کشمیر کا سہاگ بچانے کے لئے پُرعزم خواتین

کشمیر کا سہاگ بچانے کے لئے پُرعزم خواتین
 کشمیر کا سہاگ بچانے کے لئے پُرعزم خواتین

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نظام الدولہ
مقبوضہ وادی میں راہ چلتی خواتین بالخصوص مسلمان طالبات کو بھارتی فوج جنسی طور پر ہراساں کرنے اور زیادتی کا نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوچکی ہے لیکن اس پرحقوق نسواں کی عالمی تنظیمیں خاموش نظر آرہی ہے،ویسے بھی بھارت ناریوںکے حقوق کے حوالے سے بدنام زمانہ شہرت کا حامل ہے ،شاید اسی وجہ سے بھارتی سرکار نے مقبوضہ وادی کشمیر میں خواتین کے ساتھ ریاستی مظالم اور ملٹری گینگ ریپ کو معمول کا درجہ دے دیا ہے۔لیکن کشمیری خواتین اس سے ہراساں نہیں بلکہ وہ کشمیر کا سہاگ بچانے کے اپنی جانیں قربان کرنے پر تیار ہوچکی ہیں۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں خواتین کے خلاف بھارتی فورسز کے بیہیمانہ تشدد میں اضافہ ہورہاہے۔حالیہ تحریک کو ایک سو چار دن گزر چکے ہیں اور کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جب فورسز خواتین کے جلوس اور جلسے منتشر کرنے کے لئے شیلنگ نہ کرتی ہوں ،انہیں سرعام سڑکوں پر گھسیٹا نہ جاتا ہو،انکے کپڑے پھاڑ کر ان کا مذاق نہ اڑایا جاتا ہو۔وادی میں عملاً کرفیو نافذ ہے لیکن خواتین وادی کے مختلف شہروں میں نوجوانوں کے شانہ بشانہ حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے کے لئے جلوس نکال رہی ہیں۔خواتین کے مسلسل جلوسوں سے ریاستی حکومت پریشان ہے اور تحریک نسواں کے بڑھتے جذبہ حریت سے ان میں یہ سوچ پیدا ہوگئی ہے کہ اگر کشمیر کی خواتین کا یہ تسلسل قائم رہا تو بھارتی حکومت کو عالمی سطح پر شدید تنہائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔
ادھر اوآئی سی نے بھی پاکستان کی بھر پور وکالت کے بعد اقوام متحدہ سے مطالبہ کردیا ہے کہ وہ فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ وادی میں بھیج کر بھارتی فوج کے مظالم کو اپنی نظروں سے دیکھے ۔پاکستان کی اس مہم کے نتیجہ میں مقبوضہ وادی کی خواتین میں جوش بڑھ گیا ہے اور انہوں نے نیو تھید ہا رون میں جلوس نکال کر اسلام اور آ زدی کے حق میں نعرہ با زی کی۔ خواتین کے احتجاج کے باعث جنوبی کشمیر پلوامہ کے حساس مقامات پر پولیس اور سی آر پی ایف کی تعیناتی کی وجہ سے مکمل ہڑتال ہونے سے شوپیان، ترال، پانپور ، اونتی پورہ، کاکہ پورہ اور ضلع کے دیگر اہم علاقوں میں بھیزندگی کا نظام مفلوج رہا ۔شام کے وقت فورسز کی توڑ پھوڑ کے خلاف سینکڑوں خواتین نے ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالااور بھارت مخالف اور اسلام اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کئے۔ اس دوران وہاں سے ایک فوجی گاڑی گز ری تواس نے جلوس کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائر نگکردی۔یمرچھ یاری پورہ کولگام میں بھی دختران ملت کے اہتمام سے ایک ریلی نکالی گئی جس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شر کت کی لیکن بانڈی پورہ میں آلوسہ کے مقام پر خواتین ریلی پر شیلنگ کی گئی۔اس موقع پر کشمیری خواتین کو فورسز کی طرف سے دھمکیاں بھی دی گئیں کہ اگر وہ گھروں میں نہ گئیں تو ان کے ساتھ ایک بار پھر 1991ءکی تاریخ دھرائی جاسکتی ہے۔
