افغانستان اور دیگر سنٹرل ایشیائی ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارت کی بہتری کیلئے کوششیں جاری،صنعتی زونز فعال ہونے سے صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیگا: وزیر اعلیٰ محمودخان

افغانستان اور دیگر سنٹرل ایشیائی ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارت کی بہتری کیلئے ...
افغانستان اور دیگر سنٹرل ایشیائی ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارت کی بہتری کیلئے کوششیں جاری،صنعتی زونز فعال ہونے سے صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیگا: وزیر اعلیٰ محمودخان

  



پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہاہے کہ صوبے میں معیشت کے استحکام کیلئے مربوط حکمت عملی وضع کی گئی ہے جبکہ صوبے بھر کے صنعتی زونز کے فعال ہونے سے نہ صرف صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا بلکہ عوام کو روزگار کے وسیع مواقع بھی میسر آئیں گے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دور چین سے بہت جلد صوبے میں مثبت معاشی تبدیلی آئے گی،صوبائی حکومت صوبے میں معیشت کو مزید بہتر کرنے کیلئے بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سرمایہ کاروں کو مدعو کیا جائے گا۔ حکومت صوبے میں کاروباری اشخاص اورسرمایہ کاری کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

 اراکین صوبائی اسمبلی سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایک ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے صوبے بھر میں ایک معاشی انقلاب آئے گا،لوگوں کو روزگار ملے گااور ترقی و خوشحالی کا دور شروع ہوگا۔انہوں نے کہاکہ سی پیک سے منسلک منصوبوں میں ہائیڈرو پاور پراجیکٹس، کمیونیکشن پراجیکٹس، سوشیو اکنامک منصوبے، زراعت، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ٹیوٹا، اکنامک زونز، ایریگیشن وغیرہ شامل ہیں جن کی تکمیل سے صوبے کی معیشت کو وسعت اور استحکام ملے گی،صوبہ خیبرپختونخوا میں عوا م اورسکیورٹی اداروں کے تعاون سے امن لوٹ آیا ہے، افغانستان اور دیگر سنٹرل ایشیائی ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارت کی بہتری کیلئے کوششیں جاری ہیں جس سے علاقائی تعاون، امن و امان اور دو طرفہ تجارت مزید بہتر ہو گی،صوبائی حکومت کی کوششوں سے گلگت سے شندور روڈ کو سی پیک کے متبادل استعمال کرنے کیلئے پہلی فرصت میں شندور سے چترال تک کے حصے کی تکمیل ممکن بنائی جائے گی،اس روٹ کی تکمیل سے شمالی علاقہ جات میں سیاحت اور تجارت کے شعبے میں بہتری آئے گی جبکہ مقامی افراد کو روزگار بھی میسر آئے گا۔

وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ چکدرہ سے فتح پور تک سوات ایکسپریس وے فیز ٹوبھی ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہے جس کی تکمیل سے عوام کو سفری سہولیات میں آسانی جبکہ سیاحت کے شعبے کیلئے بھی کارآمد ثابت ہو گا۔اْنہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت جنوبی اضلاع کی ترقی و خوشحالی پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔اسی تناظر میں پشاور سے ڈی آئی خان موٹر وے کی تعمیرممکن بنائی جائے گی، پشاور سے ڈی آئی خان موٹروے کی تکمیل سے جنوبی اضلاع میں بھی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا جبکہ مذکورہ موٹروے سے نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام بھی بھر پور استفادہ کر سکیں گے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بیرونی سرمایہ کاری صوبے کی ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، صوبائی حکومت صوبے بشمول نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں معاشی انقلاب برپا کرنے کیلئے تمام ممکن اقدامات اْٹھا رہی ہے۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور