سوچی سمجھی سازش

سوچی سمجھی سازش
سوچی سمجھی سازش

  



ہم، بحمد اللہ مسلمان ہیں اور اس ناطے سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، نبی محتشم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت، اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ فرشتوں ، عالم انسانیت کی ہدایت و راہ نمائی کے لئے ان کی بھیجی ہوئی کتب، ان کے فرستادہ رسولوں اور پیمبروں کے علاوہ یوم آخرت پر ایمان رکھنا ہمارے اسلام کے لازمی تقاضے ہیں۔ ہم سے پہلی امم بھی اپنے اپنے نبی کے ساتھ ساتھ انہی امور پر ایمان کی مکلف تھیں۔ وہ جس نبی پر ایمان لے آتیں، اسی کی امت کہلاتیں۔ نبی مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دنیا میں دو ہی امتوں کا چرچا تھا : یہودی اور عیسائی ۔ جو لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے ، وہ ان کی امت کہلائے اور انہیں یہود کہہ کر پکارا گیا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے تو یہود یا غیر یہود میں سے ان کی نبوت کو تسلیم کرنے والوں کو نصاریٰ یا عرفِ عام میں عیسائی کہا گیا ۔ا ن دونوں امتوں کا تشخص اسی نبی علیہ السلام کی وجہ سے قائم ہوا جس پر وہ ایمان لائیں۔ بعینہ جب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خلعتِ نبوت سے سرفراز فرمایا تو ان پر ایمان لانے والے سابقہ دونوں امتوں سے ہٹ کر الگ تشخص کے حامل قرار پائے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی آخری کتاب میں ”مسلم“ کا نام عطا کیا ۔ یہی نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں بارہا اپنے پیروکاروں کو دیا۔

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ کسی بھی امت کا تشخص صرف اور صرف عقیدہ رسالت کی وجہ سے بنتا ہے ۔ اگر آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہی نبی مانتے ہیں تو آپ کو نہ نصرانی (عیسائی) کہا جاسکے گا اور نہ مسلمان۔ اور اگر آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے انہیں اللہ تعالیٰ کا مبعوث نبی مان لیا تو آپ بے شک حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دیگر سابق انبیاءکو بھی سچے نبی گردانتے ہوں، آپ ایک الگ امت کے فرد بن جاتے ہیں ۔ اب آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ماننے والوں کی طرح یہودی نہیں کہلائیں گے بلکہ آپ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کی وجہ سے نصرانی یاعیسائی کا لیبل چسپاں کردیا جائے گا۔ اسی کلیے قاعدے کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام ، دونوں کو نبی تسلیم کرنے کے باوجود ایک نئی امت .... امت مسلمہ.... یا امتِ محمدیہ.... کا فرد بن جاتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہی ہمارے ایمان کا محور قرار پاتی ہے اور ہمارے تشخص کی اکلوتی بنیاد۔

یومِ فتحِ قادیان

ہمارے اس تشخص اور شناخت کو ہمارے نبی محتشم فداہ انفسناو ارواحناصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر رہتی دنیا کے لئے امر کردیا ہے کہ

 میں نبیوں کے سلسلے کی آخری کڑی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

اسی کی صراحت آپ نے ایک اور فرمان میں یوں بھی کردی:

 میں نبیوں میں سے آخری ہوں اور تم امتوں میں سے۔

اس اعتبار سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلہ¿ نبوت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا گیا ۔ اب کسی بھی حوالے سے کسی بھی فرد پر لفظِ نبی کا اطلاق قیامت تک نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر کوئی اپنے آپ کو نبی کہتا ہے تو وہ جھوٹا ہے ، دغا باز ہے ، فریبی ہے،اور اس کا امتِ مسلمہ سے اگر کوئی ناطہ رہا بھی ہو تو وہ دائرہ اسلام سے نکل کر کفر کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے اور اسی طرح اس کو نبی ماننے والے بھی غیر مسلم اور کافر بن جاتے ہیں ۔ کسی بھی ایسے مدعی نبوت کو ماننے والے اگر پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانتے تھے تو اب وہ ارتداد جیسے بھیانک جرم کے مرتکب کہلائیں گے۔

