بھینس کی کھال

بھینس کی کھال
بھینس کی کھال

  



بے قدری کا عالم یہ ہے کہ جن اشیاء ضروریہ کے دام اوپر ہیں وہ آسمان سے بھی اوپر ہیں اور جن کے نیچے ہیں وہ سمندر کے پاتال سے بھی نیچے جا گرے ہیں۔ ہرکوئی حیرانی سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو اور کبھی اپنی جیب کو دیکھتا ہے، آج صبح ہی بیگم بتارہی تھی اور جن بچوں نے گزشتہ سہ ماہی کی فیس نہیں دی تھی اور نئے واؤچرز بھی جاری ہو گئے ہیں، ان کو کلاس سے اٹھا کر لائبریری میں بٹھا دیا گیا ہے اور والدین سے کہا ہے کہ جب تک فیس ادا نہیں ہوگی تب تک ان کے بچوں کو کلاس اٹینڈ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ (بیچارے والدین سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو ڈھونڈ رہے ہیں جو قانون کو پولیس کے ڈنڈے کی طرح گھماتے پھرتے تھے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہ تھا)۔

کبھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ لوگوں نے شادی گھروں اور پلازوں پر برائے فروخت کے بورڈ آویزاں کردیئے ہوں یعنی ایک طرف ملک میں شادیوں کا موسم آگیا ہے اور دوسری طرف شادی گھر برائے فروخت اور کرائے پر دستیاب ہیں۔ اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے اپنے اثاثے بیچنا شروع کردیئے ہیں، ہوٹلوں کی حالت اس سے بھی پتلی ہے، انہوں نے ساری توقع سکھوں کی آمد سے لگارکھی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے سکھ کرتارپور میں گورو نانک کی پانچ سو پچاسویں برسی منانے آتے ہیں، اگر مطلوبہ تعداد میں سکھ بھائی نہ آئے تو آٹو انڈسٹری کے بعد ہوٹل انڈسٹری کا بھٹہ بھی بیٹھ جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کو حکومت کرنی نہیں آتی یا پھر وہ حکومت کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے، آخر اسد عمر کی لیاقت کا فائدہ ملک کو کیوں نہیں ہو رہا ہے، ویسے تو وہ بہت عمران خان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے نظر آتے ہیں لیکن جب معاشی فیصلوں کی بات آتی ہے تو حفیظ شیخ اور شبر زیدی اپنی مرضی کرتے نظر آتے ہیں، کیا عوام نے حفیظ شیخ اور شبر زیدی کو ووٹ دیئے تھے، اگر نہیں دیئے تھے تو وہ عوام کے نام پر سخت معاشی فیصلے کیوں کر رہے ہیں، کیا وہ وزیر اعظم عمران خان کے کہنے میں نہیں ہیں، کیا جہانگیر ترین اپنی ایمپائر کی طرح پاکستان کو بھی معاشی محاذ پر دن دوگنی رات چوگنی ترقی نہیں دے سکتے ہیں، آخر پی ٹی آئی کے چمپنیؤں کو کیا ہوگیا ہے؟

ہمارے ایک پٹھان دوست حاجی اصغر خان نے گزشتہ روز کمال کی بات سنائی کہ اس نے اپنے گھر پر اپنی پٹھان برادری کی دعوت کا اہتمام کیا اور اس موقع پر ایک عدد بھینس کا بچھڑا ذبح کیا گیا۔ گوشت بن گیا تو خان صاحب نے قصائی کو ذبح کرنے کے عوض اس کی کھال آفر کی تو اس نے لینے سے انکار کردیا۔ خان صاحب نے فوری طور پر اسے ذبح کرنے اور گوشت بنانے کا نقد معاوضہ دیا اور چلتا کیا جبکہ کھال مقامی مسجد کے مولوی کو بھجوادی مگر مولوی صاحب نے بھی اسے لینے سے انکار کردیا۔

خان صاحب کو ذرا حیرت ہوئی، انہوں نے وجہ پوچھی تو مولوی صاحب نے کہا کہ اس کھال کو چمڑہ منڈی لے جانے کا رکشے والے نے پانچ سو روپے مانگ لینا ہے جبکہ وہاں اس کھال کی قیمت ایک سو روپے بھی نہیں ملنی۔ چاروناچار خان صاحب کھال گھر واپس لے آئے۔ شام کو ایک مالشیا ان کے بھائی کی مالش کرنے آیا تو انہوں نے چپکے سے بھائی سے کہا کہ اس کو کھال اٹھوادو۔ اس نے خوب جم کر مالش کروائی اور اس کے عوض مالشیے کو کھال اٹھوادی۔ اگلی صبح خان صاحب کو ان کی اہلیہ نے سوتے میں جگایا اور کہا کہ کھال والا آیا ہے۔ خان صاحب نیند میں بولے کہ کھال تو کل مالشیے کو اٹھوادی تھی یہ اب کون کھال لینے آگیا۔ ان کی بیگم صاحبہ نے کہا کہ وہی مالشیا آیا ہے۔ خان صاحب ہڑبڑا کر اٹھے، دوازے پر گئے تو مالشیا کھال ہاتھ میں لیے کھڑا تھا۔ دیکھتے ہی کہنے لگا کہ کھال واپس لے لیں، مجھے سو روپیہ دے دیں! یہ ہے اس وقت ملک میں چیزوں کی بے قدری کا عالم کل جس کے دام چڑھے ہوتے تھے آج زمین سے جا لگے ہیں اور کل جن سبزیوں کو کوئی پوچھتا نہ تھا، آج مہنگے داموں بک رہی ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سول اور عسکری قیادت کے ایک پیج پر ہونے کے باوجود حاجی اصغر خان کی بھینس کی کھال نہیں بک رہی ہے اور لوگوں کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں جو کسی بھی ریاست کے لئے ٹھیک بات نہیں ہوتی ہے!!!

مزید : رائے /کالم