جامعہ کراچی: بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد

  جامعہ کراچی: بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی(اسٹاف رپورٹر)چیئرپرسن شعبہ نفسیات جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر قدسیہ طارق نے کہا کہ بریسٹ کینسر سے متاثرہ مریض کے دکھ، درد اور تکلیف کو کم کرنے کے لئے ایک اچھے ماہرنفسیات کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ ایسے افراد ہمت ہارجاتے ہیں اوراس بیماری کا تذکرہ کرنا بھی آسان نہیں ہے، اسی لئے اچھے ماہر نفسیات سے رجوع کرنا ناگزیر ہوتاہے۔جامعہ کراچی کا شعبہ نفسیات لیاقت نیشنل اسپتال کے اشتراک سے بریسٹ کینسر کے مریضوں کی صحت کی بحالی کے لئے کونسلینگ سروس مہیاکرے گا جس کے دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کے زیر اہتمام، لیاقت نیشنل اسپتال کے اشتراک اورآئی ایف جی کے تعاون سے جامعہ کراچی میں بریسٹ کینسر کے حوالے سے منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔آغاخان اسپتال کی ڈاکٹر بتول فاطمہ نے برسیٹ کینسر سے متاثرہ افراد اور ان کے خاندان کے خوف اور نفسیاتی مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسے مریضوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے بجائے حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے تاکہ وہ بروقت اس مرض کی تشخیص کرواکر اس کے خاتمے کے لئے علاج کرانا شروع کردیں۔لیاقت نیشنل اسپتال کی ڈاکٹر روفینہ سومرو نے کہا کہ پڑھی لکھی اور غیر تعلیم یافتہ خواتین دونوں ہی اس مسئلے پر بات کرنے سے گریز کرتی ہیں اورعلاج کے رجحان میں کمی ایک بڑی وجہ بھی یہ ہی ہے۔اس مسئلے کو سنجید گی سے لینے کی ضرورت ہے اور لاپرواہی کا انجام بہت خطرنا ک ثابت ہوتاہے۔وہ خواتین جو بروقت تشخیص کو ترجیح دیتے ہوئے معالج سے رجوع کرلیتے ہیں وہ جلد صحتیاب بھی ہوجاتے ہیں اور جولوگ ڈر،خوف یا اپنی لاپرواہی کی وجہ سے اس مرض کی بروقت تشخیص کرانے سے قاصر رہتے ہیں انہیں اس کی بھاری قیمت اداکرنی پڑتی ہے۔