رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15 روز کی توسیع فرد جرم عائد کرنے کی استدعا مسترد

رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 15 روز کی توسیع فرد جرم عائد کرنے کی استدعا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(نامہ نگار)انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے ڈیوٹی جج نے منشیات کیس میں رانا ثناءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 15روزکی توسیع کرتے ہوئے فردجرم عائد کرنے کے لئے اے این ایف کی استدعا مسترد کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ اور تفتیشی افسر کے موبائل فون ڈیٹا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیاہے۔دوران سماعت عمر گجرنامی وکیل کی جانب سے عدالتی کارروائی کی ریکارڈنگ پر عدالت نے سخت تنبہہ بھی کی۔انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج خالد بشیر نے کیس کی سماعت کی،اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ ملزم غیرضروری درخواستیں دے کرعدالتی وقت ضائع کر رہے ہیں،عدالت سے استدعاہے کہ ملزم پرفردجرم عائد کر کے ٹرائل شروع کیا جائے،فاضل جج نے کہا کہ عدالت کوآگاہ کیا جائے کیا ڈیوٹی جج ٹرائل کر سکتا ہے کہ نہیں؟اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ قانونی بحث ہے،اختیارات کو دیکھنا پڑے گا،رانا ثناءاللہ کے وکیل نے کہا کہ عدالت پر پورا اعتماد ہے،اگر ٹرائل شروع ہوتا ہے تو ہم تیار ہیں،رانا ثناءاللہ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ ایک کیس ہے اور ہمارا مطمئع نظر ہے کہ ایک کیس میں عموما ایک پراسکیوٹر ہوتا ہے، فرد مقبوضگی میں رانا ثناءاللہ کا موبائل فون قبضے میں لیا گیا، رانا ثناءاللہ نے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو بیان دیا تھا کہ ملزم کو گن پوائنٹ پر روای ٹول پلازہ سے تھانے لیجایا گیا، کیا اس کیس کی تحقیقات قانون کے مطابق کی گئیں، یہ اب عام ہو چکا ہے کہ ماڈرن ڈیوائسسز کے ذریعے تحقیقات کی جاتی ہیں، پراسکیوشن سی سی ٹی وی فوٹیجز اور سی ڈی آر کو تحقیقات کا حصہ بنایا جاتا ہے، رانا ثناءاللہ کے موبائل فون کال ڈیٹا ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا، متعلقہ موبائل نیٹ ورک کمپنی درخواست گزار رانا ثناءاللہ کے اپنے فون کا ریکارڈ ہی فراہم نہیں کر رہی، موبائل نیٹ ورک کمپنی کہہ رہی ہے کہ عدالتی حکم کے بعد رانا ثناءاللہ کا سی ڈی آر فراہم کیا جائے گا، متعلقہ حکام کو رانا ثناءاللہ کی راوی ٹول پلازہ سے اے این ایف تھانے کا ریکارڈ فراہمی کا حکم دیا جائے، ہمارا موقف یہی رہا ہے کہ تفتیشی افسر موقع پر موجود نہیں تھا، سنا ہے ایک آدھ فرد مقبوضگی بعد میں بنی ہے، تفتیشی افسر کے موبائل فون کال ڈیٹا ریکارڈ بھی فراہمی کا حکم دیا جائے، پراسیکیوٹر اے این ایف نے عدالت میں کہا کہ سی ڈی آر پر دیکھنا یہ کہ کیا ہم ٹرائل کی سطح پر پہنچ چکے ہیں؟ سی ڈی آر کمپنی کے پاس ایک سال تک محفوظ رہتا ہے،رانا ثناءاللہ کی سی ڈی آر کی فراہمی کی درخواست قبل از وقت ہے، ہمارا اوپن این شٹ کیس ہے، یہ ہمارے کیس کو مزید مضبوط کر رہے ہیں، پہلے سی سی ٹی وہ فوٹیجز پر واویلا کرتے رہے، اب سی ڈی آر کی تفصیلات مانگ رہے ہیں، ملزم کے وکیل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10 (اے )بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، دوران سماعت پراسیکیوشن نے وکلاءکے یونیفارم میں موجود شخص کی کارروائی کی ریکارڈنگ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ موبائل فون کمرہ عدالت میں آن کئے ہوئے ہیں، یہ موبائل فون پر کارروائی کی ریکارڈنگ کر رہے ہیں، ملزم کے وکلاءنے کہا کہ یہ وکیل ہمارے ساتھ نہیں ہیں، یہ لوگ پراسکیوشن کی طرف سے آئے ہیں، ویڈیو بنانے والے نے کہا کہ میرا نام عمر گجر ہے اور میں ایڈووکیٹ ہوں اورمیں رانا ثناءاللہ کے ساتھ ہوں، پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ یہ ریکارڈنگ کر کے ڈبنگ کر کے حقائق کو مسخ کرتے ہیں، ویڈیو بنانے والے وکیل سے فاضل جج نے پوچھا کہ کون ہیں آپ؟آپ عدالت میں ایسا نہ کریں ورنہ ہم آرڈر پاس کریں گے ، فریقین کے صرف 5 یا 6 وکلائ عدالت میں موجود ہوں گے، پراسکیوٹر نے کہا کہ میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے، آپ اس کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں،عدالت نے عدالت میں پیش ہونے والے تفتیشی افسر عزیز اللہ سے پوچھا آپ کے پاس اپنا نمبر ہے یا آفیشل؟ جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ یہ میرا ذاتی نمبر ہے اور اس کے علاوہ میرا کوئی نمبر نہیں ہے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز 30 دن تک سیف سٹی اتھارٹی محفوظ رکھتی ہے، ہمارا موقف ہے کہ کیسے 39 دن تک رانا ثناءاللہ کی گاڑی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز محفوظ رہیں، عدالت میں 16 کیمروں کا بتایا گیا اور صرف 3 کیمروں کا ریکارڈ پیش کیا گیا، باقی 13 کیمروں کا ریکارڈ کہاں گیا، باہر جا کر ملزم کیس کے متعلق بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتے ہیں اور کیچڑ اچھالتے ہیں، فاضل جج نے کہا کہ باہر والا کام باہر کریں، عدالت والا کام عدالت میں کریں، پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمیں بھی آئیں کے آرٹیکل 10 (اے )کے تحت فیئر ٹرائل کا حق دیاجائے، یہ تمام دلائل ٹرائل والے ہو رہے ہیں، فاضل جج نے کہا کہ آپ جتنے مرضی دلائل دے دیں میں نے اپنا قلم محدود رکھنا ہے۔فاضل جج نے مذکورہ بالا ریمارکس کے ساتھ ڈیوٹی جج کی حیثیت سے اے این ایف کی فردجرم عائد کرنے کی استدعا مسترد کردی،عدالت نے رانا ثناءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 15روزہ توسیع کرتے ہوئے مزیدسماعت 2نومبر تک ملتوی کردی۔ عدالتی سماعت کے بعدرانا ثناءاللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ابہام میں نہ رہے ،آزادی مارچ میں شرکت نوازشریف کا فیصلہ ہے،جس کی قیادت شہباز شریف کریں گے اور مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کی بڑی تعددآزادی مارچ میں شرکت کرے گی ۔

مزید :

صفحہ آخر -