نے تمام انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔اور پھر یہ بھی کہا گیا کہ ایک مرد اور ایک عورت سے تم کو پیدا کیا۔اللہ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو متقی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دُنیا میں بڑے بڑے ظالم اور جابر حکمران گز رے ہیں ٗ جنہوں نے انسانوں پر بڑا ظلم روا رکھا۔ لیکن اس کے مقابلے میں عادل حکمرانوں کا تذکرہ قرآن میں کیا گیا ہے ۔مثلا سلیمان علیہ السلام ایک عادل حکمران تھے۔حضرت یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر سے حکومت لے کر خزانوں کو عوام الناس میں عدل و انصا ف سے تقسیم کیا۔ اسی طرح قرآن ذوالقرنین کا تذکرہ بھی کرتا ہے ۔جس نے مشرق سے مغرب تک ساری دُنیا کو فتح کیا۔لیکن ہر علا قہ فتح کرنے کے بعدوہ لوگوں کو یہی کہتے تھے کہ یہ محض اللہ کا فضل ہے۔میں اللہ کا عاجز بندہ ہوں اور وہ ہر جگہ انسانوں کی خدمت کرتے چلے گئے ۔سید عارف شیرازی نے کہا کہ حکمرانوں سے ہماری اپیل ہے کہ وہ آج کے معاشرے کو معاشی عدل انصاف فراہم کریں۔ حکو متو ں کے خزا نے غریب آدمی پر خرچ کیے جائیں۔غریب خاندانوں کو مستحکم کیا جائے اور ان کے بچوں کی تعلیم ٗ صحت اور کفالت کا انتظام کیا جا ئے۔