نبی اعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بڑے واضح انداز میں یہ بتلا دیا تھا کہ ان کے بعد ”نبوت کے تیس جھوٹے دجال دعوے دار پیدا ہوں گے ، ان میں سے ہر ایک کو یہ گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے ، حالانکہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“

ان جھوٹے نبیوں کا وقتاً فوقتاً ظہور ہوتا رہا ۔ آغاز تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحلت فرما جانے کے معاً بعد مسیلمہ کذاب اور سجاح نامی خاتون کی صورت میں ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کمال حکمت ودانائی ، جرا¿ت و شجاعت اور عزیمت و استقلال کا ثبوت دیتے ہوئے اس فتنے کی سرکوبی کی اور اسے جڑوں سے کاٹ ڈالا۔

امت ِمسلمہ نے جو اپنی چودہ سو سالہ تاریخ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ختم نبوت کے حوالے سے

بے مثال حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے ۔ جب کبھی بھی کسی دریدہ دہن نے ردائے نبوت پر حملہ کیا ، کسی بد باطن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا ، یا کسی دجالی صفت جھوٹے اور مکار نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ، امت ِمسلمہ اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ، اسلامی غیرت و حمیت سے سرشار ہوکر میدان میں اتری اور اس فتنے کی سرکوبی کے لئے اپنے جملہ وسائل کو بروئے کار لے آئی۔

برصغیر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹ نبوت کی کاشت برطانوی سامراج کی نرسری میں ہوئی ۔ غاصب انگریزی حکم رانوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے اس جھوٹی نبوت کی تخم ریزی کی ۔ اس کی پو پھٹنے سے لے کر اس کے برگ و بار لانے تک اس کی آبیاری کی اورپھر اپنی سرپرستی میں اس کو پروان چڑھانے کے لئے اپنے جملہ وسائل کو استعمال کیا ۔ بر صغیر پر اپنے غاصبانہ تسلط کے دوران انگریز کو مسلمانوں کے جذبہ¿ جہاد سے بہت سے خطرات لاحق تھے ، چنانچہ اپنے تئیں ان کا قلع قمع کرنے کے لئے اس کے کارندے”وحی“ کے بے تکے سلسلے کا القاءمرزا غلام احمد قادیانی کی سماعتوںپر کرتے رہے ۔ اس میں مغلظات بھی تھیں اور ہفوات بھی۔ اس میں خود ساختہ نبی کے آقایانِ ولی نعمت .... سرکار انگلیسیہ.... کی مدح سرائی بھی تھی اور اس کے مخالفین کے لئے ”نوید عذاب“ بھی ۔ اسی سلسلے کے دوران ”جہاد کے خاتمے “ کا القاءبھی ہوا اور یوں بزعم خود انگریزی سامراج نے خود کاشتہ نبوت کے ذریعے جہاد پر قیامت تک کے لئے خطِ تنسیخ کھینچ دیا۔

اسلامیانِ بر صغیر کے سبھی مسلم مکاتب ِفکر نے علمی ودینی ، فکری و نظری اور سیاسی و قانونی محاذ پر اس جھوٹی نبوت کے تارپود بکھیر کر رکھ دیئے ۔ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کا ابطال ہر جگہ کیا ، ہر مقام پر کیا، ہر سطح پر کیا ، اور اس کے پس پردہ ناپاک عزائم کو آشکار کردیا۔ ان کی بے لوث ، اَن تھک مخلصانہ مساعی سے جھوٹی نبوت کب کی اپنی موت مرچکی ہوتی لیکن انگریزی سامراج نے اپنی تہذیب و تمدن اور اپنی تعلیمی وثقافتی روایات کی طرح اپنی جنم دی ہوئی اس نبوت کو بھی بر صغیر میں زندہ رکھا اور اسے پروان چڑھاتے رہنے کے لئے اس کی بھرپور سرپرستی کی تاکہ اسلامیانِ بر صغیر ہی نہیں ، اسلامیانِ عالم میں بھی اسے فروغ دے کر امتِ مسلمہ کی جڑیں کاٹنے کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جاسکے۔

