ملک کے طول و عرض میں بھوک بڑھ رہی ہے،میاں زاہد حسین 

ملک کے طول و عرض میں بھوک بڑھ رہی ہے،میاں زاہد حسین 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب ملک کے طول و عرض میں بھوک بڑھ رہی ہے اوراگر بھوک پر قابو پانے کے لئے فوری اقدامات نہ کئے گئے تواس کی بھاری سیاسی و اقتصادی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔کئی دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی فوڈ سیکورٹی کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دینے کے لئے قانون سازی کی جائے تاکہ آج کے صحت مند بچے کل معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے مگر اسکے باوجود فوڈ سیکورٹی کا سنگین مسئلہ موجود ہے کیونکہ اشیائے خورد و نوش کی کوئی کمی نہیں مگر انکی قیمت زیادہ ہے جسکی وجہ سے غریب غذائیت حاصل نہیں کر پاتے۔انھوں نے کہا کہ یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں سے نصف بھوک کا شکار ہیں۔مغربی ممالک میں جہاں بچوں کی بڑی تعداد موٹاپے کا شکار ہو رہی ہے وہیں ترقی پذیر ممالک میں انھیں مناسب خوراک میسر نہیں ہے جس سے انکی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔پاکستان ان 7 ممالک میں شامل ہے جہاں غذائیت کے مسائل کا شکار ہونیوالے بچوں کی اکثریت ہے۔یہاں بچوں کی اموات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ اور زچگی میں اموات کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھوک مٹانے کے لئے اقتصادی مواقع کی فراہمی،دولت کی مساوی تقسیم، زرعی اجناس کی قیمتوں میں کمی اور سرپلس پیداوار کو ضائع کرنے کے بجائے غریبوں تک پہنچانا ضروری ہے تاکہ ملک میں صحت عامہ کے مسائل حل کئے جا سکیں۔