صدر ٹرمپ نے ”کچھ لو، کچھ دو“ کی بنیاد کو ڈیل کی پیشکش کی، وائٹ ہاؤس کا اعتراف

  صدر ٹرمپ نے ”کچھ لو، کچھ دو“ کی بنیاد کو ڈیل کی پیشکش کی، وائٹ ہاؤس کا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرائن میں اپنے ہم منصب زیلنسی سے 25جولائی کو خفیہ ٹیلی فون کال کے سکینڈل نے اب ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے جس پر اس وقت کانگریس میں مواخذے کی چھان بین ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ ری پبلکن لیڈروں اور وائٹ ہاؤس کی طرف سے مسلسل انکار کے بعد بالآخر وائٹ ہاؤس کے قائمقام چیف آف سٹاف مک ملوانی نے ایک تازہ بیان میں یہ اعتراف کر کے اس خفیہ کال کا بھانڈا پھوڑ دیا کہ صدر ٹرمپ نے ”کچھ لو اور کچھ دو“ کی بنیاد پر یوکرائن میں اپنے ہم منصب کو ایک ڈیل کی پیشکش کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ ان کے مخالف ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر کو کرپشن میں ملوث کرنے میں مدد کریں گے تو وہ ان کی 391ملین ڈاٹر کی معطل اقتصادی امداد بحال کردیں گے۔ جوبیڈن کے بیٹے نے یوکرائن کی ایک گیس کمپنی میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مشیر مک ملوانی نے جمعرات کی شام صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بڑی خبر سنانے جارہے ہیں جس کے بعد یہ اعتراف کیا۔ تاہم رات گئے وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں مشیرملوانی کے اعتراف کی تردید کردی۔ مشیر ملوانی نے پریس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں ”کچھ لو اور کچھ دو“ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”خارجہ پالیسی میں ہم ایسا کرتے رہتے ہیں“  صدر ٹرمپ کی فون کال کو خفیہ طور پر سننے کے بعد دو اینٹلی جنس افسروں نے انسپکٹر جنرل کے پاس رپورٹ درج کرا دی تھی جس میں انہوں نے اس گفتگو کو غیر قانونی اور ریاستی مفاد کے خلاف قرار دیا تھا جس پر سپیکر نینسی پلوسی نے صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت کردی تھی۔
ٹیلی فون کال سکینڈل

مزید :

صفحہ اول -