امتوں کے تشخص کو قائم کرنے کے لئے طے شدہ اصول کی رو سے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کا ناطہ اسلام سے یکسر ٹوٹ جانا چاہیے تھا ، اور انہیں اپنے آپ کو ایک نئی امت کے طور پر متعارف کروانا چاہیے تھا .... گو کہ ان کا فی نفسہ وجود اور باقی رہنا ان اسلامی احکامات و تعلیمات کی روشنی میں ناقابل قبول تھا ، جن کی رو سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد اسلامی ریاست کو درپیش کئی ایک سنگین خطرات کے باوجود مسیلمہ کذاب اوراس کے متبعین کا قلع قمع کرنے کے لئے لحظہ بھر کا تامل بھی نہیں کیا تھا.... مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کو نبی تسلیم کرنے والوں کو اپنی الگ شناخت پر اصرار کرنا چاہیے تھا ، لیکن انہوں نے طے شدہ اصول سے اس لئے روگردانی کی کہ ان کا اصل ہدف تو امت ِمسلمہ کو کمزور کرنا ، اسے نقصان پہنچانا تھا ، اس کی بنیادوں کو متزلزل کرنا تھا ، اور اسی کے حصول کے لئے تو برطانوی سامراج نے اس نبوت کو جنم دیا تھا ، جیسے اس نے عرب ممالک کے عین و سط میں اسرائیل کے ناپاک وجود کو تخلیق کیا تھا ۔ اس جھوٹی نبوت کے کرتا دھرتا آج بھی اپنے آقاﺅں کی گود میں بیٹھے امت مسلمہ کے خلاف دسیسہ کاریوں میں مصروف ہیں ۔

اس جھوٹی نبوت کے علم بردار اگر اپنے الگ تشخص کے ساتھ اپنے آپ کو متعارف کرواتے تو انہیں پذیرائی نہ ملتی ۔ ان کے سامنے امت مسلمہ کا پلیٹ فارم پہلے سے موجود تھا ، اسی کا لبادہ اوڑھ کر وہ میدان میں اترے اور اپنے آپ کو مسلمان یا مسلمانوں کا ایک فرقہ بتلا کر اپنی حیلہ سازیوں کے ذریعے کم علم لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے رہے اور یوں اپنے آقاﺅں کے اہداف کو پانے کے لئے ابلیس کے تمام تر ذرائع بروئے کار لاتے رہے ، لارہے ہیں ۔

اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ علمائے بر صغیر نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کے حوالے سے علمی وفکری اور واقعاتی تناظر میں اپنے فرائض کو بروقت اور کماحقہ ادا کیا ۔ قیام پاکستان کے بعد بھی قادیانیت کا تعاقب جاری رہا ، اور تسلسل کے ساتھ یہ مطالبہ کیا جاتارہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہیں ، انہوں نے قادیانیوں کے ذریعے ہی یہ موقعہ فراہم کیا اور ربوہ ( موجودہ چناب نگر) کے ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر قادیانیوں کے حملے اور ان کی شدید مارکٹائی نے پورے ملک میں ایک فقید المثال تحریک کی بنیاد رکھ دی ، جس کے نتیجے میں1974ءآئینی وقانونی طور پر قادیانیوں کے دونوں گروہ غیر مسلم قرار پائے ۔

