چارسدہ، پبلک ہیلتھ انجینئر نگ میں ایکسین ٹھیکیداروں سے ہاتھ کرگیا

    چارسدہ، پبلک ہیلتھ انجینئر نگ میں ایکسین ٹھیکیداروں سے ہاتھ کرگیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چارسدہ(بیو رو رپورٹ) چارسدہ میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں ای بڈنگ کے باوجود محکمے کا ایکسین ٹھیکیداروں کے ساتھ ہاتھ کرگیاجس کی وجہ سے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا۔ محکمے کے موجودہ ایکسین نے من پسند ٹھیکیدار کو نوازنے کیلئے 35فیصد سے کم نرخ پر کام کرنے والے ٹھیکیدار کو نظر انداز کرکے ایک کروڑ روپے مالیت کا ٹھیکہ من پسند فرم کو 2.04کے ریٹ پر دیدیا۔ بولی میں حصہ لینے والے ٹھیکیدار حبیب اللہ نے اس معاملے پر چیف انجینئر پبلک ہیلتھ کو درخواست دیدی جس پر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ٹینڈر پر کام روک دیا گیا اور معاملے کی تحقیقات کیلئے انکوائری کے احکامات جاری ہوئے۔ محکمے نے سپرنٹنڈنٹ انجینئر کوہاٹ سرکل صادق خٹک کی نگرانی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی تاہم مخالف پارٹی کی جانب سے اعتراض کے بعد انکوائری افیسر کو تبدیل کرکے ایک مرتبہ پھرمن پسند شخص سپرنٹنڈنٹ انجینئر بنوں سرکل گل شاہد کو انکوائری افیسر مقرر کیاگیا۔درخواست گزار ٹھیکیدار ایم ایس حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ محکمہ پبلک ہیلتھ نے مختلف واٹر ٹینک اور دفاتر کی سالانہ مرمت کیلئےAnual maintance and Repaireکے تحت ایک کروڑ روپے کے ٹینڈرز جاری کئے ہیں جس میں 50لاکھ روپے تحصیل تنگی اور 50لاکھ روپے تحصیل شبقدر کیلئے مقرر کئے گئے تھے جس کے حصول کے لئے ای بڈنگ کے ذریعے مجموعی طور پر 32کنٹریکٹر نے مکمل دستاوزات جمع کر ادی،جس کے بعد ایکس سی این پبلک ہیلتھ ایمل خان،سپرٹنڈنٹ انجینئر امجد خان اور ہیڈ کلرک صدر عالم نے 32میں سے 28کنٹریکٹرز کے کاغذات کو مسترد کردئیے۔ چار ٹھیکیداروں کے کاغذات کو ٹینڈر کے حصول کیلئے منظور کر لیا گیا۔ ٹینڈر کیلئے منتخب ٹھیکیدارشبیر نے 50فی صداور ایم ایس حبیب اللہ نے 35فی صد سے کم ریٹ دیا تھاجبکہ ایم ایس امیر نوا س نامی ٹھیکیدار نے 2اعشارہ 04فیصد ریٹ دیا تھا۔حبیب اللہ نے الزام عائد کیاہے کہ ایکسین نے ہیڈ کلرک اور سپرٹنڈنٹ انجینئر کے ساتھ ملکر ایم ایس امیر نواس فرم کو ٹھیکہ دینے کے راہ ہموار کرتے ہوئے پہلے ٹھیکیدار شبیر کو متعلقہ لائسنس نہ رکھنے پر جبکہ ایم ایس حبیب اللہ کے کاغذات محکمہ لوکل گورنمنٹ سے بلیک لسٹ ہونے کا بہانہ بنا کر مسترد کر دیئے۔نظر انداز ہونے والے ٹھیکیدار کا کہناہے کہ خیبر پختونخوا ریوینو اتھارٹی (کے پی آر اے) رولز کے مطابق ان کا فرم پبلک ہیلتھ کے محکمہ میں بلک لسٹ نہیں ہوا ہے اور قانونی طور پر کسی بھی ٹینڈ رکے حصول کیلئے اپلائی کرکے کم سے کم ریٹ پر ٹینڈر وصول بھی کر سکتا ہے لیکن مذکورہ افسران نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے یہ ٹینڈ ر 50اور 35فی صدسے کم نرخ والے فرمز کو دینے کی بجائے 2.04 فیصد سے کم ریٹ والے فرم کو دیدیا ہے جس سے سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب متاثرہ ٹھیکیدار نے مطالبہ کیاہے کہ معاملے کی تحقیقات کے مقرر انکوائری آفیسر گل شاہد کو ہٹا کر کسی غیر جانبدار آفیسر سے انکوائری کرائی جائے۔