ڈاکٹروں نے زندہ پاکستانی بچی کو مردہ قرار دے کر کفن پہنا دیا

ڈاکٹروں نے زندہ پاکستانی بچی کو مردہ قرار دے کر کفن پہنا دیا
 ڈاکٹروں نے زندہ پاکستانی بچی کو مردہ قرار دے کر کفن پہنا دیا

  



نواب شاہ(ویب ڈیسک)  مدراینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر ہسپتال کے ڈاکٹروں نے غیر پیشہ ورانہ رویے کی انتہا کرتے ہوئے چار ماہ کی زندہ بچی کو نہ صرف مردہ قرار دے دیا بلکہ اسے کفن پہنا کر والدین کے بھی حوالے کردیا۔ قابل ڈاکٹروں نے صرف اسی پراکتفا نہیں کیا بلکہ بچی کا ڈیتھ سرٹیفکٹ بھی جاری کردیا۔

ہم نیوز کے مطابق چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے زیراہتمام چلنے والے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر اسپتال سے دلبرداشتہ ہونے والے والدین اپنی بچی کو علاج کے لیے اسپتال لائے تھے جہاں اسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کرلیا گیا تھا۔بچی کے والد نبی بخش بلوچ نے  بتایا کہ وہ سانگھڑ سے اپنی بیٹی کو علاج کے لیے نواب شاہ لائے تھے جہاں چار گھنٹے بعد ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ ان کی بیٹی انتقال کرگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے اس کے بعد نہ صرف بچی کوکفن پہنا کر ان کے حوالے کیا بلکہ ڈیتھ سرٹیفکٹ بھی جاری کردیا۔ہم نیوز کو انہوں نے بتایا کہ جب وہ اپنی بیٹی کو مردہ سمجھ کرکفن میں لپیٹے ہوئے گھر جانے لگے تو انہوں نے دیکھا کہ بچی کی سانسیں چل رہی ہیں۔

شیر خوار کو مردہ جان کر جب والدین سمیت دیگر عزیز و اقارب نے آہ و بکا شروع کی تو اچانک ان کی نگاہ سانس لیتی بچی پہ پڑی تو وہ رونا بھول کراشکبار آنکھوں کے ساتھ نہال ہوگئے۔ سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نبی بخش بلوچ نے کہا کہ ظلم کی حد ہے کہ میری زندہ بچی کو مردہ قرار دے دیا گیا اور سب کچھ ڈاکٹروں نے کیا۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کی قابلیت پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔مدر اینڈ چائلڈ کیئر ہسپتال کے ڈاکٹر نے ایک سوال کے جواب میں مؤقف اپنایا ہے کہ بچی کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا جہاں اسے آکسیجن لگانے کے بعد زندگی بچانے والی ادویات بھی دی تھیں۔

مزید : علاقائی /سندھ /سکھر