اصولی طور پر قادیانیوں کو یہ فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے دیگر اقلیتوں کی طرح اپنے آئینی حقوق پر قناعت کر لینی چاہیے تھی لیکن وہ تو اپنے آپ کو مسلمان کہلانے پر مصر رہے تاکہ وہ امت مسلمہ میں نقب زنی کا مشن ہمیشہ کی طرح جاری وساری رکھ سکیں ۔ انہوں نے مسلمانوں کے تمام مظاہر کو اپناتے ہوئے جملہ اسلامی اصطلاحات کو بھی تسلسل سے استعمال کیا جو یقینی طور پر عام مسلمانوں کو ان کے حوالے سے فریب اور دھوکہ میں مبتلا کئے رکھتا تھا ،چنانچہ 1984ءمیں ضیاءالحق شہید نے امتناع قادیانیت آرڈی ننس جاری کیا جس کے نتیجے میں ان کے لئے مسلمانوں کی اصطلاحات وشعائر مثلاً خلیفہ ، امیر المومنین، صحابی ، مسجدوغیرہ کا استعمال غیر قانونی دے دیا گیا ۔ اس کے بعد میں ہی قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر ربوہ سے اپنے آقاﺅں اورسرپرستوں کے دیس برطانیہ میں منتقل ہوگیا ۔ اب قادیانی ذریت وہاں بیٹھ کر ، پاکستان ، پاکستانی آئین اور امت ِمسلمہ کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بننے میں مصروف رہتی ہے۔

قادیانی پاکستان میں بھی اپنے مذموم مقاصد کی آبیاری کے لئے جتے رہتے ہیں اور اسلامیان ِپاکستان کو اس حوالے سے ہمیشہ چوکس رہنا چاہیے تاکہ یہ انجانے میں ہماری پشت پر وار ہی نہ کردیں۔ یہ وار انہی دنوں میں ہو بھی گیا جب عدالت ِعظمیٰ کی طرف سے نااہل قرار دیئے گئے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی جماعتی صدارت کی نااہلی کے خاتمے کے لئے انتخابی اصطلاحات کا قانون مقننہ کے دونوں ایوانوں سے منظور کروایا گیا ۔ بظاہر اس قانون کے ذریعے ن لیگی حکومت نے اپنے نااہل وزیراعظم کو دوبارہ اپنی پارٹی کی صدارت تفویض کرنا تھی لیکن اس کی آڑ میں اس حلف نامے میں بنیادی تبدیلی کردی گئی جو انتخابی امیدوار انتخابی کاغذات جمع کرواتے وقت دیا کرتا تھا ۔ا س تبدیلی کے ذریعے ختم نبوت پر ایمان کے حلف کو غیر مو¿ثر بنانے کی خفیہ سازش کی گئی ۔ ابتداءمیں نون لیگ اوراس کی اتحادی جماعتیں ، بشمول دینی جماعتوں کے ، اس تبدیلی کو معمولی قرار دے کر نئے قانون کے دفاع پر کمر بستہ ہوگئیں ، لیکن اللہ تعالیٰ جزائے خیر دیں شیخ رشید (جن کے طرز سیاست سے بہت سا اختلاف کیا جاسکتا ہے ) کو جنہوں نے دبنگ انداز میں مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ختم نبوت کے قانون کے تحفظ کے لئے ایسی زوردار مہم سوشل میڈیاپر چلی کہ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑ گئے ۔ پہلے پہل انہوں نے تبدیلی کو تو مانا لیکن کہا کہ اس سے نفسِ ہدف پر کوئی زد نہیں پڑی ۔ پھر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اسے Clerical Mistakeقرار دیا ، حالانکہ ایسا کہنا بھی حقائق کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔ دفتری غلطی سے کبھی بھی الفاظ اور جملے تبدیل نہیں ہوتے ۔ اور نئے قانون میں تو الفاظ اور جملے تک تبدیل کرکے حلف نامے کو غیر مو¿ثر کرنے کی دانستہ کوشش کی گئی تھی۔ جبھی تو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ن لیگ کے کنونشن میں بھرے مجمعے کے سامنے اپنے بردارِ بزرگ کو مخاطب کرتے ہوئے حلف میں تبدیلی کے ذمہ داروں کو وفاقی کابینہ سے نکال باہر کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

