کسانوں کو ڈیزل، کھاد، بجلی اور زرعی ادویات پر سبسڈی دی جائے، شوکت علی چدھڑ

کسانوں کو ڈیزل، کھاد، بجلی اور زرعی ادویات پر سبسڈی دی جائے، شوکت علی چدھڑ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(فورم رپورٹ: دیبا مرزا)کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل چوہدری شوکت علی چدھٹرنے کہا ہے مو جو دہ حکو مت نے ابھی تک زرعی سیکٹر کے سا تھ سو تیلی ما ں جیساسلو ک روا کر رکھا ہے۔ملک کے 45% آبا دی ڈا ئریکٹ زرا عت کے ساتھ وا بستہ ہے ستم ظریفی یہ کہ ملک میں ابھی تک کو ئی seed act نا م کا قا نو ن نہیں ہے اور نہ ہی کو ئی سیڈ لیبا رٹری ہے جہا ں پر بیجو ں کی کو الٹی کو چیک کیا جا سکے۔مو جوہ مکئی اور چا ول کی فصل کی تبا ہی کی اصل وجہ بھی نا قص سیڈ ہے جو کہ مکمل طور پر ہمارے ملک میں با ہر سے امپورٹ کیا جا تا ہے۔کمپنیو ں اور ڈیلرز ما فیا کا را ج ہے اور کسان کی معاشی حالت سدھرنے کے بجا ئے خرا ب ہو تی جا رہی ہے موجودہ حکومت نے اپنے وعدوں کے بر عکس بجائے ریلیف دینے کے گزشتہ حکومت کی دی گئی زرعی مراعات بھی نہ صرف ختم کردی ہیں بلکہ تمام زرعی مداخل کی قیمتیں کسانوں کی پہنچ اور قوت خرید سے باہر کردی ہیں۔بجلی ڈیزل کھاد زرعی ادویات کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں ان خیا لا ت کا اظہا ر انہو ں نے گز شتہ روز روزنا مہ ”پا کستان“ سے فورم میں گفتگو کر تے ہو ئے کیا ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ ہمارا ملک زرعی اعتبا ر سے کا فی زرخیز ملک ہے لیکن دوسری جانب ہمیں اپنے زرا عت کے شعبہ میں بے شما ر مشکلا ت اورچیلنجز کا سا منا ہے۔انہوں نے کہالاہور بارڈر پٹی کے کاشتکاروں کا پانی تک بند کر دیا گیا ہے اور وہاں بجلی کئی کئی دن تک بند رہتی ہے جب وہاں کسان بورڈ کی مقامی قیادت کسانوں کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے اور سوئے ہوئے سرکاری ملازمین کی توجہ ان کے اصل کام کی طرف دلاتی ہے تو غنڈہ عناصر اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لیے غنڈہ گردی کرتے ہیں،کسانوں کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہم جو پورے ملک کے لیے خوراک کا بندوبست کرتے ہیں ہمیں جینے کا حق دیا جائے۔انہو ں نے کہا کہ جب سے یہ نئی حکو مت آئی ہے تب سے ما رکیٹ کمیٹیا ں بھی فعال نہیں ہیں آڑھتی بھی من مرضی کر تے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جیسے بھی حالات ہوں ملکی زراعت پہ توجہ دی جائے ڈیزل کھاد بجلی زرعی ادویات پر سبسیڈی دی جائے بجلی حسب وعدہ 4 روپے یونٹ کی جائے تمام زرعی مداخل پر ٹیکسوں کا مکمل خاتمہ، اہم زرعی اجناس گندم چاول کپاس مکئی اور آلو کی امدادی قیمتیں کسانوں کی مشاورت سے طے کرتے ہوئے کھادوں پر براہ راست سبسڈی دی جائے ٹوکن سسٹم ختم کیا جائے۔