قائمہ کمیٹی: وفاقی وزارت پوسٹل سروسز کی 281جائیدادوں پر سرکاری اداروں کے قبضے کا انکشاف 

قائمہ کمیٹی: وفاقی وزارت پوسٹل سروسز کی 281جائیدادوں پر سرکاری اداروں کے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پوسٹل سروسز کوبریفنگ دیتے ہوئے وزارت پوسٹل سروسز کے حکام نے  انکشاف کیا ہے کہ وزارت کی 281جائیدادوں پر قبضہ مافیا قابض ہیں جن میں ایف آئی اے، ضلعی انتظامیہ، اور پولیس ڈیپارٹمنٹس بھی شامل ہیں۔وفاقی دارلحکومت میں پوسٹل سروسز کی6عمارتوں پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔قائمہ کمیٹی نے کابینہ کی طرف سے ہدایت کے باوجود پاکستان پوسٹ کی بجائے دیگر پرائیوٹ کوریئر سروسز استعمال کرنے پر سرکاری اداروں کی فہرست طلب کر لی۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس  چیئرمین حاجی امتیاز احمد چوہدری کی زیر صدارت پارلیمینٹ ہاو س منعقد ہوا۔حکام نے بتایا کہ پاکستان پوسٹ کی 281پراپرٹیز پر غیر قانونی قبضہ ہے،اسلام آباد میں پاکستان پوسٹ کی 6بلڈنگز پر غیرقانونی قبضہ ہے، پاکستان پوسٹ کے جو ملازم سرکاری رہائش گاہ نہیں چھوڑرہے ان سے اب پنشن کے ذریعے ڈبل سٹینڈرڈ رینٹ لیا جارہا ہے، ڈی جی پاکستان پوسٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان پوسٹ کی ایک بلڈنگ کیلئے سال میں تقریبا 27ہزار ملتا ہے کم بجٹ کے باعث پاکستان پوسٹ عمارتوں کے مرمتی کاموں اور وائٹ واش کیلئے مسائل ہیں دو ماہ میں الیکٹرک وہیکل منگوائیں گے،ان کوپک اپ سروس کیلئے استعمال کریں گے کچھ ماہ میں پک اپ سروس شروع کر دیں گے۔قائمہ کمیٹی برائے پوسٹل سروسز کا پاکستان پوسٹ کے کمرشل پلاٹوں کو استعمال میں لانے کے سلسلے میں وزیر اعظم کو لیٹر لکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاکہ ان کمرشل پلاٹوں کے استعمال سے پاکستان پوسٹ کے ریونیو میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام کمرشل پلاٹوں کی لسٹ کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔ اجلاس میں رکن کمیٹی محمد انور نے اردو دستاویز پیش کرنے کی درخواست کی جس پر انہیں بتایا گیا کہ اردو میں دستاویز موجود نہیں۔چیئرمین کمیٹی نے اردو دستاویز پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ پوسٹل سروسز کو اس سے قبل بھی اردو دستاویز بھجوانے کیلئے ہدایت کی تھی، اجلاس سے ایک روز قبل محکمے نے لیٹر لکھ دیا کہ میٹنگ ملتوی کی جائے،اس کی کیا وجہ ہے؟ جس پر ڈی جی پوسٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم نے لیٹر نہیں لکھا یہ وزارت پوسٹل نے لکھا ہوگا۔ چیئرمین کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کیا وزارت پوسٹل سروسز کے پاس اختیار ہے کہ وہ قائمہ کمیٹی کا اجلاس ملتوی کرا سکیں،سیکرٹری پوسٹل سروسز کہاں ہیں،یہ مذاق نہیں کہ جس وقت آپ کہیں میٹنگ کینسل کردیں بتایا جائے سیکرٹری پوسٹل کیوں نہیں آئے؟۔ پوسٹل سروسزحکام نے اجلاس کو بتایا کہ سیکرٹری صاحب دورے پر ہیں اس لیے وہ نہیں آسکے۔ حکام کے مطابق ان کا دورہ پشاور پہلے سے طے تھا اس لئے اجلاس منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔چیئرمین کمیٹی امتیاز احمد چوہدری نے کہا کہ وزیرپوسٹل سروسز کو بتائیں کے کمیٹی نے اس معاملے پر برہمی کا اظہار کیا ہے کمیٹی نے سیکرٹری کی اجلاس میں غیر حاضری کے بارے میں سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھنے کی سفارش کر تے ہوئے کہا کہ سیکرٹری پوسٹل بتائیں  انہوں نے کس حیثیت سے اجلاس منسوخ کر نے کا خط لکھا ہے۔ اجلا س میں پاکستان پوسٹ نے اجلا س کو وزارت کی پراپرٹی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے نو مختلف علاقوں میں پاکستان پوسٹ کی کمرشل پراپرٹی ہے ہرتین سال بعد 25فیصد رینٹ میں اضافہ کرتے ہیں،43نئی پراپرٹیز کمرشل استعمال کیلئے زیر غور ہیں، گورنمنٹ محکموں کو کابینہ کی طرف سے لیٹر جاری کیا گیا تھا کہ کورئیر سروسز کیلئے پاکستان پوسٹ کی خدمات لیں،جو محکمے پاکستان پوسٹ کی خدمات نہیں لے رہے انکی لسٹیں بنائیں گے،جس پر اراکین کمیٹی نے کہاکہ پاکستان پوسٹ کی ارجنٹ میل سروس ایک دن کی بجائے،چار دن میں ڈیلیوری ہو رہی ہے کمیٹی نے جن محکموں نے ابھی تک پاکستان پوسٹ کی ارجنٹ میل سروس استعمال نہ کرنے اداروں کے نام مانگ لئے۔ 
قائمہ کمیٹی پوسٹل سروسز

مزید :

علاقائی -