فروری 1991ءمیں خواتین کو تحریک خودارادیت کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے راجپوت بٹالین کے فوجیوں نے کپواڑہ کے دو دیہاتوں کنان اور پشواڑہ میں خواتین سے اجتماعی ریپ کیا تھا ۔بھارتی فوج کے مطابق فوجیوں نے تئیس خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی کہ جبکہ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کی تعداد ایک سو تھی۔اس اجتماعی زیادتی پر بھارت میں کئی کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں جو جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کے تاثرات پر مشتمل ہیں ۔متاثرین نے دہلی کی ہائی کورٹ میں اس واقعہ پر مقدمہ بھی کیا تھا لیکن اسے خارج کردیا گیا تھا جس کے بعد تاحال اجتماعی طور پر نشانہ بننے والی خواتین انصاف کے لئے بھارتی عدالتوں میں دھکے کھارہی ہیں۔
حالیہ دنوں وادی میں چلنے والی تحریک بھی ایک طالبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے باعث رونما ہوئی ہے۔ اپریل میں ہنڈوارہ کی ایک طالبہ کو بھارتی فوجی نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اس واقعہ کو دبانے کے لئے اس طالبہ کے اہل خانہ کو ٹارچر سیل میں لے جایا گیا جس کے بعد طلبا نے احتجاج کیا تو بھاری فوج نے ان پر فائر کھول دیا تھا ،نتیجتاً پانچ افراد شہید ہوگئے تو وادی میں احتجاجی تحریک نے زور دار جنم لیا اور گھر گھر یہ پیغام پہنچایا گیا کہ بھارتی فوج کشمیری لڑکیوں کو جنسی طور پر بھی ہراساں کررہی ہے لہذا انکے خلاف کھڑا ہونا ضروری ہے۔موجودہ تحریک کے دوران بھارتی فوجیوں نے اب تک ہزاروں طالبات پر تشدد کیا ہے جبکہ خواتین کو پیلٹ گنوں سے نشانہ بنا کر انکے چہرے بگاڑ دئےے ہیں ۔ ایک سال پہلےبھی اودھم پورہ میں بھی پانچ افراد نے جن میںایک فوجی بھی شامل تھا ،انہوں نے راہ چلتی ایک خاتون کے سرعام کپڑے اتار دئےے تھے ۔افسوسناک بات تو یہ ہے کہ بھارت کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بارے میں عجیب موقف اختیار کرتی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران ایسے واقعات رونما ہوجاتے ہیں ۔گجرات کے فسادات میں بھی مسلمان عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں ہوئی تھیں اور مقبوضہ کشمیر میں تو یہ معمول بنتا جارہا ہے۔دختران ملت کی رہ نما آسیہ اندرابی کو اسی ایما پر بار بار گرفتار بھی کیا جارہا ہے۔انہوں نے خواتین کو اپنے تحفظ کے لئے خنجر پاس رکھنے کا بھی مشورہ دیا تھا ۔وہ پاکستان کے ساتھ الحاق اور جہاد پر یقین رکھنے والی جراتمند خاتون ہیں جنہوں نے ایک تحریک کے دوران برقعہ پوش خواتین کے ساتھ احتجاجی تحریک کو نیا ولولہ دیاہے ۔آسیہ اندرابی کا کہنا ہے کہ خواتین کو جنس زدہ بھارتی فوج سے بچانے کے لئے خواتین کی اجتماعی طاقت میں اضافہ کرنا ضروروی ہے اور خواتینکی قربانیوں سے ہی مقبوضہ وادی کا سہاگ سلامت رہے گا۔بلاشبہ نوجوان طالبات اور گھریلو خواتین اس عزم کے ساتھ پوری وادی میں آزادی اور اسلام کے ترانے گا رہی ہیں۔

مزید :

بلاگ -