می ٹو Me Too#

می ٹو Me Too#
می ٹو Me Too#

  

’’می ٹو Me Too# ‘‘ کا ترجمہ ہے، ’’میں بھی‘‘ اس کا مطلب یہ نہ سمجھئے گا کہ کوئی کھانے والی چیز بانٹی جارہی ہے یا حکومت نے بینظیر انکم ٹائپ کوئی اسکیم شروع کی ہے اور آپ قطار میں کھڑے آوازیں دے رہے ہیں کہ جناب ’’میں بھی‘‘ امیدوارہوں ۔ بظاہر یہ چھوٹے سے بے ضرر دکھائی دینے والے دو الفاظ آپ کی باقی ماندہ زندگی کا ستیاناس اور عزت کا جنازہ نکالنے کے لئے کافی ہیں،اگر کسی عورت یا لڑکی نے آپ کی طرف انگلی اٹھا کر ’’می ٹو‘‘ کہہ دیا، چاہے وہ عورت اب ستر سال کی بوڑھی کھوسٹ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کا بس یہ کہنا ہی کافی ہے کہ ’’آپ نے عرصہ پچیس سال قبل اس معصوم خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کیا تھا‘‘ مزید اضافی سہولت اس کو یہ کہ اس’’الزام‘‘ کے لئے اب کسی ’’ڈی این اے‘‘ ٹیسٹ کی بھی ضرورت نہیں۔

ہو سکتا ہے کہ پچیس سال قبل آپ کی جوانی ’’دیوانی‘‘ بن گئی ہو اور آپ ظالم سماج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، کسی گلی میں اپنی ترنگ میں اونچی آواز میں گانا گاتے ہوئے جارہے ہوں، ’’ جوہم نے پیار سے دیکھا تو تم نے کیوں برامانا۔ کہا آنکھوں سے حال اپنا تو تم نے کیوں برا مانا‘‘ جب گلی میں کوئی نہ ہو سوائے اس کے تو بس آپ کا اتنا ہی ’’گانا‘‘ کافی تھا’’می ٹو‘‘ کے لئے۔ کہتے ہیں کمان سے نکلا تیر،بندوق سے نکلی گولی اور ہونٹوں سے نکلی بات واپس نہیںآتی۔ تیراور گولی کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن ہونٹوں سے نکلی بات کہیں نہیں جاتی، تیر اور گولی سے زیادہ رفتار سے اڑ کر ’’سوشل میڈیا‘‘ پر آن بسیرا کرتی ہے پھر آپ بہتیرا شور مچائیں کہ’’میرا یہ مطلب نہیں تھا‘‘ نہال ہاشمی، دانیال عزیز اور طلال چودھری کی طرح عدالت ہی آپ کی بات کی تشریح کرے گی۔ آپ بیشک بے گناہ اور معصوم ہوں، ایک بار ’’سوشل میڈیا‘‘ کے ہتھے چڑھ گئے تو بدنامی کی صورت میں سزا ایڈوانس ہی آپ کو مل جائے گی۔ ’’سوشل میڈیا‘‘ بھی کیا کرے، اس کی روزی، روٹی آخر ایسی ہی باتوں اور خبروں سے وابستہ ہے، وہ ایسی باتوں کو مرچ مصالحہ لگا کر چٹپٹی خبریں نہ بنائے تو کیا فالودے کی ریڑھی لگائے ۔

’’می ٹو Me Too#‘‘ کا آغاز اس وقت ہوا، جب کچھ عرصہ قبل ہالی وڈ کی مشہور اداکارہ ایسانے فلمساز ہاروی وائن سٹائن پر جنسی ہراسانی کاالزام لگایا۔ انہوں نے یہ بات ٹویٹر پر لکھی، چوبیس گھنٹے میں پانچ لاکھ لوگوں نے اس پوسٹ کا جواب دیا۔ اس کے بعد’’می ٹو‘‘ کا سلسلہ شروع ہوا یعنی بہت سی اداکارائیں سامنے آئیں کہ وائن سٹائن نے ’’میرے ساتھ بھی‘‘۔۔۔ان میں انجلینا جولی،گوینتھ پالٹرو، جنیفر لورینس، ایشلی جڈ، کارا دیلے وین، ذوبروک، لوشیا شٹولر، میرا سورووینو، لوئزے گائس جیسے ہالی وڈ کے بڑے نام بھی شامل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سبھی الزامات کوئی دو تین ماہ پہلے کے نہیں بلکہ کسی کے ساتھ دس سال اور کسی کے ساتھ بیس سال پہلے وائن سٹائن نے کوئی ’’ایسی ویسی‘‘حرکت کی تھی۔ وائن سٹائن کی حرکات کی نوعیت بھی مختلف ہے، کبھی تو وہ’’فاتح‘‘ ٹھہرے اور کہیں ’’کھایا پیاکچھ نہیں، گلاس توڑا‘‘ والا معاملہ ہے

مثلاً انجلینا جولی فرماتی ہیں کہ 1998ء میں وائن سٹائن نے انہیں تعلق بنانے کی پیشکش کی تھی۔ وائن سٹائن نے انڈین اداکارہ ایشوریہ رائے پر کمند ڈالنے کی بھی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہوسکے، دروغ برگردن ’’بی بی سی‘‘ ایشوریہ کسی فلمی تقریب کے سلسلے میں امریکہ میں تھیں کہ وائن سٹائن نے ایشوریہ کی مینجر کو’’نوٹ دکھائے‘‘ اور ایشوریہ سے تنہائی میں ملنے کی خواہش ظاہر کی لیکن مینجر نے ایسی نوبت نہ آنے دی، اس طرح ایشوریہ، وائن سٹائن کا شکار ہونے سے بچ نکلیں۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق ان الزامات کے بعد وائن سٹائن کی بیگم جارجیناچیمین انہیں چھوڑ کر جاچکی ہیں اور نیویارک پولیس نے انہیں حراست میں لے کر ان پر فرد جرم عائد کردی ہے۔ ہالی وڈ میں صرف وائین سٹائین ہی نہیں اور بھی بہت سی فلمی شخصیات ’’می ٹو‘‘ کی زد میں ہیں۔ اداکار مورگن فری مین تو باقاعدہ ایسے الزامات پر معافی مانگ چکے ہیں۔

Me Too الفاظ کے ساتھ # ٹیگ لگانے یعنی ’’می ٹو Me Too# ‘‘ کے معنی اب یہی لئے جارہے ہیں کہ ’’میرے ساتھ بھی جنسی استحصال کا معاملہ ہوا ہے‘‘ اور یہ ایک مہم کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔ ہر روز خصوصاً انڈیا میں کوئی نہ کوئی خاتون ایک نئی کہانی کے ساتھ سامنے آرہی ہے۔ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین، نائب وزیر خارجہ ایم جے اکبر سمیت فلمی دنیا کی کئی بڑی شخصیات ’’می ٹو‘‘ کی زد میں ہیں۔ایم جے اکبر نے تو استعفا دے دیا ہے انڈیا میں ’’می ٹو‘‘ کا آغازسابق مس انڈیا اداکارہ تنویشری دتہ نے اداکار نانا پاٹیکر پر الزام لگا کر کیا۔ تنویشری دتہ کا کہنا ہے کہ دس سال پہلے نانا پاٹیکر نے انہیں ایک فلم کے سیٹ پر جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

