سانحہ کارساز کراچی کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا

سانحہ کارساز کراچی کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا
سانحہ کارساز کراچی کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا

  



دبئی (طاہر منیر طاہر) 18 اکتوبر 2007ءکو کراچی میں ہونے والے سانحہ کارساز کو 12 سال بیت گئے اس سانحہ کے متاثرین اور شہدا کی یاد آج بھ ی زندہ ہے اور جب تک دنیا رہے کی سانحہ کارساز کی یاد تازہ رہے گی اور پاکستان پیپلزپارٹی اندرون اور بیرون ملک یہ دن سیاہ دن کے طور پر مناتی رہے گی اور شہیدوں و متاثرین کو یاد کرتی رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی یو اے ای و گلف کے رہنماﺅں اور جیالوں نے پی پی پی عجمان کے زیر اہتمام ہونے والی ایک دعائیہ تقریب میں کیا جس میں چودھری ناصر، سید ندیم بخاری، شیخ ندیم، فرخ سید، میاں منیر ہانس، سردار جاوید یعقوب، ملک خادم شاہین، علی گوہر شاہانی، سید سجاد حسین شاہ، قیصر خان آفریدی، چودھری اخلاق، عرفان قمر گوندل، ناصر رشید بڑالوی، زاہدہ ملک، ذوالفقار مغل، سردار جاوید تبسم، راشد چغتائی، شفیق صدیقی، ملک خرم شہزاد، اسلم خاص خیلی، فرزانہ اعوان، عزت اسلم، سید ندیم بخاری اور دیگر پارٹی کارکنان نے شرکت کی۔

اس موقو پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب 18 اکتوبر 2007ءکو محترمہ بے نظیر بھٹو کی کراچی آمد پر ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی تب کارساز کے مقام پر ریلی میں ایک خوفناک دھماکہ ہوا جس میں سینکڑوں لوگ شہید ہوگئے جبکہ بے شمار زخمی ہوگئے۔ بے نظیر بھٹو کے اعزاز اور استقبال کے لئے اس ریلی میں پاکستان بھر سے جیالوں نے شرکت کی تھی۔ اس ریلی میں بے نظیر بھٹو خود بھی موجود تھیں۔ سانحہ کارساز ایک سیاہ دن کے طور پر ہر سال منایا جاتا ہے جس میں پی پی پی کے شہید جیالوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اس بار ہونے والی دعائیہ تقریب میں سانحہ کارساز کے شہداءکے لئے خصوصی دعا کی گئی۔

پی پی پی گلف مڈل ایسٹ کے انفارمیشن سیکرٹری ذوالفقار مغل نے کہا کہ اس دن پاکستان کے مظلوم عوام کو اپنی اور عالم اسلام کی لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو کے استقبال کرنے کی سزا دی گ ئی اور کراچی کی سڑکوں پر بے گناہ لوگوں کا سرعام قتل کیا گیا اس دن کو کبھی بھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ تقریب میں آصف علی زرداری کی علالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ آصف علی زرداری کو ان کی صحت کے پیش نظر فی الفور ہسپتال منتقل کیا جائے۔

مزید : عرب دنیا