یہ ساری صورت ِحال اس حقیقت کی غماز ہے کہ ن لیگی حکومت نے جان بوجھ کر یہ سب کچھ کیا تھا ۔ قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم یا کسی بھی زبان سے شد بد رکھنے والا کوئی سا بھی فرد بخوبی یہ جانتا ہے کہ صرف قومہ یا فل سٹاپ کی تبدیلی سے مفہوم و مدعا کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے ، اور یہاںتو نئے انتخابی قانون میں ختم نبوت کے حلف نامے میں الفاظ اور جملے تبدیل کرڈالے گئے تھے ۔ میاں محمد نوازشریف قادیانیوں کو اپنا بھائی قرار دے چکے ہیں ، انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کو قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے موسوم کرنے کا حکم جاری کیا ہوا ہے ، ان کے انتہائی قریبی ساتھی اور موجودہ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے بارے میں یہ افواہیں زور وشور سے گردش کررہی ہیں کہ قانون میں تبدیلی سے پہلے وہ امریکہ میں قادیانی کمیونٹی کے سرکردہ لوگوں سے خصوصی ملاقات کرچکے ہیں ، اور اس سب کچھ کے نتیجے میں ختم نبوت سے متعلقہ حلف نامے میں واضح تبدیلیاں اسی کا تسلسل دکھلائی دیتی ہیں تاکہ قادیانیوں کو انتخابی عمل میں مسلم پلیٹ فارم سے شرکت کے مواقع بسہولت میسر آجائیں ۔

ن لیگ کے جن لوگوں نے بھی ختم نبوت کے عقیدے پر ضرب لگانے کے لئے یہ گھناﺅنا کردار ادا کیا ہے ، وہ تو کسی بھی صورت معافی کے مستحق نہیں ہیں ۔ انہیں نشانِ عبرت بنا دیا جانا چاہیے ۔ ن لیگ سے وابستہ لوگوں کا اگر اسلام اور نبی محتشم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کا ادنیٰ سے ناطہ بھی ہے ، انہیں آگے بڑھ کر اس مطالبے کو منوانا چاہیے ۔ شہباز شریف خود اس کا مطالبہ کرچکے ہیں ، اس لئے اپنے قائد سے ان کی اندھی محبت ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور ان کی ختم المرسلینی کے تحفظ کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔

ن لیگ کی اتحادی دینی جماعتوں نے اس متنازعہ بل کی منظوری کے حوالے سے جو کردار ادا کیا ہے اسے نرم ترین الفاظ میں شرم ناک کہا جاسکتا ہے ۔ کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے حوالے سے ان کے گھناﺅنے کردار نے پہلے ہی ان کے چہرے پر کالک مل دی تھی، اس ایمانی مسئلے پر ان کی بے جا وکالت نے ان کی دین داری کا سارا بھرم ختم کرکے رکھ دیا ہے۔

اس سب کچھ پر مستزاد پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے وہ انٹرویو ہیں جو ایک مقامی نجی الیکٹرانک چینل اور قادیانیوں کے چینل پر نشر ہوئے ہیں ۔ رانا ثناءاللہ نے قادیانیت کے خلاف جدوجہد کرنے والے علماءکے خلاف جس طرح ہر زہ سرائی کی ہے اور پینترے بدل بدل کر قادیانیوں کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کی جو کوشش کی ہے ، اس سے بالکل واضح ہوگیا ہے کہ ن لیگ کا ہر ایرا غیرا اپنے نااہل لیڈر کے دفاع کی خاطر نعوذ باللہ اپنے ایمان ، عقیدے اور ناموسِ رسالت سب کچھ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