توہین مذہب کے مرتکب پہلے شخص کو سائبر قوانین کے تحت پانچ سال قید کی سزا

توہین مذہب کے مرتکب پہلے شخص کو سائبر قوانین کے تحت پانچ سال قید کی سزا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(آن لائن)پاکستان میں نئے سائبر قوانین کے تحت پہلی سزا سنا دی گئی۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کی ایک عدالت نے ملک میں نافذ نئے سائبر قوانین کے تحت ایک شخص ساجد علی کو توہین مذہب کا مرتکب قرار دے کر پانچ سال قید کی سزا سنا دی۔ تفصیلات کے مطابق مجرم ساجد علی کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت تین سال سزا جبکہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 اے کے تحت دو سال کی سزا سنائی گئی۔ساجد علی پر الزام تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کی ایک مقدس ہستی کے خلاف فیس بک پر نازیبا کلمات لکھے تھے۔اس حوالے سے میڈیا کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ساجد علی کے خلاف پراسیکیوشن نے مقدمہ ثابت کیا ہے نہ صرف ان کے موبائل اور فیس بک کی تکنیکی رپورٹ حاصل کی ہے بلکہ زبانی گواہان نے بھی فیس بک پوسٹ کی تصدیق کی کہ انہوں نے نازیبا الفاظ استعمال کیے۔عدالتی فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ ساجد علی نے اپنے اوپر عائد الزمات کی تردید کی اور اپنے دفاع میں کہا کہ مقدمے کا مدعی ان کا کرایہ دار ہے اور ذاتی رنجش اور عناد کی وجہ سے اس نے یہ مقدمہ درج کروایا لیکن ساجد علی اپنے اس دعوے کو عدالت میں ثابت نہیں کر پائے۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں مزید لکھا کہ سائبر قوانین ملک اور معاشرے میں نئے ہیں اور ابھی لوگوں کو اس کا ادراک نہیں حکومت کو چاہئے کہ وہ ان نئے قوانین سے متعلق عوام کو ٹھیک طرح سے آگاہ کرے۔اس حوالے سے ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل اور مقدمے کے پراسیکیوٹر منعم بشیر چودھری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش سائنسی بنیادوں پر کی گئی اور مجرم کا تعلق کسی خاص فرقے یا گروہ سے نہیں۔ واضح رہے کہ ساجد علی پنجاب کے ضلع بہاولنگرکے علاقے چشتیاں کے رہائشی ہیں اور ان پر فروری 2017 میں مقامی تھانے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 اے کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی لیکن معاملے میں سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے یہ مقدمہ ایف آئی اے لاہور کے سائبر کرائم ونگ کو منتقل کر دیا گیا تھا۔
توہین مذہب/سزا

مزید :

صفحہ آخر -