5ویں گریڈ کے ملازم اور 22 ویں کے افسر کا ذہن ایک جیسا ، عدالت عالیہ

5ویں گریڈ کے ملازم اور 22 ویں کے افسر کا ذہن ایک جیسا ، عدالت عالیہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے ون فائیوایمر جنسی کال کے ساتھ صارف کی لوکیشن ظاہر کرنے کے حوالے سے وزارت داخلہ کی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ پاکستان میں 5ویں گریڈ کے ملازم اور 22 ویں گریڈ کے افسر کا ذہن ایک جیسا ہی ہے،کام کوئی کرنا(بقیہ نمبر40صفحہ7پر )

نہیں ،بس لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دینا ہے ۔عدالت نے اس سلسلے میں دائر درخواست کی سماعت شروع کی تودرخواست گزار وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ ایمر جنسی کال کے ساتھ صارف کی لوکیشن ظاہر ہونے سے متاثرہ شخص کے پاس پہنچنے میں آسانی ہو جائے گی ،سیف سٹی اتھارٹی نے عدالت سے استدعا کی کہ محکمہ داخلہ کو ایمرجنسی کال کے ساتھ لوکیشن ظاہر کرنے کے لئے اقدامات کا حکم دیا جائے۔عدالت نے وزارت داخلہ کی رپورٹ عدم اعتماد کا ظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ اب اس معاملے پر مزید وقت ضائع نہیں ہونے دیں گے،عدالت نے سیف سٹی اتھارٹی سے لوکیشن کے حوالے سے مزید تجاویزطلب کرتے سماعت ملتوی کر دی ۔