اب ممبئی پولیس نے اسی الزام میں تنویشری دتہ کی مدعیت میں نانا پاٹیکر کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا ہے۔ تنویشری دتہ کے بعد میدان میں آئیں مشہور ٹی وی سیریل ’’تارا‘‘ کی پروڈیوسر اور ہدایت کارہ ونیتانندا جنہوں نے، مذہبی بزرگوں اور سماجی مصلح کا کردار ادا کرنے والے مشہور اداکار’’آلوک ناتھ‘‘ پر ریپ کا الزام لگایا۔ ونیتا نندا فرماتی ہیں، ’’میں سگریٹ پیتی تھی، شراب پیتی تھی، میں آزاد تھی، مجھے اس آدمی نے اپنے گھر پارٹی پر بلایا۔ اس کی بیوی یعنی میری بہترین دوست شہر سے باہر گئی ہوئی تھی۔ تھیٹر کے ہمارے دوستوں میں ایسی پارٹیاں عام ہیں،اس لئے میرا اس پارٹی میں جانا عام سی بات تھی۔ شام ڈھلتی گئی اور پارٹی بڑھتی گئی۔ میری شراب میں کچھ ملایا گیا، مجھے عجیب محسوس ہونے لگا۔ رات کے تقریباً دو بجے میں اس کے گھر سے نکل گئی۔ کوئی میرے پیچھے یہ دیکھنے نہیں آیا کہ میں ٹھیک ہوں بھی کہ نہیں۔کسی نے مجھے گھر تک چھوڑنے کی پیشکش نہیں کی۔

ایسا عام طور پر نہیں ہوتا تھا، بس میں جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتی تھی، مجھے لگ رہا تھا کہ وہاں میرا اوررکنا صحیح نہ ہوگا۔ میں خالی سڑک پر پیدل گھر جارہی تھی جبکہ میرا گھر وہاں سے دور تھا ۔ راستے میں مجھے یہ آدمی(آلوک ناتھ)ملاجو اپنی کار میں تھا۔ اس نے کہاکہ وہ مجھے گھر چھوڑ دے گا۔ میں نے اس پر یقین کیا اور اس کی کار میں بیٹھ گئی،اس کے بعد کی باتیں مجھے دھندلی یاد ہیں، مجھے بس اتنا یاد ہے کہ مجھے جبراً شراب پلائی گئی، مجھے یادہے کہ میرے ساتھ غلط ہوا۔ اگلے دن دوپہر دو بجے میں نیندسے جاگی تومجھے درد ہورہا تھا، میرے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اور وہ بھی میرے اپنے ہی گھر میں، میں بستر سے اٹھنے میں ناکام تھی۔ میں نے اپنے کچھ دوستوں کو یہ بات بتائی تو انہوں نے بھول جانے کا مشورہ دیا‘‘ ونیتا نندا اپنی دکھ بھری داستان پورے بیس سال بعد سنا رہی ہیں۔ ہمیں ونیتا نندا سے ہمدردی ہے، لیکن ’’سگریٹ،شراب، مخلوط پارٹی،رات دو بجے، نشہ،عیاش ذہن لوگ‘‘۔۔۔میڈم پھر ’’اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں‘‘۔

انڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ’’می ٹو‘‘ کی آمد میشاشفیع کے علی ظفر پر لگائے الزامات کے ساتھ ہو گئی تھی، اب سنا ہے کہ کچھ میڈیا کے لوگ بھی اس کی زد میں آنے والے ہیں۔ الزام صحیح ہو یا غلط، جس پر لگتا ہے اس کی گھریلو اور معاشرتی زندگی تو تباہ ہوگئی، اس پر قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟ کچھ خواتین مشہور ہونے(بدنامی والی مشہوری) یا بلیک میل کرنے کے لئے بھی ایسا کرسکتی ہیں، جیسا کہ ہم ایک دن کچھ سودا خریدنے ایک بابا جی کی دکان پر گئے۔ بابا جی دکان کھلی چھوڑ کر ایک دو منٹ کے لئے کہیں دائیں بائیں ہوئے تھے۔ خیر وہ آئے تو ہم نے انہیں پیسے دئیے کہ فلاں چیز دے دیں۔

اتنے میں اندر سے کھسر پسر کی آواز آئی تو معلوم ہوا کہ بابا جی کی عدم موجودگی میں کاغذوں کا کچرا اکٹھا کرنے والی کوئی خانہ بدوش لڑکی دکان میں گھس کر اپنے بڑے ’’چولے‘‘ میں سامان ڈال رہی تھی۔ با باجی گرجے ،’’کون ہو تم،کیا کر رہی ہو‘‘ لڑکی بغیر کسی گھبراہٹ کے، بڑے اعتماد سے بولی،’’بابا اونچا نہ بول،ابھی بازار اکٹھا کرتی ہوں، تم نے خود ہی تو مجھے بلایا ہے‘‘ لڑکی نے نہ صرف بابا جی پر بلکہ ہم پر بھی سہولت کاری کا الزام لگا دیا،بابا جی سے کہنے لگی کہ تم نے اس آدمی کو نہیں کہا تھا کہ چوکیداری کرو، کوئی آ نہ جائے۔ یہ سن کر ہم چلائے کہ ’’بی بی ، می ٹو پر ہی رہو، ’’می تھری‘‘ تک نہ جاؤ‘‘ لیکن ساتھ ہی ہم نے دوڑ لگا دی، کیونکہ اب اس عمر میں وہ بھی بائی پاس کے بعد ہم ’’می ٹو‘‘ یا ’’می تھری‘‘افورڈ نہیں کرسکتے۔ باباجی کا کیا بنا،اپنے پیسوں کا حساب کرنے جائیں گے تو معلوم ہوگا۔

بیشک جنسی ہراسگی اور جنسی جبر ذہن اور روح پر ایک ایسا زخم ہے جو زندگی کی آخری سانس تک نہیں جاتا۔ ہم ایسی خواتین کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن یہ بھی کہنا ہے کہ ہمت کرنی ہے تو اسی وقت شور مچائیں، ساری سول سوسائٹی ساتھ کھڑی ہوگی۔ بیس سال بعد کسی پر الزام لگانا ’’بلیک میلنگ‘‘ کے زمرے میں ہی آئے گا۔آخر میں جاتے جاتے اسی موضوع سے جڑی ایک ’’بریکنگ نیوز‘‘ انڈیا کے میگھا سٹار امیتابھ بچن نے ٹویٹر پر ’’می ٹو‘‘ مہم کی حمایت میں لکھا کہ میں خواتین پر کی جانے والی ایسی زیادتیوں کے خلاف ہوں۔ مشہور فیشن ڈیزائنر سپنا بھاونانی نے امیتابھ بچن کو مخاطب کرکے جوابی ٹویٹ کیا۔

سپنا لکھتی ہیں، ’’ یہ اب تک کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ سر، فلم ’’پنک‘‘ ریلیز ہوئے کافی دن ہو گئے ہیں اور آپ کی ’’سرگرم سماجی کارکن‘‘ والی امیج بھی اب جلد ٹوٹنے والی ہے۔ سچ بہت جلدسامنے آئے گا، اتنا تو ہے کہ آپ اس وقت اپنے ہاتھ چبا رہے ہوں گے، کیونکہ آپ کو اب اپنے ناخن بھی کم پڑجائیں گے‘‘ سپنا کے اس ٹویٹ کے بعدامیتابھ بچن کی نیند حرام ہو گئی ہوگی لیکن لگتا ہے کہ سپنا نے کچھ دھماکا کرنا ہوتا تو اسی وقت کردیتی، اس نے شاید یہ وقفہ اس لئے رکھا ہے کہ ’’بگ بی‘‘ اس وقفہ سے خوف زدہ ہوکر ایک موٹی رقم سے اس کا منہ بند کردیں۔ فلمی دنیا میں پس پردہ ایسا بہت کچھ چلتا ہے۔ مہیش بھٹ نے پچھلے دنوں سچ ہی کہا تھا کہ ،’’ فلمی دنیا باہر سے جتنی روشن ہے، اندر سے اتنی ہی کالی ہے‘‘۔

مزید :

رائے -کالم -