وفاقی دارالحکومت کی فضا صحت کے لیے خطرناک ہوگئی:پاک ای پی اے کی رپورٹ

وفاقی دارالحکومت کی فضا صحت کے لیے خطرناک ہوگئی:پاک ای پی اے کی رپورٹ
وفاقی دارالحکومت کی فضا صحت کے لیے خطرناک ہوگئی:پاک ای پی اے کی رپورٹ

  



اسلام آباد(صباح نیوز)وفاقی دارالحکومت کی فضا ء صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہوگئی،فضا میں زہریلے ذرات کی مقدار62ug/m3سے تجاوزکر گئی جو کسی صورت 35ug/m3 سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے ،زہریلے ذراتPM2.5 کی مقدرمقررہ حدسے تجاوز سانس کی بیماریاں،پھپھڑوں کاکینسراور اورہارٹ اٹیک بھی ہوسکتاہے ،یہ زیریلے ذرات گاڑیوں اور فیکٹریوں میں فوصل فیول کے جلنے سے خارج ہوتے ہیں۔ماہرین صحت نے شہریوں بلخصوص سانس کے مریض کو گھروں سے نکلتے وقت ماسک استعمال کرنے کی ہدایت کردی۔ اس خبر رساں ادارے کودستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی فضا ء میں آلودہ زرات PM2.5کی مقدار مقررہ حد سے تجاوزکرگئی ہے مقررحد 35ug/m3ہے جبکہ پورے دن میں اوسط ان کی مقدار  53.4ug/m3تک پہنچ گئی ہے۔صبح آٹھ بجے تک آٹھ گھنٹوں میں ان کی مقدار 59ug/m3 تک پہنچ جاتی ہے اس کے ساتھ صبح آٹھ سے شام 4بجے تک ان کی مقدار 62ug/m3 تک اوسط رہی ہے جبکہ شام 4بجے سے رات 12بجے تک یہ مقداراوسط40.29ug/m3 رہی ۔

پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک ای پی اے) نے اسلام آباد کی فضاء کو صحت کے لیے غیرصحت مند قراردے دیا۔ماہرین صحت کا کہناہے کہ زہریلی زرات PM2.5کی مقداراگر 35ug/m3سے بڑھ جائے تویہ انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں اس سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوتاہے اور خاص کردمہ کے مریضوں کوسانس لینے میں دشوار ی ہوتی ہے آنکھ ناک اورگلے میں سوزش،پھیپھڑوں کاکینسر، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اورہارٹ اٹیک بھی ہوسکتاہے۔ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ شہری گھروں سے باہرنکلتے وقت ماسک لازمی استعمال کریں۔ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق آلودہ فضا خاص کر زہریلے زرات PM2.5 کی وجہ سے دنیامیں ہرسال 70لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیںجن میں سے 91فیصد کاتعلق ترقی پزید ممالک سے ہوتاہے ۔یہ ذرات سب سے زیادہ گاڑیوںاورفیکٹریوں سے خارج ہوتے ہیں ۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد