آزادی مارچ کےنتائج کیا ہوں گے؟

آزادی مارچ کےنتائج کیا ہوں گے؟
آزادی مارچ کےنتائج کیا ہوں گے؟

  



مولانا فضل الرحمان جن کی سیاست اس پارلیمانی سیشن میں کہیں نظرنہیں آتی لیکن جلسہ گاہوں میں ضرور نظر آئی اوروہ حکومت کیخلاف بڑی اپوزیشن کرتے نظر آئے۔ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کیخلاف آزادی مارچ کا اعلان کیا تو اپوزیشن کی دیگر جماعتوں اور حکومت کی جانب سے اسے سیریس نہیں لیا گیا، مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کو شمولیت کی دعوت دی تو بڑی بڑی باتیں کرنے والے اپوزیشن رہنما ہچکچاہٹ کا شکار ہوگئے، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مولانا کا آزادی مارچ کس نوعیت کا ہوگا کیا وہ صرف احتجاج ہوگا یا پھر ایک طویل دھرنا ہوگا، تاہم مولانا نے ایک ایک کرکے یعنی پہلے پیپلزپارٹی اور پھر ن لیگ کو اپنے احتجاجی سفر میں شامل کرہی لیا، اب بڑی جماعتیں ایک جگہ جمع ہوچکی ہیں۔

حکومت نے اب جبکہ محسوس کیا کہ معاملہ کافی آگے بڑھ چکا ہے تو اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے لیکن اب مولانا نے حکومت کی جانب سے دی گئی پیشکش کو سیریس نہیں لیا اور وزیراعظم عمران خان کے استعفے پر بضد ہوچکے ہیں کہ استعفے کے بعد ہی بات چیت ہوسکتی ہے ورنہ دھرنا تو پلاننگ میں شامل ہی ہے، وزیراعظم بھی یقینا ایسے ہی کسی مطالبے پر استعفا دینے والے بھی نہیں، توایسے میں اپوزیشن کا حکومت کیخلاف کم ازکم مارچ تو ضرور ہوگا۔

اب سب کی نظریں 27 اور 31 اکتوبر کی طرف مرکوز ہیں، عوام بھی دو دھڑوں میں تقسیم ہوچکے ہیں، ایک وہ جو حکومت کیخلاف ہے اور اپوزیشن کو سپورٹ کررہے ہیں وہ چاہتے ہیں حکومت کا خاتمہ ہو، جبکہ دوسرا دھڑا جو حکومت کے حق میں ہے، ان میں تحریک انصاف کے سپورٹرز اور عوام بھی شامل ہیں جو دھرنا سیاست سے پہلے بھی بےزار تھے اور اب بھی بےزار نظر آتے ہیں، اب اگر اپوزیشن نے احتجاج کے بعد دھرنا دیا تو کیا وہ حکومت کو فارغ کرپائے گی یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب اپوزیشن کے الفاظوں میں تو ہے لیکن عملی طور پر ایسا نظر نہیں آرہا۔

دوسری جانب حکومت نے بھی بات چیت کےآغاز کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں کہ کسی طرح سے احتجاجی کیفیت ٹل جائے جو کہ ابھی ممکن نظر نہیں آرہا، یعنی حکومت بھی اس وقت تذبذب کا شکار ہے، 31 اکتوبر کے بعد کیا ہوگا حکومت چلی جائے گی نہیں جائے گی سیاسی منظرنامے پر کونسا نیا نقشہ ابھرے گا سب کو اس کا انتظار ہے، اپوزیشن یا پھر حکومت گھر جائے گی، دونوں کو اس کا جواب معلوم نہیں۔

اس صورتحال میں سعودی سفیر کی انٹری بھی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جو مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرچکے ہیں، لگ تو یہی رہاہے کہ معاملہ کسی حد تک اندر کھاتے حل ہوچکا ہے لیکن ابھی تک یہ سب قیاس آرائیاں ہی ہیں، اس ساری کہانی میں جہاں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اس چکر میں ہیں کہ مولانا اپنے لشکر کے ساتھ حکومت کو گھر بھیجیں تو وہ مال غنیمت پر ہاتھ صاف کریں گے، لیکن ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ مولانا سعودی عرب کے ذریعے کوئی ڈیل کرکے اپوزیشن کی ان دونوں جماعتوں کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے ان سے ہاتھ کرجائیں۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ، اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان پر بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