ریاست کے اندر ریاست نہیں بنائی جاسکتی،وزیر اعظم کی علما سے ملاقات کا دھرنے سے کوئی تعلق نہیں:فردوس عاشق اعوان

 ریاست کے اندر ریاست نہیں بنائی جاسکتی،وزیر اعظم کی علما سے ملاقات کا دھرنے ...
 ریاست کے اندر ریاست نہیں بنائی جاسکتی،وزیر اعظم کی علما سے ملاقات کا دھرنے سے کوئی تعلق نہیں:فردوس عاشق اعوان

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر  فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی علما سے ملاقات کا مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے کوئی تعلق نہیں ہے،دھرنے کی آڑ میں انتشار کی کوئی اجازت نہیں دے گا،اگر قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا گیا تو قانون کے مطابق ہی کارروائی بھی ہو گی،وزیراعظم نے مختلف وزارتوں سے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے تجاویز طلب کیں ہیں ۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ مذہب کی آڑ میں کسی کا استحصال نہیں کرنے دیا جائے گا، وزیر اعظم سےملاقات میں تمام علما موجود تھے، میڈیا میں ملاقات کے حوالے سے حقائق کے برعکس خبریں شائع ہوئیں،مولانا تقی عثمانی کشمیر کے بیانیے کے ساتھ ہیں۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حکومت احتجاج کا حق سلب نہیں کررہی، احتجاج سب کا آئینی حق ہے، کسان، ڈاکٹر اور صحافی بھی احتجاج کرتے ہیں مگر کیا آپ نے کبھی مسلح ملیشیا لٹھ بردار فورس بنائی ہے؟۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست کے اندر ریاست نہیں بنائی جاسکتی، جہاں جتھہ اور ہلڑ بازی ہورہی ہے وہیں صوبائی حکومتیں بھی اپنی تیاریاں کررہی ہیں، پاکستان کے عوام کو مسلح جتھے کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔دھرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایکشن ہونے تک ری ایکشن نہیں ہوسکتا ہے، ابھی تو وہ دیواروں کے اندر پریڈ کرکے ویڈیو اَپ لوڈ کررہے ہیں۔

گندم کے مسئلے کے حوالے سے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سندھ حکومت کی نالائقی کی وجہ سے گندم کا مسئلہ بنا، وزیر اعظم نے گندم کے مسئلہ کا فوری نوٹس لیا ہے، عوام کا درد ہے تو عوام کا درد روٹی سے جڑا ہے، سندھ حکومت نے گندم خریدی ہی نہیں اس وجہ سے یہ صورت حال پیدا ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا ہے اور اس میں کمی لانے کے لیے صوبائی حکومتوں کو اقدامات کرنے کا بھی کہا ہے،وزیراعظم نے آٹے کی قیمت میں کمی لانے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے چکن اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے،  وزیر اعظم نے اس کی قیمت کم کرنے کے لیے ڈیوٹی ٹیکس کی تفصیلات طلب کر رکھی ہیں۔ وزیراعظم نے مہنگائی کا سخت نوٹس لیا ہے، اُنہوں نے مختلف وزارتوں سے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے تجاویز طلب کی ہیں جبکہ  ای سی سی کو مؤثر اور جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے

مزید : قومی