لاڑکانہ میں عقیدت کے بُت ٹوٹ گئے!

لاڑکانہ میں عقیدت کے بُت ٹوٹ گئے!
لاڑکانہ میں عقیدت کے بُت ٹوٹ گئے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


مَیں یہ مانتا ہوں کہ کسی ایک صوبائی نشست کے نتیجے سے کسی جماعت کی عدم مقبولیت ثابت نہیں ہوتی، مگر لاڑکانہ کی جس صوبائی نشست پر پیپلزپارٹی کو ضمنی انتخاب میں شکست ہوئی ہے، وہ اپنے اندر بہت اہم پیغام رکھتی ہے۔ لاڑکانہ، جو بھٹو خاندان کا مرکز اور پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، ایسا نتیجہ دے گا اور وہ بھی اس صورت میں جب سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت بھی ہو، کسی کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا۔ پھر یہی حلقہ بلاول بھٹو زرداری کا بھی ہے اور انہوں نے اس ضمنی انتخاب کے لئے یہاں انتخابی مہم بھی چلائی، جس پر الیکشن کمیشن نے انہیں شوکاز نوٹس بھی دیا، جسے پیپلزپارٹی نے یہ کہہ کر ہوا میں اُڑا دیا کہ بلاول بھٹو کو ان کے حلقے میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، نتیجہ نکلا تو پیپلزپارٹی کے جمیل سومرو جی ڈی اے کے امیدوار معظم عباسی سے تقریباً 6ہزار ووٹوں کی کمی کے ساتھ شکست کھا گئے۔ اس شکست کو بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا اور پھر دھاندلی کا الزام لگا کر بلاول بھٹو زرداری قومی اداروں پر تنقید کریں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے عوام اب روائتی سیاست کے جبر سے نکل رہے ہیں۔ پچھلے دس برسوں میں سندھ کا جو حال کیا گیا ہے اور جس کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، آخر کب تک پیپلزپارٹی ”بھٹو زندہ ہے کا“ چورن بیچ کر اس پر پردہ ڈال سکتی ہے۔


عام انتخابات میں کراچی پیپلزپارٹی کے ہاتھوں سے نکل گیا تھا اور بمشکل ایک سیٹ مل سکی تھی، اب یوں لگتا ہے کہ اندرون سندھ بھی پیپلزپارٹی کے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔ لاڑکانہ میں پسماندگی کا جو حال سوشل میڈیا پر سامنے آتا رہا ہے اور جس طرح وہاں لوگوں کو جنازے گندے پانی میں سے گزار کر دفنانے کے لئے جانا پڑتا ہے، گندگی کے ڈھیر پورے شہر میں تعفن پھیلا رہے ہیں، ہسپتال اور سکول کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں، تھانوں میں وڈیروں کا ظلم جاری ہے اور سرکاری دفاتر میں کوئی کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا، کیا لوگ یہ سب کچھ دیکھ نہیں رہے؟ پہلے تو انہیں کوئی دوسرا نظر نہیں آتا تھا، اب ان کے پاس کئی راستے کھلے ہیں، انہیں کب تک بے وقوف بنایا جا سکتا ہے، کب تک سندھ کارڈ کے ذریعے ان کے اندر کے سندھی کو جگا کر اپنے دھندے کی دھاک بٹھائی جا سکتی ہے۔ کوئی سیاسی شعور کو کیسے روک سکتا ہے۔ سندھی عوام دیکھ نہیں رہے کہ منی لانڈرنگ سے اربوں روپے بیرون ملک بھجوائے گئے، کیا انہیں دکھائی نہیں دے رہا کہ کیسے دھوبی، موچی، حجام اور دودھ والے کے اکاؤنٹس سے اربوں روپے برآمد ہو رہے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ آصف علی زرداری اس وقت جیل میں ہیں اور اپنے خلاف الزامات میں ثبوت نہیں دے پا رہے۔ سب کچھ کی خبر تو آ رہی ہے۔ پھر انہیں فریال تالپور بھی یاد ہیں، جو انہیں بھرے مجمع میں یہ دھمکیاں دیتی تھیں کہ انہوں نے صرف تیر کو ووٹ دینا ہے،کسی اور کو ووٹ دیا تو انہیں نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ جب عوام کا اجتماعی شعور بیدار ہوتا ہے تو ایسے ہی نتائج سامنے آتے ہیں؟ جیسا لاڑکانہ کے اس ضمنی انتخاب میں سامنے آیا۔


کوئی مجھ سے پوچھے تو مَیں یہی کہوں گا پیپلزپارٹی کو یہ شکست اس بچے کی اذیت ناک موت کی وجہ سے ملی، جو کتا کاٹنے کی ویکسین نہ ملنے کی وجہ سے سرِ بازار تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ وہ منظر ایسا تھا جس نے سندھ میں غریبوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ صحیح معنوں میں بھٹو کی موت اسی دن واقع ہوئی، جس دن وہ 10سال کا بچہ مرا۔ پھر ستم ظریفی دیکھئے کہ بلاول بھٹو زرداری سے لے کر سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ تک نے ہمدردی کا ایک بول نہیں کہا، اُلٹا ان غریب والدین کو ڈانٹا کہ انہوں نے بروقت ویکسین کیوں نہیں لگوائی، یعنی ان کے پاس یہ سوچنے کی فرصت ہی نہیں تھی کہ ویکسین تو پورے سندھ کے کسی ہسپتال میں موجود نہیں تھی، وہ کیسے لگواتے اور اگر وہ اتنے امیر ہوتے کہ بازار سے ویکسین خرید سکتے تو لاڑکانہ کے کمشنر اور شکارپور کے ہسپتال کے سامنے اپنے بچے کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے کیوں دیتے؟…… حکمرانوں کے لہجے میں عوام کے لئے درد نہ رہے تو ان کی آدھی حکمرانی دریار برد ہوجاتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری اپنی ہر بات میں سندھ کا ذکر تو لے آتے ہیں، لیکن سندھ کا جو حال ہو چکا ہے، اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ وہ آخر کس بات کا انتظار کر رہے ہیں، اس دن کا جب پیپلزپارٹی دوچار سیٹوں کی جماعت بن کر رہ جائے گی، اگر لاڑکانہ کی نشست پر اس کا یہ حال ہو سکتا ہے تو باقی سندھ میں کیوں نہیں ہوگا؟ جب زوال کی طرف سفر شروع ہوتا ہے تو ڈھلوان کے سفر کی طرح پھر رکتا نہیں۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ آصف علی زرداری کے جیل میں ہونے کی وجہ سے پیپلزپارٹی یہ نشست ہار گئی تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ بلاول بھٹو زرداری میں اتنی سکت نہیں کہ پارٹی کو سنبھال سکیں اور نہ ہی ان کی بات میں اتنا وزن ہے کہ عوام کو متاثر کریں، اصولاً تو پیپلزپارٹی کو عوام کی ہمدردی کا ووٹ ملنا چاہیے تھا۔ اگر بلاول بھٹو زرداری کی اس بات میں سچائی ہوتی کہ ان کے والد اور پھوپھی کو صرف انتقامی سیاست کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے تو عوام میں ان کے لئے ہمدردی پیدا ہوتی، وہ زیادہ شدت سے ووٹ ڈالنے نکلتے اور بیلٹ بکس بھر دیتے، مگر وہ تو باہر ہی نہیں نکلے، پیپلزپارٹی کو تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے صوبائی حلقے میں سے صرف 25ہزار ووٹ ملے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ بلاول بھٹو کا نہ صرف سندھ کارڈ اس الیکشن میں پٹ گیا ہے، بلکہ پیپلزپارٹی کے خلاف انتقامی کارروائی کا ڈرامہ بھی بری طرح فلاپ ہو گیا ہے۔


یاد رہے کہ پیپلزپارٹی پنجاب سے پہلے ہی عملاً رخصت ہو چکی ہے۔ کسی بڑے شہر میں کوئی بڑا اجتماع کرنے پر قادر نہیں، ملتان میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، جو پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین بھی ہیں، چھوٹی چھوٹی کارنر میٹنگز کے ذریعے اپنے وجود کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ سب سے بڑی مشکل اس وقت پڑے گی جب مولانا فضل الرحمن اپنا آزادی مارچ شروع کریں گے اور پیپلزپارٹی کو سندھ سے بھی اپنے لوگوں کی تلاش میں خاصی دشواری پیش آئے گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری دوٹوک اعلان نہیں کر رہے۔ پیپلزپارٹی کے وہ سیاسی رہنما بھی مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں کس طرح شامل ہوں گے، جنہوں نے لاڑکانہ کے ضمنی انتخاب میں جی ڈی اے کے امیدوار کی حمایت کرنے پر مولانا فضل الرحمن پر شدید تنقید کی۔ مَیں انہی کالموں میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ بلاول بھٹو زرداری نے فوج اور قومی اداروں کے خلاف جو بیانیہ اختیار کیا ہے، وہ عوام کی نظر میں ان کے سیاسی تاثر کو گہنا سکتا ہے۔

عوام اس بیانیہ کو پسند نہیں کرتے۔ وہ ایک قومی جماعت کے لیڈر ہیں اور ان کا بیانیہ قومی جذبات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ آج ان کے اس بیانیہ کو ان کے گھر میں شکست ہوگئی۔ پیپلزپارٹی گیارہ برسوں سے سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے۔ اس نے عوام کی حالت بدلنے پر توجہ دی ہوتی تو آج سندھ کا بچہ بچہ اس کے گن گا رہا ہوتا، مگر جب ہر طرف سے آہ و بکا کی آوازیں آئیں گی۔ چھوٹے بڑے ہر شہر میں لوگ انصاف، علاج، روزگار اور تعلیم نہ ملنے کی دہائی دیں گے، حکومت کہیں نظر نہیں آئے گی، البتہ کرپشن ہر اینٹ کے نیچے موجود ہو گی تو پھر عوام کے صبر کا پیمانہ بھی ضرور لبریز ہو گا اور وہ اپنی عقیدت کے بتوں کا طوق گلے میں ڈالنے کی بجائے اسے سرِ بازار پٹخ دیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -