”تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو“

”تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو“
”تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو“

  



اپوزیشن کی ایک احتجاجی تحریک جو چندروز بعدمولانافضل الرحمان کی سربراہی میں برپا ہونے جارہی ہے کے شروع کرنیوالوں اور ہمنواﺅں کی اداﺅں کودیکھا جائے تو ایک بے یقینی کا منظر نظر آتا ہے ، مولانا فضل الرحمان بے اختیار آزادی مارچ ، لانگ مارچ، دھرنا دینے یا لاک ڈاﺅن پر تلے ہوئے ہیں ۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرف سے شروع دن سے ہی دھرنے کے احتجاجی عمل کیلئے مسلسل جے یوآئی ف کی حوصلہ افزائی کی جا تی رہی ہے ۔ دونوں جماعتیں ایک محتاط طرز عمل اختیار کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے دھرنے کی حمایت کرتی رہی ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ موقف بھی اختیارکیا جاتا رہا ہے کہ ہم آزادی مارچ کے ساتھ ہیں لیکن دھرنے میں شامل نہیں ہونگے ۔

مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن صفدر کی جانب سے یہ بیان جاری کئے جانے کے بعد کہ پارٹی قائدنواز شریف کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ، مسلم لیگ ن کے مختلف حلقوں کی جانب سے متضاد آراءکا سلسلہ ایک روز قبل تک جاری تھا ۔ کچھ رہنماﺅں کی جانب سے کہاجارہا تھا کہ مسلم لیگ ن دھرنے میں بھرپور شرکت کرے گی لیکن کچھ کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا رہا تھا ۔مسلم لیگ کے مشاورتی اجلاس کے بعد کہا گیا کہ مولانافضل الرحمان جب لاہور آکر میاںشہباز شریف سے ملاقات کریں گے اور اس موقع پر دھرنے میں میںشرکت کے حوالے سے پوزیشن واضح ہوجائیگی ۔

مولانا فضل الرحمان کے لاہور آکر شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کرنے اور شہباز شریف کی جانب سے پریس کانفرنس کرنے کے باوجودبھی مسلم لیگ ن کی پوزیشن دھرنے کے حوالے سے واضح نہیں ہوسکی بلکہ کہہ دیاگیاہے کہ 31مارچ کے جلسے میں مسلم لیگ ن اپنا اگلہ لائحہ عمل دے گی اور اس جلسے میں چارٹرڈآف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا ۔ ن لیگ کی ماضی کی پوزیشن ، پارٹی رہنماﺅں میں اختلافات اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ شہباز شریف کی ملاقات کے باوجود دھرنے کے حوالے سے اب بھی گومگو کاشکار رہنا اس بات کی علامت ہے کہ ن لیگ ”تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو “کے مصداق عمل کررہی ہے ۔ ن لیگ کی طرف سے آزادی مارچ میں تو شرکت کی جائے گی لیکن دھرنے کے حوالے سے مولانافضل الرحمان کوابھی تک نہ ہی دیکھنے میں نظر آئی ہے ۔

ایسے میں اگر پیپلز پارٹی کے طرز عمل کا مشاہدہ کیا جائے تو بلاول بھٹو زرداری کے حکومت کے خلاف تمام تر جارحانہ بیانات کے باوجود ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اسلام آباد دھرنے میں شامل ہوگی ۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے شروع سے ہی دھرنے کی مخالفت کی جاتی رہی ہے البتہ آزادی مارچ کے شرکا کا مختلف مقامات اور اسلام آبادپہنچنےپر استقبال کرنے کا عندیا ضرور دیا جاتارہا ہے ، چند روز قبل بلاول نے جینا ہوگا ،مرنا ہوگا ،دھرنا ہوگا ،دھرنا ہوگا کانعرہ لگاتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا نام لیا تھا جس کا مطلب یہ بنتاہے کہ دھرنے میں جینا ہوگا یا مرنا ہوگا جے یو آئی ف کا ہی ہوپیپلز پارٹی اس عمل سے دورہی رہے گی ۔

قطع نظر اس بات کے کہ حکومت اس معاملے سے نمٹے کیلئے کیاکررہی ہے ؟ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے جو اپوزیشن کی بھی بڑی جماعتیں ہیں۔ یہ کہاجاسکتاہے کہ ان کی ساری بھاگ دوڑ کا مقصد مولانا فضل الرحمان کواسلام آباد لانے تک ہے اور آگے کیا ہوگا ؟ اس کے نتائج دیکھ کا مستقبل کی سیاسی حکمت عملی ترتیب دی جائیگی !

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